| Divine Revelations Home | All Languages |
|
|
اپنے خُدا سے ملنے کو تیار ہوں
جنت و دوزخ کی بادشاہتیں اور مسیح کی آمدِ ثانی : انجلیکا زیمبرانو کی نظر سے
کوئی تئیس گھنٹوں تک انجلیکا نامی ایکواڈور کی ایک نوجوان لڑکی کو جنت و دوزخ کی بادشاہتیں اور مسیح کی آمدِ ثانی کا نظارہ دکھایا گیا۔ اُس نے دیکھا کہ خُدواند یسوع رو رہے ہیں جب وہ بھٹکی ہوئی رُوحوں کی ایک بڑی تعداد کو ہمیشہ کیلئے کھوئے ہوئے دیکھتے ہیں ، اوراُس دُنیا کوجس نے اُسے رد کردیا تھا ، اُس کلیسیا کو جو اُس کی آمد کیلئے بالکل تیار نہ تھی ، اُن لوگوں کو جنہوں کو کھوئے ہوؤں کو گواہی دینا بند کردی تھی اور تفریحی صنعت کو جو حتی کہ بچوں کو شیطان کیلئے ورغلاتی تھی ۔
وہ ہمارے بہت سے نام نہاد تہذیبی ناموں، گلوکاروں، شوبز کے لوگوں اور حتی کہ ایک پوپ کو گڑھے میں اذیت سہتے دیکھتی ہے ۔ انجلیکا کو دکھایا جاتا ہے کہ کِس طرح آسمان کی بادشاہی حیرت انگیز طور تیار ہے ، ایک ناقابل بیان جلالی مُقام، جہاں بدی کا کوئی وجود نہیں۔حالانکہ یسوع صرف مقدس لوگوں کیلئے دوبارہ آ رہے ہیں ، اور بہت سے خُدا کے لوگ اُس دن تیار نہ ہونگے اور اُس دُنیا میں رہ جائینگے جو ہلاک ہونے کو ہے۔
www.DivineRevelations.info/URDU
ویڈیو انٹرویو سے جو ہسپانوی میں تھا ، تلخیص شُدہ، بمقام: ال ایمپالمے، ایکواڈور، ستمبر 29، 2009 ۔
: میکسما ماں
میرا نام میکسما زیمبرانو مورا ہے اور ہم ال ایمپالمے کے ’’کاسا ڈی اوریشین ‘‘گرجا گھر جاتے ہیں۔ ہم پندرہ دنوں سے روزہ میں تھے اور خُدا سے مدد مانگ رہے تھے۔ میری بیٹی انجلیکا بھی ہمارے ساتھ مل گئی۔ روزہ کے اِن پندرہ دنوں میں، میں قُدرت سے بالاتر باتیں دیکھ پائی ، جو میں پہلے کبھی نہ کرپائی تھی۔ہم دھیان و گیان میں دُعا کررہے تھے اور روزہ میں تھے ، اور حتی کہ گھر میں بھی دُعا جاری رکھتے تھے اور خُدا کو پُکارتے تھے ، اِس انتظار میں کہ خُدا ہم سے کلام کرے گا۔
خُداوند نے ہمیں بہت حوصلہ دیا۔ ہماری آزمائشوں کے سبب، ہم اکثر ہتھیار ڈالنے کو تیار ہوتے تھے لیکن خُداوند ہماری مدد کیلئے تھا۔ اُس نے ہمیں یرمیاہ 3:33 دیا: ’’کہ مُجھے پُکاراور میں تُجھے جواب دُونگا اور بڑی بڑی اور گہری باتیں جنکو تُو نہیں جانتا تُجھ پر ظاہر کرونگا‘‘۔میری بیٹی مسلسل خُداوند سے اِس کا استفسار کرتی رہی ، حالانکہ میں اُس وقت اِس بات کو نہ جانتی تھی۔
انجلیکا: بیٹی
میرا نام انجلیکا الزبتھ زیمبرانو مورا ہے۔ میں اٹھارہ برس کی ہوں اور یہاں ال کینٹن، ال ایمپالمے میں ’’کولجیو جوز ماریا ویلازکو ایبارا‘‘میں پڑھتی ہوں۔ میں نے مسیح کو سب سے پہلے اُس وقت قبول کیا جب میں بارہ برس کی تھی، لیکن میں نے اپنے آپ کو بتایا، ’’میرا کوئی بھی دوست مذہبی نہ تھا اور میں اُن کے درمیان بہت عجیب محسوس کرتی تھی‘‘، پس میں خُدا سے دور چلی گئی اور بُری، ہولناک زندگی گُزاری۔ لیکن خُدا نے مُجھے اُس میں سے نکالا۔ میری پندرہویں سالگرہ پر، میرا خُداوند سے ملاپ ہوا، لیکن میں ابھی بھی دو دلا تھی۔ بائبل کہتی ہے (یعقوب 8:1 )، ’’وہ شخص دو دلا ہے اور اپنی سب باتوں میں بے قیام‘‘۔اور میں اُن کی مانند تھی۔ میری والد کہتے تھے ، ’’تُمہیں ایسا نہیں ہونا چاہئے، یہ عجیب لگتا ہے ، یہ غلط ہے‘‘۔ لیکن میں کہتی تھی ، ’’میں ایسی ہی ہوں، اور مُجھے کیسا ہونا چاہئے ، کسی کو مُجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ مُجھے کیسی ہونا چاہئے، نہ ہی کہ مُجھے کیا کرنا چاہئے، نہ ہی کہ مُجھے کیسا لباس پہننا چاہئے ، یا کیسا برتاؤ کرنا چاہئے‘‘۔ وہ کہتے، ’’خُدا تُمہیں دُ رست کرے گا۔ وہ تُمہیں تبدیل کردے گا‘‘۔
اپنی سترہویں سالگرہ کے دوران ، میں خُداوند کے نزدیک آ گئی۔ اٹھارہ اپریل کو
میں اُس کے پاس آئی اور کہا، ’’خُداوند ، میں بہت بُرا محسوس کرتی ہوں ، میں
جانتی ہوں کہ میں گناہگار ہوں ‘‘، اور
میں نے اُسے بتایا کہ میں کیسا محسوس کرتی ہوں ۔ ’’خُداوند مُجھے معاف کردو۔
میں چاہتی ہوں کہ آپ میرا نام کتابِ حیات میں لکھیں اور مُجھے اپنے فرزند کے
طور قبول کریں‘‘۔ میں نے توبہ کی اور اپنی زندگی خُداوند کوواپس دے دی۔ میں نے
کہا، ’’خُداوند ، میں چاہتی ہوں کہ آپ مُجھے تبدیل کردیں ، میرے اندر تبدیلی
لائیں‘‘۔ میں اپنے پورے دل سے چلائی، خُداوند کو پُکارتے ہوئے کہ مُجھے تبدیل
کردے۔ لیکن جیسے جیسے وقت گُزرتا گیا میں نے کوئی تبدیلی محسوس نہ کی۔ واحد فرق
یہ تھا کہ میں گرجا گھر جانے لگی ، بائبل پڑھنے لگی اور دُعا کرنے لگی۔ میری
زندگی میں یہی ایک تبدیلی تھی۔
پھر اگست میں مُجھے پندرہ یوم کے روزے کی دعوت دی گئی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں اِس میں شامل ہوں ، لیکن شامل ہونے سے قبل میں نے کہا، ’’خُداوند میں چاہتی ہوں کہ آپ یہاں اب مُجھ سے بات کریں ‘‘ ۔ روزے کے دوران خُداوند تقریباً سب سے مخاطب ہوتے تھے ماسوائے میرے۔ یوں لگتا تھا کہ خُداوند مُجھے دیکھ نہیں پاتے ہیں ،اور اِس سے مُجھے دُکھ پہنچتا تھا۔ میں دُعا رتے، خُداوند، کیا آپ مُجھ سے بات نہیں کریں گے؟‘‘۔ میں اکیلے روتی اور دُعا جاری رکھتی، ’’خُداوند، کیا آپ مُجھ سے مُحبت کرتے ہیں ؟ کیا آپ یہاں ہیں ؟ کیا آپ میرے ساتھ ہیں؟ آپ کیوں میرے ساتھ بات نہیں کرتے جیسے آپ سب سے کرتے ہیں ۔ آپ دوسرے لوگوں سے اتنی باتیں کرتے ہیں حتی کہ نبوت کا کلام کرتے ہیں لیکن میرے ساتھ نہیں‘‘۔ میں نے نشانی کے طور پر پُوچھا کہ کیا وہ میرے ساتھ ہیں اور خُداوند نے مُجھے یرمیاہ 3:33 دیا ، ’’ کہ مُجھے پُکاراور میں تُجھے جواب دُونگا اور بڑی بڑی اور گہری باتیں جنکو تُو نہیں جانتا تُجھ پر ظاہر کرونگا‘‘۔میں نے کہا، ’’خُداوند ، کیا آپ نے ابھی میرے ساتھ بات کی تھی ؟ کیونکہ میں نے اُن کی واضح آواز سُنی تھی اور یرمیاہ 3:33 میں مندرج کلام کی رویا دیکھی تھی۔
میں نے کہا، ’’خُداوند کیا یہ میرے لئے ہے؟‘‘ میں نے یہ اپنے تک محفوظ رکھا ، جبکہ ہر کوئی گواہی دے رہا تھا کہ خُداوند نے اُنہیں کیا دیا تھا اور اُنہوں نے کیا دیکھا تھا۔ لیکن میں نے اُسے راز رکھا اور صرف الفاظ پر دھیان کرتی رہی: ’’مُجھے پُکار‘‘ کا مطلب ہے دُعا کرو لیکن ’’بڑی بڑی اور گہری باتیں‘‘ کا کیا مطلب ہے۔ میں نے سوچا، ’’اِس کا مطلب صرف جنت اور دوزخ ہوسکتا ہے‘‘۔ پس میں نے کہا، ’’خُداوند میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ آپ مُجھے جنت دکھائیں ، لیکن دوزخ نہیں، کیونکہ میں نے سُنا ہے کہ وہ ہولناک مقام ہے ‘‘۔ لیکن پھر میں نے اپنے پورے دل سے دُعا کی ، ’’خُداوند اگر یہ آپ کی مرضی ہے کہ مُجھے دکھائیں ، جو آپ دکھانا چاہتے ہیں تو دکھائیں، لیکن پہلے مُجھے تبدیل کریں۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ مُجھ میں تبدیلی لائیں ؛ میں تبدیل ہونا چاہتی ہوں ‘‘۔ جب ہم نے روزہ ختم کیا ، تو آزمائشیں اور مُشکلات تھیں اور کبھی کبھار میں بے ہوش بھی ہو جاتی تھی ، اور خُداوند کے ساتھ چال چلن قائم نہ رکھ پاتی۔ لیکن اُس نے مُجھے قوت بخشی۔ میں نے اُس کی آواز سُننا شروع کردی اور اور اُسے اور بہتر طور جاننابھی۔ ہم اچھے دوست بن گئے۔ خُداوند ہمارا بہترین دوست ہے اور پاک روح۔ میں نے اُسے بتایا، ’’خُداوند ، آپ میرے سب سے اچھے دوست ہیں ۔ میں آپ کو اور اچھی طرح جاننا چاہتی ہوں‘‘، اور میں نے اپنے سب خیالات کی اُس کے ساتھ شراکت کی۔ میں نے سارا اگست دُعا کی اور پھر نومبر میں، خُداوند کا ایک خادم ہمارے گھر آیا اور اُس نے کہا، ’’خُداوند آپ کو برکت دے‘‘۔ میں نے کہا، ’’آمین‘‘۔ اُس نے پھر کہا، ’’میں یہاں تُمہیں خُدا کا پیغام دینے آیا ہوں ۔۔۔تُم اپنے آپ کو تیار کرلو، کیونکہ خُداوند آپ کو بڑی بڑی اور گہری باتیں دکھائے گا، جنکو تُم نہیں جانتی۔ وہ تُمہیں جنت اور دوزخ دکھائے گا کیونکہ تُم اُسے پُکارتی رہی ہو، یرمیاہ 3:33 سے‘‘۔میں نے کہا، ’’جی ہاں، آپ کیسے جانتے ہیں ؟ میں نے یہ کسی کو نہیں بتایا‘‘۔اُس نے جواب دیا، ’’اُسی خُدا نے جس کی تُم خدمت کرتی ہو اور پرستش کرتی ہو ، اُسی خُدا کی میں بھی تمجید کرتا ہوں، اور اُس نے مُجھے سب کُچھ بتایا ہے‘‘۔
جلد ہی ہم دُعا کرنے لگ گئے ۔ ہماری کلیسیا سے کُچھ بہنیں اور دیگر ہمارے خاندان کے لوگ بھی وہاں دُعا کیلئے تھے۔ لیکن جلد ہی جب ہم نے دُعا شروع کی ، میں نے آسمانوں کو کھُلتے دیکھا۔ پس میں نے کہا، ’’میں دیکھ رہی ہوں کہ آسمان کھُل رہے ہیں اور دو فرشتے نیچے آ رہے ہیں!‘‘۔ اُس آدمی نے کہا، ’’اُن سے پُوچھو کہ وہ کیوں یہاں آئے ہیں‘‘۔ وہ خُوبصُورت پروں کے ساتھ دراز قد اور خُوبصُورت تھے۔ وہ بڑے اور چمکدار اور سونے کی مانند شفاف اور چمکدار دکھائی دیتے تھے۔ وہ کرسٹل کی چپلیں پہنے ہوئے تھے اور اُن کے بدن پر مقدس پوشاکیں تھیں۔ ’’تُم یہاں کیوں آئے ہو؟‘‘ وہ مُسکرائے اور اُنہوں نے کہا، ’’ہم یہاں اِس لئے آئے ہیں کیونکہ ہمیں یہاں کُچھ کام ہے۔۔۔ہم یہاں آئے ہیں کیونکہ تمہیں جنت اور دوزخ کی سیر کرنا ہے اور ہم تب تک نہیں جائیں گے، جب تک یہ سب کُچھ ہو نہ جائے‘‘۔ میں نے جواب دیا،’’ بہت اچھا، لیکن میں صرف جنت کی سیر کرنا چاہتی ہوں اور دوزخ کی نہیں‘‘۔ وہ مسکرائے اور وہیں ٹھہرے رہے لیکن کُچھ اور نہ بولے۔ جب ہم نے دُعا ختم کی، تو میں پھر بھی اُنہیں وہاں دیکھ سکتی تھی۔میں نے پاک روح کو بھی دیکھنا شروع کردیا جو میرا خاص دوست ہے۔ وہ پاک ہے، وہ قادر ہے اور وہ ہر جگہ موجود ہے ۔میں اُسے دیکھ سکتی ہوں، ایک ہی وقت میں شفاف اور چمکدار، نورانی چہرے کے ساتھ، میں اُس کی مُسکراہٹ اور اُس کی پیار بھری ٹکٹکی دیکھ سکتی تھی۔ میں اُسے بمشکل بیان کرسکتی تھی کیونکہ وہ فرشتوں سے بھی زیادہ خُوبصُورت تھا۔فرشتوں کی اپنی خُوبصُورتی ہوتی ہے ، لیکن پاک روح اُن سے کہیں زیادہ خُوبصُورت تھا! میں اُس کی واضح آواز سُن سکتی تھی ، مُحبت بھری آواز، ایک شفیق آواز۔ میں محض اُس کی آواز کو بھی بیان نہیں کرسکتی، بجلی کی مانند آواز، تا ہم اُسے لمحے وہ فرماتا’’میں تُمہارے ساتھ ہوں‘‘، پس میں خُدا کے ساتھ اپنا چال چلن جاری رکھتا، حتی کہ آزمائشیں ہمارے اردگرد تھیں۔ ہم بہت مُشکل لمحات سے گُزر رہے تھے، لیکن اُسے لمحے فتح یاب بھی تھے۔ میں نے کہا ’’خُداوند، تیری مرضی پوری ہو‘‘۔ میں نے حتی کہ اپنے اسکول اور کلاسوں میں بھی فرشتوں کو دیکھنا جاری رکھا۔ میں بہت خُوش تھی، اتنی شادمانی سے بھرپورکیونکہ میں حقیقتاً اُنہیں دیکھ سکتی تھی!
خُداوند کے خادم نے ، جو ہمارے گھر آیا تھا مُجھے کہا کہ اپنے آپ کو تیار کرلوں
کیونکہ میں جنت و دوزخ دیکھنے جا رہی ہوں۔ لیکن اُس نے مُجھے کُچھ مُشکل بات
بھی بتائی۔ اُس نے کہا، ’’تُم مرنے والی ہو‘‘۔ یہ اتنا آسان نہ تھا جب میں نے
یہ سُنا۔ ’’میں کیونکر مرنے والی ہوں، جبکہ میں بہت کم عُمر ہوں‘‘، میں نے کہا۔
اُس نے جواب دیا، ’’کسی بات کی فکر نہ کرو، خُدا جو کُچھ بھی کرتا ہے، بہتر
کرتا ہے، اور وہ تُمہیں دوبارہ زندگی دے گا تا کہ تُم جنت و دوزخ کی گواہی دے
سکو، اور جو خُداوند چاہتا ہے کہ ہم سب جانیں‘‘۔ میں نے کہا، ’’آمین، لیکن کیا
میں کار کے نیچے آؤں گی، میں کیسے مروں گی؟‘‘خیالات میرے ذہن میں یلغار کرنے
لگے، لیکن خُداوند نے مُجھے بتایا کہ فکر نہ کروں، سب کُچھ بہتر ہوگا۔
میں
نے کہا، ’’شُکریہ ، خُداوند!‘‘۔
چھ نومبر کو، جب میں اسکول سے گھر آئی، فرشتے ابھی بھی میرے ساتھ تھے، حتی کہ خُداوند کی تمجید کے دوران بھی۔ وہ میرے ساتھ بات نہیں کرتے تھے؛ وہ ہر وقت صرف یہی کہتے، ’’قدوس، قدوس، قدوس، ہیلیلویاہ‘‘، ہمارے آسمانی باپ کو جلال، تمجید اور عزت دیتے ہوئے۔پاک روح بھی وہاں فرشتوں کے ساتھ تھا اور میں شادمان ہوتی۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ بائبل بوریت ہے لیکن یہ ایک بڑا جھوٹ ہے جو شیطان کی طرف سے ہے کہ لوگوں کو خُدا کی موجودگی ڈھونڈنے سے روک سکے۔ میں بھی اِس پر کبھی یقین رکھتی تھی ۔ لیکن جب میں خُداوند اور پاک روح سے ملی، میں جانتی ہوں کہ بائبل بوریت نہیں ہے ، یہ نہایت خُوبصُورت تجربہ ہے جو آپ اِس دُنیا میں حاصل کرسکتے ہیں۔ میں پاک روح کو دیکھ سکتی تھی، اُس کے ساتھ کھیل سکتی تھی اور حتی کہ اُس سے بات بھی کرسکتی تھی ۔ لیکن فرشتے میرے ساتھ بات نہ کرتے تھے ، لیکن وہ صرف خُداوند کی تمجید کرتے تھے۔ میں کہتی، ’’اے پاک روح میرے ساتھ آؤ، میں یہ کام کروں یا وہ کام کروں‘‘اور وہ میرے ساتھ ہوتا۔میں اُسے دیکھ سکتی تھی اور محسوس کرسکتی تھی۔
میں اُسے دیکھ سکتی تھی جب وہ خُدا کے قدموں میں سے اُٹھتا اور حتی کہ جب وہ اُس نشست تیار کرتا۔ حالانکہ بہت سے اُسے نہیں دیکھ سکتے تھے ، کہ وہ یہاں ہے۔وہ تعلق جاری رہا ، اُس کے ختم ہونے کا کوئی سبب نہ تھا، ایک بار جب آپ اُس کا تجربہ کرلیں ۔۔۔کوئی سبب نہ تھا کہ میں پیچھے ہٹتی۔ جب میں سوچتی کہ اُس نے مُجھے کہاں سے نکالا تھا، اور میں پہلے کیا تھی، میں اُس کے رحم کے لئے بہت شُکر گُزار تھی، اُس کی انسانوں اور میرے لئے ساری مُحبت کی۔
سات نومبر کو، جب میں گھر واپس آ رہی تھی ، میں نے ایک آواز سُنی، جس نے کہا، ’’تیار ہو جاؤ، کیونکہ تُم آج مر جاؤ گی‘‘۔ میں جانتی تھی کہ یہ پاک روح تھا کیونکہ میں اُسے دیکھ سکتی تھی۔ میں نے اُس کی آواز کو نظر انداز کردیا اور کہا، ’’خُداوند میں آج مرنا نہیں چاہتی!‘‘لیکن اُس نے دہرایا، ’’تیار ہو جاو، کیونکہ تُم آج مر جاؤ گی‘‘۔اِس بار اُس نے اور بارعب اور اُونچی آواز میں کہا۔ میں نے جواب دیا، ’’خُداوند ، میں جانتی ہوں کہ یہ آپ مُجھ سے بات کررہے ہیں ؛ میں صرف تصدیق چاہتی ہوں اور اِس کے بعد میرے ساتھ اپنی مرضی موافق کریں۔ میں وہی کروں گی جو آپ کہیں گے، میں سپردگی دوُں گی حالانکہ میں خوف ذدہ ہوں، لیکن میں جانتی ہوں کہ آپ میرے ساتھ ہیں اور آپ حقیقی ہیں‘‘۔میں نے دُعا کی ، ’’وہی آدمی جسے آپ نے پہلے استعمال کیا تھا، اِس پیغام کے ساتھ بھیجیں۔ اُسے اِسی لمحے میرے گھر ، میرے پہنچنے سے پہلے بھیجیں ، اور اُسے کہیں کہ مُجھے بتائے کہ آج میں مرنے والی ہوں‘‘۔ اب، کسی طرح خُداوند ہمارے ماضی ، حال اور مُستقبل کو جانتا ہے۔ وہ جانتا تھا کہ میں اُس سے کیا درخواست کروں گی۔ پس جب میں گھر پہنچی تو خُداوند کا خادم پہلے ہی وہاں موجود تھا۔
میکسیما
جب میری بیٹی گھر پہنچی، تو ہم کچن میں تھے۔ جب انجلیکا نے خُداوند کے خادم کو دیکھا، تو اُس نے کہا، ’’خُداوند کی برکت آپ پر ہو‘‘۔ خُدا کے خادم نے جواب دیا، ’’خُدا آپ کو برکت دے۔ کیا آپ تیار ہو؟ کیونکہ آج وہ دن ہے کہ خُداوند آپ کو چار بجے لے جائے گا‘‘۔ وہ حیران وہاں کھڑی رہی کہ خُداوند نے اُس کی درخواست سُن لی ہے ۔
انجلیکا
جب میں نے یہ سُنا تو میں نے کہا، ’’آمین۔۔۔۔۔لیکن میں مرنا نہیں چاہتی، میں نہیں مر سکتی! نہیں خُداوند، میں خوف ذدہ ہوں، بہت زیادہ خوف ذدہ، ڈری ہوئی!‘‘۔ خُداوند کے خادم نے کہا، ’’آئیں دُعا کریں کہ تُمہارا خوف ہمارے خداوند کے نام میں اب دُور ہو جائے‘‘۔ میں نے کہا’’آمین‘‘ اور ہم نے دُعا کی ۔جلد ہی میں نے محسوس کیا کہ سب خوف دور ہو گیا ہے اور ایک ناقابل بیان شادمانی آ گئی ہے ، یہ سوچتے ہوئے کہ موت سب سے اچھی بات ہے جو میرے ساتھ ہونے والی ہے ۔ میں نے ہنسنا اور مُسکرانا شروع کردیا جبکہ ہر کوئی میری طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ سب دیکھ سکتے تھے کہ میں مایوسی سے شادمانی کی طرف چلی گئی تھی۔ میں ہنس رہی تھی، اُچھل کود رہی تھی اور گا رہی تھی۔
میکسما
میرے بیٹی نے فوراً اپنے دل میں شادمانی محسوس اور کھانا شروع کردیا۔اُس نے سب کُچھ تھوڑا تھوڑا کھایا، یہ کہتے ہوئے کہ، ’’اگر میں واپس نہ آئی، تو میں نے کھا لیا اور میں سیر ہوں‘‘۔
انجلیکا
ہر کسی نے ہنسنا شروع کردیا اور پوچھا، ’’تُم اُداس ہونے کے بجائے ایسا کیوں کر رہی ہو، تُم خُوش ہو، تُم شادمان ہو؟‘‘میں نے اُنہیں کہا، ’’یقیناً، میں خُداوند کو دیکھنے جا رہی ہوں، میں اُس کے پاس جانے والی ہوں، لیکن میں نہیں جانتی کہ میں واپس آ ؤں گی ، اِس لئے میں اپنی سب چیزیں دینا چاہتی ہوں‘‘۔ وہ سب میری طرف حیرانگی سے دیکھنے لگے اور کہنے لگے، ’’تُم اپنی ساری چیزیں دے دو گی؟‘‘۔ میری ماں کی آنکھیں حیرت سے کھُلی ہوئی تھیں!
میکسما
میری بیٹی نے اپنی چیزیں دینا شروع کردیں، اُس نے اپنا سب کُچھ دے دیا، سب کُچھ!ہماری کلیسیائی بہنیں حسب معمول ساتھ تھیں، اور اُس نے کُچھ نہ کُچھ ہر ایک کو دیا۔ میں نے جب اِس کا سبب پوچھا تو اُس نے کہا، ’’اگر میں واپس آ گئی تو وہ مُجھے سب کُچھ واپس کرسکتے ہیں ، لیکن اگر میں نہ آئی تو وہ سب کُچھ رکھ سکتی ہیں‘‘۔
انجلیکا
میں اندازہ کرسکتی تھی کہ میری ماں کتنی اُداسی محسوس کررہی ہوگی جب میں نے یہ کہا تھا۔ لیکن میں اتنی خُوش محسوس کررہی تھی کہ میں نے اپنا سب کُچھ دینا شروع کردیا: میرے ملبوسات، میرا بستر، میرا موبائل فون، سب کُچھ، لیکن ایک شرط پر: اگر میں واپس آگئی، تو سب کُچھ مُجھے واپس کردیا جائے گا۔ اُن سب نے ہنسنا شروع کردیا۔
میکسما
وہ بہت پُرعزم تھی، لیکن ایک ماں کے طور پر میں بہت رنجیدہ تھی۔ یہ آسان نہ تھا۔ میں حیران تھی، ’’خُداوند جب وہ لمحہ آئے گا تو یہ سب کیسے ہوگا؟‘‘ میں سمجھ نہ پائی۔ جب اُنہوں نے دُعا شروع کی، تو میں گھر میں کام کررہی تھی۔اُنہوں نے کہا، ’’بہن ، آئیں دُعا کریں‘‘۔ لیکن میں نے جواب دیا، ’’آپ چلیں، میں جلد ہی آپ کے ساتھ شامل ہو جاؤں گی۔ مُجھے یہ تھوڑا سا کام ختم کرلینے دیں‘‘۔
انجلیکا
جب ہم دُعا کررہے تھے تو وہ سب مُجھ پر غور کر رہے تھے۔ میں نے دُعا کی، ’’خُداوند، میں تیری مرضی پوری کرنا چاہتی ہوں۔آپ انسان نہیں کہ جھوٹ بولیں یا توبہ کریں، میں جانتی ہوں کہ آپ حقیقی ہیں۔ اگر میں آپکی رضا پر پوری نہ اُتروں تو آپ مُجھے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں ، اور اگر میں آپکی مرضی پوری کروں تو مُجھے واپس لائیے گا ، لیکن میری سچ بولنے میں مدد کیجئے گا، مُجھے تیار کریں اور میری مدد کریں کہ میں مُنادی کرسکوں اور لوگوں کو توبہ کا بتا سکوں‘‘۔ یہ میری چھوٹی سی دُعا تھی۔میں نے یہ خُدا کے خادم سے کہا اور اُنہیں کہا ’’میری ماں کو مت بتائیے گا کہ میں نے خُداوند سے کیا کہا ہے‘‘۔ اُس نے کہا، ’’میں ابھی نہیں بتاؤں گا لیکن جب خُداوند آپ کو لے جائے گا، تو میں اُنہیں بتاؤں گا‘‘۔ ہم نے دُعا جاری رکھی اور ایک دُعائیہ دائرے میں آئے۔
میکسما
دوپہر ساڑے تین بجے خُداوند نے اپنے خادم کو کہا کہ میری بیٹی کو مسح کرے۔پس ہم میں سے کُچھ کمرے میں گئے اور میری بیٹی کو مسح کیا۔ اُس نے ہمیں دو منٹ دئیے کہ اُسے سر سے لیکر پاؤں تک مسح کریں۔ وہ مُکمل مسح کی گئی تھی۔
موت
انجلیکا
میری ماں اور ایک اور کلیسیائی بہن فاطمہ نوارٹے نے مُجھے تیل سے مسح کیا۔ لیکن جب وہ مُجھے مسح کررہے تھے تو مُجھے یوں محسوس ہوا کہ کُچھ مُجھے ڈھک رہا ہے ، جیسے شیشہ میرے گرد ہو۔ یہ ناقابل بیان ہے کہ مُجھے یوں محسوس ہوا کہ جیسے کوئی بکتر بند میرے گرد ہو، اور میں بیان نہیں کرسکتی کہ کیسے میں ڈھکی ہوئی تھی ۔ اِس کے بعد، جب اُنہوں نے مُجھے چھونے کی کوشش کی تو وہ ایسا نہ کر پائے۔
میکسما
جب ہم انجلیکا پر دُعا کررہے تھے، تو میں اُس پر ہاتھ رکھنے کی کوشش کررہی تھی لیکن میں اُسے چھو نہ پائی۔ اُس کے گرد ایک طرح کا خول تھا۔یہ عجیب تھا کوئی بھی اُسے چھُو نہ سکتا تھا۔ یہ خول اُس کے سر سے لیکر اُس کے پاؤں تک کوئی تیس سینٹی میٹر (بارہ انچ) کا تھا۔یہ ایک ایسی بات تھی جس نے مُجھے چونکا دیا۔ میں نے خُداوند کی خدمت میں پہلے بھی لوگوں پر ہاتھ رکھے تھے لیکن اِس طرح کا پہلے کبھی کوئی واقع نہ ہوا تھا۔ میں نے بے اختیار کہا’’اوہ، یقیناً کُچھ ہو رہا ہے ‘‘ اور میں نے دُعا اور خُداوند کا شُکر ادا کرنا شروع کردیا۔ اچانک، میں نے شادمانی محسوس کی۔ میرے دل سے اُداسی چلی گئی تھی ، درد چلی گئی تھی اور اب میں شادمانی اور خُوشی محسوس کررہی تھی۔ ہم نے دُعا جاری رکھی اور کوئی چار بجے میری بیٹی فرش پر گر پڑی۔
انجلیکا
دُعا کے دوران مُجھے سانس رُکتی محسوس ہوئی؛ میں سانس نہیں لے پا رہی تھی۔ میں نے اپنے پیٹ اور اپنے دل میں دردمحسوس کی۔ مُجھے یوں محسوس ہوا کہ میرا خُون بہہ رہا ہے اور میرے پورے بدن میں شدید درد ہے۔ میں صرف یہ کہہ سکتی تھی کہ ’’خُداوند، مُجھے قوت دے، مُجھے قوت دے‘‘ کیونکہ میں محسوس کررہی تھی کہ میں جانبر نہ ہوپاؤں گی۔ مُجھ میں قوت نہ تھی ، وہ مُجھ سے جا رہی تھی! میں نے جب آسمان کی طرف دیکھا، روحانی ماحول میں ، نہ کہ اپنی جسمانی آنکھوں سے، تو میں دیکھا کہ آسمان کھُل رہا ہے۔ میں نے فرشتے دیکھے، دو یا دس نہیں بلکہ وہ لاکھوں کی تعداد میں اکٹھے ہو رہے تھے۔ ۔ اُن لاکھوں فرشتوں کے درمیان، میں نے ایک روشنی دیکھی، سورج سے دس ہزار مرتبہ زیادہ چمکدار۔ اور میں نے کہا، ’’خُداوند یہ آپ ہیں جو آ رہے ہیں!‘‘
میکسما
جب
وہ گر پڑی تو ہم نے اُسے کھڑا کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ اپنے پیروں پر کھڑی نہ
ہونے پائی۔ اِس لمحے ہم اُسے چھُو سکتے تھے۔ وہ کہہ رہی تھی، ’’دُعا کریں مُجھ
میں قوت نہیں ہے، ماں، مُجھ میں قوت نہیں ہے اور میں تکلیف محسوس کررہی ہوں‘‘۔
پہلے اُسے دل میں درد محسوس ہوئی اور پھر وہ نیچے اُس کے پیٹ کے قریب پہنچ
گئی۔ہم خُداوند سے دُعا اور درخواستیں کرتے رہے۔ خُداوند نے اُس کی زندگی لے لی!
میں نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی بھی کسی کو مرتے نہیں دیکھا تھا۔ مُجھے اپنی بیٹی کو دیکھنا پڑی جو کرب میں تھی۔ یہ بالکل آسان نہ تھا۔ میں اُس کے آخری چند الفاظ نہ سمجھ پائی اور آخر کار وہ رُک گئی۔ میں نے اپنا ہاتھ اُس کے چہرے پر اور آئینہ اُس کے مُنہ پر رکھا، یہ دیکھنے کے لئے کہ آیا وہ سانس لے رہی ہے۔اُس میں کوئی دم نہ تھا۔وہ ساکن رہی۔میں نے اُسے تھاما، وہ حسب معمول گرم تھی۔میں نے ایک کپڑا لیا اور اُسے ڈھک دیا، اور جلد ہی اُس کا بدن ٹھنڈا بلکہ بہت ٹھنڈا ہونا شروع ہوگیا۔ اُس کے بال پیچھے کو چلے گئے جیسے کسی مُردہ شخص کے بال ہوں اور وہ برف کی مانند سرد ہوگئی۔
انجلیکا
یسوع نیچے آ رہے تھے اور میں نے محسوس کیا کہ میرا جسم مُردہ سا ہو رہا ہے۔ جب یسوع اور فرشتے نزدیک آ گئے تو میں نے محسوس کیا کہ میں رُخصت ہو رہی ہوں اور میں مزید برآں نہیں رہی تھی۔ میں مزید برآں زندہ نہ تھی، میں مر رہی تھی اور یہ بہت تکلیف دہ امر تھا۔ جب میرا بدن فرش پر گرا تو پہلے ہی یہاں تھے۔ میرا گھر فرشتوں سے بھرا ہُوا تھا اور فرشتوں کے درمیان میں نے روشنی دیکھی ، سورج سے بھی زیادہ تیز۔یہ بہت مُشکل تھا، میں نے سخت تکلیف محسوس کی، جیسے میری روح اور جان چھلنی ہو رہے ہوں۔
میں چیخ و پُکار کررہی تھی جب میں نے اپنا جسم فرش پر پڑا دیکھا۔ میں نے کہا، ’’خُداوند یہ کیا ہورہا ہے؟ یہ یہ کیا ہو رہا ہے؟‘‘۔ میں اپنے بدن کو چھُونا چاہ رہی تھی اور اُس میں دوبارہ جانا چاہ رہی تھی، لیکن جب میں نے کوشش کی، یہ ہوا کو پکڑنے کے مترادف تھا: میں اُس چھُو نہ پائی۔میرا ہاتھ سیدھا اُس میں سے گُزر گیا۔ اُن میں سے کوئی بھی جو وہاں دُعا کررہے تھے مُجھ سُن نہ پائے! اور میں چلائی، ’’خُداوند میری مدد کریں‘‘۔
میکسما:
جب ہم دُعا کررہے تھے تو میرے خاوند آ گئے اور اُنہوں نے اُسے وہاں اُس حالت میں دیکھا۔ خُداوند نے اُس لمحے مُجھے قوت بخشی کیونکہ میں نہ جانتی تھی کہ کیا کروں۔یہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ کومے میں ہو ، لیکن میں جانتی تھی کہ وہ ٹھیک ہے کیونکہ یہ خُداوند کا کام تھا۔ پس میں نے کہا، ’’خُداوند تیری مرضی پوری ہو‘‘۔
خُداوند یسوع مسیح
انجلیکا:
اِس لمحے میں نے خُداوند کی آواز سُنی، ایک خُوبصُورت آواز جو گرج اور پیار سے بھرپور تھی، ’’بیٹی، ڈرو مت، کیونکہ میں یہواہ، تُمہارا خُدا ہوں اور میں اِس لئے آیا ہوں کہ تُمہیں وہ دکھاؤں جس کا میں نے تُمہیں وعدہ کیا ہے ۔اُٹھو، کیونکہ میں یہواہ ہوں ، جو تُمہیں تُمہارا دہنا ہاتھ تھامے ہوئے کہتا ہوں ، ڈرو مت، میں تُمہاری مدد کرُونگا‘‘۔ اچانک، میں اُٹھ کھڑی ہوئی۔میں گھُٹنے ٹیکے ہوئی تھی، اپنے بدن کو دیکھتے ہوئے، یہ چاہتے ہوئے کہ واپس اُس میں جا سکوں لیکن جا نہ پا رہی تھی۔جب میں نے خُداوند کی آواز سُنی، تو خوف مُجھ میں سے چلا گیا اور میں ڈری ہوئی نہ تھی۔ جب میں نے چلنا شروع کیا، تو فرشتوں نے راستہ کھولنا شروع کردیا۔ ایک تیز روشنی چمک رہی تھی اور جب میں نے اُس جانب دیکھا تو مُجھے سلامتی محسوس ہوئی۔جب میں نے دیکھا تو میں نے ایک خُوبصُورت، دراز قد، صحت مند انسان دکھائی دیا۔روشنی اُس میں سے پھُوٹ رہی تھی۔ اُس تیز روشنی میں، میں اُس کا چہرہ نہ دیکھ پائی۔ لیکن میں اُس کے چکمدار سُنہرے بال دیکھ پائی اور سنہرے کمر بند والی سفید پوشاک جو اُس کے جسم پر تھی۔ اور اُس پر لکھا تھا، ’’بادشاہوں کا بادشاہ اور خُداوندوں کا خُداوند‘‘۔ میں نے اُس کے پیروں کی جانب دیکھا، وہ چمکدار سُنہری چپل پہنے تھا جو چمکدار سونے کی بنی ہوئی تھی۔ وہ بہت خُوبصُورت تھا!اُس نے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا۔ جب میں نے اُس کا ہاتھ تھاما، تو ویسے نہ ہوا جیسے جب میں نے اپنا بدن چھُوا تھا تو ہوا تھا، میرا ہاتھ اُس میں سے نہ گُزر پایا۔میں نے پوچھا، ’’یہ کیا ہورہا ہے؟‘‘۔اور اُنہوں نے بتایا، ’’میں تُمہیں دوزخ دکھانا چاہتا ہوں تا کہ جب تُم واپس جاؤ تو لوگوں کو بتا سکو کہ دوزخ حقیقی ہے؛ اور یہ کہ دوزخ وجود رکھتا ہے ۔اور میں تُمہیں اپنا جلال بھی دکھاؤں گا تا کہ تُم میرے لوگوں کو بتا سکو کہ تیار رہیں ، کیونکہ میرا جلال حقیقی ہے اور میں بھی حقیقی ہوں‘‘۔ اُس نے کہا، ’’بیٹی، ڈرو مت‘‘۔ اُنہوں نے یہ دوبارہ کہا اور میں نے کہا، ’’خُداوند ، بس یہ تھا کہ میں جنت میں جانا چاہتی ہوں اور دوزخ میں نہیں کیونکہ میں نے سُنا ہے کہ وہ بہت ہولناک ہے‘‘۔ اُنہوں نے کہا، ’’بیٹی ، میں تُمہارے ساتھ اُس جگہ پر ہُونگا ۔ میں تُمہیں اُس جگہ پر نہ چھوڑونگا اور میں تُمہیں وہ جگہ دکھانا چاہتا ہوں کیونکہ بہتیرے ایسے ہیں جو جانتے ہیں کہ دوزخ وجود رکھتی ہے لیکن وہ اُس کا کوئی خوف نہیں رکھتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی کھیل ہے، اور کہ دوزخ ایک مذاق ہے اور بہتیرے اِس کے بارے میں نہیں جانتے۔ اِسی لئے میں تمہیں وہ مُقام دکھانا چاہتا ہوں، کیونکہ وہ جو ہلاک ہوتے ہیں اُن سے زیادہ ہیں جو میرے جلال میں داخل ہو رہے ہیں ‘‘۔ جب وہ یہ کہہ رہے تھے تو میں نے دیکھا کہ اُن کے آنسو اُن کی پوشاک تک نیچے بہہ رہے تھے۔ میں اُن سے پوچھا ، ’’خُداوند آپ کیوں رو رہے ہیں؟‘‘اُنہوں نے جواب دیا، ’’بیٹی، کیونکہ ہلاک ہونے والے زیادہ ہیں اور میں تُمہیں یہ دکھاؤں گا تا کہ جب تُم جاؤ تو سچائی بتا سکو اور تا کہ تُم اُس مقام پر نہ جانے پاؤ‘‘۔
دوزخ
اچانک جب وہ بات کررہے تھے تو سب کُچھ ہلنا شروع ہو گیا۔ زمین پھٹی اور کھُل گئی، اور میں نے نیچے ایک اندھیرا سوراخ دیکھا۔ہم ایک قسم کی چٹان پر کھڑے تھے اور فرشتے ہمارے چوگرد تھے۔
میں
نے کہا، ’’خُداوند، میں اُس جگہ نہیں جانا چاہتی !‘‘اُنہوں نے کہا، ’’بیٹی، ڈرو
مت، کیونکہ میں تُمہارے ساتھ ہوں‘‘۔ ایک ساعت میں ہم اندھیرے سوراخ میں اُتر
گئے ۔ میں نے دیکھنے کی کوشش کی لیکن وہاں ہولناک اندھیرا تھا۔ میں نے ایک وسیع
دائرہ دیکھا اور لاکھوں آوازیں سُنیں۔ مُجھے بہت گرمی لگ رہی تھی اور مُجھے
اپنی جلد جلتی محسوس ہوئی۔ میں نے کہا، ’’خُداوند یہ کیا ہے، میں اِس جگہ نہیں
جانا چاہتی!‘‘۔خُداوند نے کہا کہ یہ دوزخ کو جانے کیلئے محض سُرنگ ہے۔ وہاں
ہولناک، غلیظ اور گندی بدبُو تھی اور میں نے یسوع سے التجا کی کہ مُجھے وہاں نہ
لیکر جائیں۔ اُنہوں نے جواب دیا، ’’بیٹی، تُمہارے لئے وہاں جانا ضروری ہے اور
میں اُس جگہ کو جانتا ہوں‘‘۔میں روئی، ’’لیکن کیوں ، خُداوند،
کیوں؟‘‘اور اُنہوں نے کہا، ’’تا کہ تُم لوگوں کو سچ بتا سکو؛ لوگ ہلاک ہوتے
ہیں، وہ گمراہ ہیں اور بہت کم میری بادشاہی میں داخل ہوتے ہیں ‘‘(متی 14:7 )۔
یہ کہتے ہوئے وہ رو پڑے۔ اُن کے الفاظ نے مُجھے مضبوطی اور حوصلہ دیا، پس میں
چلتی رہی۔ ہم سُرنگ کے آخر میں پہنچ گئے، جب میں نے نیچے دیکھا تو میں نے شعلوں
میں لپٹا ہوا ایک اتھاہ گڑھا دیکھا۔ خُداوند نے کہا، ’’بیٹی، میں تُمہیں یہ
دیتا ہوں‘‘۔ یہ خالی کاغذوں کا ایک بڑا دستہ تھا۔ ’’بیٹی، یہ پنسل لو تا کہ تُم
سب کُچھ لکھ سکو جو میں تُمہیں دکھاؤں گا، جو کُچھ تُم دیکھو گی اور سُنو
گی۔تُم سب کُچھ لکھو گی جب تُم دیکھو گی اور جب تُم اُس میں بسو گی‘‘۔ میں نے
کہا، ’’خُداوند، میں ایسا کروں گی لیکن میں پہلے ہی بہت کُچھ دیکھ رہی ہوں ۔
میں روحوں کو اذیت سہتے دیکھ رہی ہوں اور بہت سے شعلے دیکھ رہی ہوں‘‘۔
میکسما
وقت گُزرتا جا رہا تھا اور میری بیٹی وہاں ابھی بھی لیٹی ہوئی تھی ۔’’خُداوند کیا ہو رہا ہے؟‘‘ اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے لیکن جب میں اُنہیں صاف کرتی تو وہ دوبارہ بہہ نکلتے۔ میں نے اُس کے مُنہ کے سامنے آئینہ کیا یہ دیکھنے کے لئے کہ کیا وہ سانس لے رہی تھی ، لیکن وہاں کُچھ نہ تھا۔ ہم نے اُس کی نبض چیک کی، کُچھ نہیں تھا۔ ہم نے اُس کے معدے پر ہاتھ رکھا، کُچھ بھی نہیں تھا۔ خُداوند کے خادم نے کہا، ’’یہ جس مُقام پر ہے ، وہ مُسکراہٹوں کا مُقام نہیں بلکہ اذیت کا مُقام ہے‘‘۔
انجلیکا
میں
نے یسوع کو بتایا، ’’میں گواہی دُونگی کہ دوزخ حقیقی ہے اور کہ دوزخ وجود رکھتا
ہے، لیکن اب مُجھے یہاں سے باہر لے جائیں!‘‘اور اُنہوں نے جواب دیا، ’’بیٹی، ہم
ابھی اُس مُقام میں داخل ہی نہیں ہوئے ہیں اور میں نے ابھی تُمہیں کُچھ دکھایا
ہی نہیں، اور پہلے ہی تُم چاہتی ہوں کہ میں تُمہیں یہاں سے باہرلے
جاؤں؟‘‘۔’’خُداوند، مہربانی سے مُجھے یہاں سے باہر لے جائیں‘‘۔ میں نے کہا۔ پھر
ہم نے اتھاہ گڑھے میں اُترنا شروع کردیا! میں نے رونا اور چیخنا چلانا شروع
کردیا ، ’’خُداوند، نہیں، نہیں، نہیں، نہیں ، میں نہیں جانا چاہتی!‘‘ اور وہ
جواب دیتے، ’’تُمہیں یہ دیکھنا ہوگا‘‘۔ میں نے دونوں بڑے اور چھوٹے ، ہر قسم کے
ہولناک بھوت دیکھے۔ وہ اتنی تیزی سے دوڑ رہے تھے اور اپنے ہاتھوں میں کُچھ پکڑے
ہوئے تھے۔ ’’خُداوند، وہ ایسے کیوں دوڑ رہے ہیں اور وہ کیا پکڑے ہوئے ہیں؟‘‘
اُس نے جواب دیا، ’’بیٹی، وہ اُس طرف بھاگ رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اُن
کا وقت بہت کم ہے کیونکہ انسانوں اور خاصکر میرے لوگوں کی ہلاکت کیلئے اُن کے
پاس بہت کم وقت ہے۔اور وہ جو ہاتھوں میں پکڑے ہوئے ہیں وہ انسانوں کی ہلاکت
کیلئے نیزے ہیں کیونکہ ہر شیطان کو ایک نام دیا گیا ہے اور اُن کو دئیے جانے
والے نام کی مُناسبت سے اُنہیں ایک نیزہ بھی دیا گیا ہے تا کہ وہ اُسے ہلاک کرے
اور یہاں لے آئے، اُن کا مقصد اُس شخص کو ہلاک کرنا اور اُسے یہاں دوزخ میں
لیکر آنا ہے‘‘۔اور میں جنات کو دوڑتے اور زمین کی طرف جاتے دیکھ رہی تھی اور
اُس نے مُجھے بتایا۔’’وہ زمین پر جا رہے ہیں تا کہ انسانوں کو لائیں اور اُنہیں
اِس جگہ پر لا پھینکیں‘‘۔ جب وہ یہ کہہ رہے تھے تو رو رہے تھے ، وہ بہت رو رہے
تھے ۔ وہ ہر وقت رو رہے تھے اور میں بھی رو پڑتی تھی۔
میکسما
میری بیٹی 23گھنٹوں سے مُردہ تھی اور میں نے حُکام کو اطلاع نہیں دی تھی۔ میں نے دُعا کی، ’’خُداوند، میں چوبیس گھنٹوں تک انتظار کرُونگی ۔ اگر میری بیٹی چوبیس گھنٹوں میں واپس نہ آئی تو میں ڈاکٹر کو بُلاؤں گی‘‘۔ مگر خُداوند اُسے چوبیس گھنٹے پورے ہونے سے قبل واپس لے آئے۔
انجلیکا
خُداوند نے مُجھے کہا، ’’کیا تُم وہ دیکھنے کو تیار ہو جو میں تُمہیں دکھانا
چاہتا ہوں؟‘‘۔ ’’جی ہاں، خُداوند‘‘، میں نے کہا۔ وہ مُجھے ایک کوٹھڑی میں لیگئے
جہاں میں ایک نوجوان شخص کو شعلوں میں اذیت سہتے دیکھ سکتی تھی۔ میں نے غور کیا
کہ اُس کوٹھڑی پر کوئی عدد تھا ، تا ہم میں اُن اعداد کو نہ سمجھ سکی، وہ اُلٹے
تھے۔ اُس کوٹھڑی میں غلیظ بدبُو تھی اور اُس نوجوان کے ماتھے پر عدد 666تھا۔
اُس کے پاس ایک دھاتی پلیٹ تھی جو اُس کی جلد پر مڑھی ہوئی تھی۔
کیڑے
جو اُس کو کھا رہے تھے ، وہ اُس پلیٹ کو نُقصان کو پہنچا پا رہے تھے، نہ ہی
شعلے اُسے جلا پا رہے تھے۔وہ چلایا، ’’خُداوند، مُجھ پر رحم کریں۔ مُجھے اِس
جگہ سے نکالیں۔ خُداوند مُجھے مُعاف کریں‘‘۔ لیکن یسوع جواب دیتے، ’’اب دیر ہو
چُکی ہے، بہت دیر: میں نے تُمہیں مواقع دئیے اور تُم نے توبہ نہ کی‘‘۔میں نے
یسوع سے پُوچھا، ’’خُداوند یہ کیوں یہاں ہے ؟‘‘ پھر میں نے پہچان لیا۔ زمین پر
وہ نوجوان خُدا کے کلام کو جانتا تھا، لیکن اِس کے برعکس وہ خُداوند سے دُور
چلا گیا، شراب، منشیات کو ترجیح دیتے ہوئے اور غلط راستے کو اپناتے ہوئے۔
وہ خُداوند کے راستے پر چلنا نہیں چاہتا تھا ۔ یسوع نے اُسے کئی بار خبردار کیا کہ کیا اُس کے ساتھ ہوسکتا ہے ۔ یسوع نے کہا، ’’بیٹی ، وہ اِس جگہ پر اِس لئے ہے کیونکہ جو کوئی میری باتوں کو قبُول نہیں کرتا اُسکا ایک مُجرم ٹھہرانے والا ہے یعنی جو کلام میں نے کیا ہے آخری دن وہی اُسے مُجرم ٹھہرائیگا ‘‘ ۰یوحنا 48:12)۔اور پھر یسوع روئے۔
جب خُداوند روتے ہیں تو یہ ہمارے رونے سے مختلف ہوتا ہے ۔ وہ اپنے دل کے کرب سے
روتے ہیں اور وہ زاروقطار روتے ہیں۔ ’’میں نے انسانوں کے لئے دوزخ نہیں بنائی
تھی‘‘، یسوع نے کہا۔ پس میں نے پوچھا’’پھر انسان یہاں کیوں ہیں ، ائے
خُداوند؟‘‘ ۔ اُنہوں نے جواب دیا، ’’بیٹی، میں نے ابلیس اور اُس کے فرشتوں
کیلئے جو شیاطین کہلاتے ہیں دوزخ تخلیق کی تھی؛ (متی 41:25)، لیکن گناہ اور
توبہ کے فقدان کے سبب، انسان یہاں ہیں اور وہ جو ہلاک ہوتے ہیں اُن سے زیادہ
ہیں جو میرے جلال تک پہنچتے ہیں!‘‘۔ وہ روتے رہے اور مُجھے یہ دیکھ کر بہت دُکھ
ہورہا تھا کہ وہ کیسے رو رہے تھے۔ ’’بیٹی، میں نے اپنی جان انسانوں کیلئے دی،
تا کہ وہ ہلاک نہ ہوں تا کہ اُن کا انجام یہاں نہ ہوں۔ میں نے اپنی جان پیار
اور رحم کی خاطر دی تا کہ انسان توبہ جاری رکھیں اور آسمان کی بادشاہی میں داخل
ہو سکیں۔ یسوع غمگسار ہو رہے تھے جیسے کوئی وہ جو اپنا درد برداشت نہیں کرسکتا
ہوتا ہے۔ یسوع لوگوں کو وہاں دیکھ کر اتنا درد محسوس کررہے تھے۔ یسوع کے ساتھ
ہونا مُجھے تحفظ دے رہا تھا۔میں نے سوچا، ’’اگر خُداوند یہاں میرے ساتھ چھوڑ
دیں تو میں یہیں رہ جاؤں گی!‘‘ میں نے پوچھا، ’’یسوع، کیا یہاں میرے کوئی رشتہ
دار بھی ہیں‘‘۔ اُنہوں نے میری طرف دیکھا جبکہ میں رو رہی تھی اور کہا، ’’بیٹی
،
میں
تُمہارے ساتھ ہوں‘‘، کیونکہ میں بہت ڈری ہوئی تھی۔ وہ مُجھے ایک اور کوٹھڑی میں
لے گئے ۔ میں نے کبھی اندازہ نہیں کیا تھا کہ میں اُس کوٹھڑی میں اپنے کسی رشتہ
دار کو دیکھوں گی۔ میں نے اُس عورت کو اذیت میں دیکھا، اُس پر کیڑے تھے جو اُس
کا چہرہ کھا رہے تھے اور شیاطین ایک قسم کا بھالا اُس کے جسم میں مار رہے تھے۔
وہ چیخ رہی تھی، ’’نہیں خُداوند، مُجھ پر رحم کریں، مُجھے معاف کریں، مہربانی
سے مُجھے ایک منٹ کیلئے یہاں سے باہر نکال
دیں‘‘(لوقا 24:16)۔ دوزخ میں لوگ اُن یادوں سے اذیت پاتے ہیں جو کام اُنہوں نے
دُنیا میں کئے ہوں۔شیاطین لوگوں کا ٹھٹھہ اُڑاتے اور اُنہیں کہتے، ’’پرستش کرو
اور تمجید کرو کیونکہ یہی تُمہاری بادشاہی ہے !‘‘۔اور لوگ چیختے چلاتے ، یہ یاد
کرتے ہوئے کہ وہ خُدا کو جانتے تھے کیونکہ وہ کلام کو جانتے تھے۔ وہ جو خُداوند
کو جانتے تھے اُنہیں دہری اذیت ملے گی۔ خُداوند نے کہا، ’’اُن کے لئے کوئی موقع
نہیں [کہ جو یہاں ہیں] ؛ لین اُن کیلئے ابھی بھی موقع ہے جو ابھی زندہ
ہیں‘‘۔میں نے خُداوند سے پوچھا، ’’خُداوند میری پڑدادی یہاں کیوں ہے؟ میں نہیں
جانتی کہ وہ کبھی آپ کو جانتی تھی، وہ یہاں دوزخ میں کیوں ہے، خُداوند؟‘‘
اُنہوں نے جواب دیا ، ’’بیٹی وہ اس لئے یہاں ہے کیونکہ وہ مُعاف کرنے میں ناکام
رہی ۔۔۔بیٹی ، وہ جو مُعاف نہیں کرتا، اُنہیں میں بھی مُعاف نہیں کرُونگا ‘‘۔
میں نے پوچھا، ’’خُداوند، لیکن آپ مُعاف کرتے ہیں، اور آپ رحیم ہیں ‘‘۔اور
اُنہوں نے جواب دیا ، ’’ہاں بیٹی، لیکن یہ ضروری ہے کہ مُعاف کیا جائے، کیونکہ
اِنہوں نے کئی لوگوں کو مُعاف نہیں کیا اور اِسی لئے بہت سے لوگ اِس جگہ پر ہیں
کیونکہ وہ مُعاف نہیں کرتے تھے ۔۔۔۔جاؤ اور لوگوں کو بتاؤ کہ یہ مُعاف کرنے کا
وقت ہے اور خاصکر میرے لوگوں کو کیونکہ میرے بہت سے لوگ مُعاف نہیں کرتے۔
اُنہیں بتاؤ کہ اپنے آپ کو بُغض، بے دلی اور اپنے دلوں میں نفرت سے باز رہیں
کیونکہ یہ مُعافی کا وقت ہے ! اگر کسی ایسے شخص کو موت آتی ہے جو مُعاف نہیں
کرتا تو وہ شخص دوزخ میں جائے گا کیونکہ کوئی بھی زندگی نہیں خرید سکتا ‘‘۔ جب
ہم اُس جگہ سے روانہ ہوئے تو میری پڑدادی آگ سے لپٹی ہوئی تھی اور وہ چیخی،
’’آہ‘‘، اور وہ خُدا کے نام پر کُفر بکنے لگی، وہ اُس پر لعنت کرنے لگی ۔ دوزخ
میں ہر شخص خُدا کے خلاف کُفر بک رہا تھا ۔
جب ہم اُس جگہ سے نکلے، تو میں دیکھ سکتی تھی کہ دوزخ اذیت پانے والی روحوں سے بھری ہوئی تھی۔ بہت سے لوگ اپنے ہاتھ پھیلائے یسوع سے مدد مانگ رہے تھے کہ اُنہیں اُس جگی سے باہر نکالے۔ لیکن خُداوند اُن کے لئے کُچھ بھی نہیں کرسکتے تھے اور خُدا کے خلاف کُفر بولنا شروع کردیتے۔ پھر یسوع روتے اور کہتے، ’’مُجھے یہ سُن کر دکھ پہنچتا ہے اور مُجھے یہ دیکھ کر بھی دُکھ ہوتا کہ وہ کیا کرتے ہیں کیونکہ میں اب اِن کی کوئی مدد نہیں کرسکتا ۔ میں جو اب کہہ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ میرے پاس اُن کے لئے ابھی بھی موقع ہے جو ابھی بھی دُنیا میں ہیں جو ابھی مرے نہیں ہیں ،اُن کے پاس ابھی بھی توبہ کے لئے وقت ہے‘‘
خُداوند نے مُجھے بتایا کہ دوزخ میں بہت سے مشہور لوگ بھی تھے اور بہت سے ایسے
جو خُداوند کے بارے میں جانتے تھے ۔ اُنہوں نے کہا، ’’میں تُمہیں تنور کا دوسرا
حصہ دکھانے جا رہا ہوں‘‘۔ہم ایک ایسی جگہ پر آئے جہاں ایک عورت آگ میں لپٹی
ہوئی تھی۔ وہ بہت اذیت میں تھی اور چیخ رہی تھی اور خُداوند سے رحم کی طلبگار
تھی۔ یسوع نے اپنے ہاتھ کا اشارہ اُس کی طرف کیا اور مُجھے بتایا، ’’بیٹی، وہ
عورت جو تُم آگ میں لپٹی دیکھ رہی ہو، وہ سیلینا ہے‘‘۔ جب ہم نزدیک جانا شروع
ہوئے تو وہ چیخی، ’’خُداوند، مُجھ پر رحم کریں ، خُداوند مُجھے مُعاف کریں،
مُجھے اِس جگہ سے نکالیں !‘‘ لیکن خُداوند نے اُس کی طرف دیکھا اور کہا، ’’اب
بہت دیر ہو چُکی ہے۔ تُم اب توبہ نہیں کرسکتی‘‘۔ اُس نے مُجھے دیکھا اور
کہا،’’مہربانی سے، میں تُمہاری منت کرتی ہوں، جاؤ اور لوگوں کو اِس کے بارے میں
بتاؤ، مہربانی سے بتاؤ اور خاموش مت رہنا، جاؤ اور اُنہیں بتاؤ کہ اِس جگہ پر
مت آنا، جاؤ اور اُنہیں بتاؤ کہ میرے گیت مت سُنیں اور نہ
ہی
میرے گیت گائیں ‘‘۔ (پہلا یوحنا 15:2 )۔پس میں نے اُس سے پوچھا، ’’تُم ایسا
کیوں چاہتی ہو کہ میں جاؤں اور یہ کہوں؟‘‘۔اور اُس نے جواب دیا، ’’کیونکہ جب
بھی لوگ میرے گیت سُنتے یا گاتے ہیں تو مُجھے اور زیادہ اذیت پہنچتی ہے ، جو
شخص ایسا کرتا ہے جو گاتا ہے یا میرے گیتوں کو سُنتا ہے وہ اِس مقام کی طرف چلا
آ رہا ہے ۔ مہربانی سے ، جاؤ اور اُنہیں بتاؤ کہ اِس طرف مت آئیں۔جاؤ اُنہیں
بتاؤ کہ دوزخ حقیقی ہے!‘‘وہ چیختی اور شیاطین اُس کے جسم میں نیزے گھونپتے
اوروہ چلاتی، ’’خُداوند میری مدد کریں، خُداوند مُجھ پر رحم کریں!‘‘ لیکن
اُداسی سے ، خُداوند اُسے بتاتے ، ’’اب بہت دیر ہو چُکی ہے۔ میں نے اُس ساری
جگہ کو دیکھا، وہ گلوکاروں اور فنکاروں سے بھری ہوئی تھی جو مر چُکے تھے۔ وہ
صرف گاتے تھے اور گاتے تھے اور وہ گانا بند نہیں کرتے تھے ۔ خُداوند نے وضاحت
کی، ’’بیٹی، جو لوگ یہاں ہیں وہ وہی کُچھ کرتے رہیں گے جو وہ دُنیا میں کرتے
رہے ہیں ، اگر اُنہوں نے توبہ نہیں کی تو‘‘۔ جب میں اُس جگہ کا مشاہدہ کررہی
تھی تو میں نے بہت سے شیاطین کو دیکھا جو نیچے ایک قسم کی بارش برسا رہے تھے۔
میں اصل میں سمجھی کہ یہ بارش ہو رہی تھی ۔ لیکن میں نے غور کیا کہ آگ میں لوگ
اُس بارش سے دُور دوڑ رہے تھے اور چِلا رہے تھے ۔’’نہیں، خُداوند میری مدد کریں
، نہیں یہ نہیں ہو سکتا‘‘ اور شیاطین ہنستے اور لوگوں کو کہتے، ’’پرستش کرو اور
تمجید کرو ، کیونکہ یہی تُمہاری ابدالآباد بادشاہی ہے!‘‘۔ میں نے دیکھا کہ شعلے
بڑھ رہے تھے اور لوگوں کے کیڑوں میں بھی اضافہ ہو رہا تھا ! وہاں کوئی پانی نہ
تھا ۔ یہ گندھک تھی جو شعلوں میں اضافہ کررہی تھی اور ہر شخص کے غُصے میں
بھی۔میں نے یسوع سے پُوچھا، ’’یہ کیا ہو رہا ہے؟ ۔۔۔خُداوند یہ کیا ہے؟‘‘
خُداوند نے جواب دیا، یہ ہر کسی کی کمائی ہے جس نے توبہ نہیں کی‘‘۔ (زبور 6:11
)۔پھر خُداوند مُجھے ایسی جگہ لے گئے جہاں ایک بہت مشہور شخص تھا۔ اِس سے قبل،
میں ایک دو دلی نوجوان مسیحی لڑکی کے طور پر زندگی گُزارتی رہی تھی ۔ میں سمجھا
کرتی تھی کہ کوئی بھی شخص جو مرتا ہے وہ جنت میں جاتا ہے ، اور خاصکر وہ جو ماس
میں شامل ہوتے ہیں ، وہ بھی جنت میں جاتے ہونگے لیکن میں غلط تھی۔ جب پوپ جان
پال دوئم مرے تو میرے دوستوں اور عزیزوں نے بتایا کہ وہ جنت میں
گئے ہیں ۔ ٹی وی اور تمام دیگر مقامات پر خبریں یہی کہتی تھیں کہ ’’پوپ جان پال
دوئم وفات پا گئے، وہ آرام میں رہیں، وہ اب آسمان پر خُداوند اور اُن کے فرشتوں
کے ساتھ شادمانی میں ہیں‘‘۔
اور میں اُس سب پر یقین کررہی تھی۔لیکن میں محض اپنے آپ کو بیوقوف بنا رہی تھی
کیونکہ میں نے اُسے دوزخ میں دیکھا ، شعلوں سے اذیت پاتے ہوئے ۔ میں نے اُس کے
چہرے کی جانب دیکھا وہ جان پال دوئم تھا!خُداوند نے مُجھے کہا، ’’دیکھو، بیٹی،
یہ شخص جو تُم وہاں دیکھ رہی ہو، وہ جان پال دوئم ہے ۔ وہ یہاں اِس مقام پر ہے
کیونکہ اُس نے توبہ نہیں کی‘‘۔لیکن میں نے پوچھا، ’’خُداوند، وہ یہاں کیوں ہے؟
وہ تو کلیسیا میں مُنادی کرتا تھا‘‘۔ یسوع نے جواب دیا، ’’بیٹی، کوئی بھی زنا
کار، کوئی بھی بُت پرست، کوئی بھی لالچی اور کوئی بھی جھوٹا میری بادشاہی کا
وارث نہ ہوگا‘‘۔ (افسیوں 5:5 )۔ میں نے جواب دیا، ’’جی ہاں، میں جانتی ہوں یہ
سچ ہے، لیکن میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ وہ یہاں کیوں ہے، کیونکہ وہ تو لوگوں کے
گروہوں میں مُنادی کرتا تھا!‘‘اور یسوع نے جواب دیا، ’’جی ہاں بیٹی ، اُس نے
بہت سی باتیں کی ہونگی لیکن اُس نے کبھی بھی سچائی حقیقی طور بیان نہیں کی
ہوگی۔ اِس نے کبھی بھی سچائی نہیں بتائی اور وہ سچائی جانتے تھے ، اور حالانکہ
وہ سچائی جانتے تھے لیکن اِنہوں نے نجات کے بارے مُنادی کے بجائے دولت کو ترجیح
دی۔ وہ حقیقت بیان نہیں کرتے تھے؛ وہ یہ نہیں بتاتے تھے کہ دوزخ حقیقی ہے اور
جنت بھی وجود رکھتی ہے ؛ بیٹی اب وہ اِس جگہ پر ہے‘‘۔جب میں نے اُس آدمی کی طرف
دیکھا تو اُس کی گردن پر نوکدار اژدہا لپٹا ہوا تھا اور وہ اُسے اُتارنے کی
کوشش کررہا تھا ۔ میں نے یسوع سے درخواست کی، ’’خُداوند ، اُس کی مدد
کریں!‘‘۔آدمی چیخ رہا تھا، ’’خُداوند میری مدد کریں، مُجھ پر رحم کریں؛ مُجھے
اِس جگہ سے
نکالیں؛
مُجھے مُعاف کریں! میں توبہ کرتا ہوں ، خُداوند؛میں دُنیا میں واپس جانا چاہتا
ہوں، میں دُنیا میں توبہ کیلئے واپس جانا چاہتا ہوں‘‘۔ خُداوند نے اُسے دیکھا
اور کہا، ’’تُم بہت اچھی طرح جانتے تھے۔ تُم بہت اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ جگہ
حقیقی تھی۔۔۔اب بہت دیر ہو چُکی ہے ؛ اب تُمہارے لئے کوئی اور موقع نہیں ہے۔
خُداوند نے کہا، ’’دیکھو، بیٹی، میں تُمہیں اِس شخص کی زندگی دکھاتا ہوں‘‘۔
یسوع نے مُجھے ایک بڑی سکرین دکھائی ، جس پر میں نے دیکھا کہ کیسے وہ شخص بڑے بڑے ہجوم کے ساتھ کئی بار اقدس قُربانی چڑھاتا تھا ۔ اور کیسے وہاں پر موجود لوگ بُت پرستی کرتے تھے۔ یسوع نے کہا، ’’دیکھو بیٹی، اِس جگہ پر بہت سے بُت پرست ہیں ۔ بُت پرستی نہیں بچائے گی بیٹی۔ صرف میں ہوں جو نجات دُونگا اور میرے علاوہ کوئی نجات نہیں ۔ میں گناہگار سے پیار کرتا ہوں لیکن میں گناہ سے نفرت کرتا ہوں ،بیٹی۔جاؤ اور لوگوں کو بتاؤ کہ میں اُنہیں پیار کرتا ہوں اور اُنہیں میرے پاس آنے کی ضرورت ہے ‘‘۔ جب خُداوند بات کررہے تھے ، تو میں نے دیکھاکہ کیسے لوگ اُس شخص کو بہت سے سکے، نوٹ اور دولت دے رہے تھے اور جو ساری وہ رکھ لیتا تھا ۔اُس کے پاس بہت زیادہ دولت تھی۔ میں نے تخت پر بیٹھے اُس شخص کی تصاویر دیکھیں، لیکن اِس سے بھی بڑھکر میں دیکھ سکتی تھی ۔ جبکہ یہ حقیقت ہے کہ یہ لوگ شادیاں نہیں کرتے، میں آپ کو یقین دلاتی ہوں ، کہ میں یہ بنا نہیں رہی، خُداوند نے یہ مُجھے دکھایا، یہ لوگ راہبات کے ساتھ اور وہاں کئی دوسری عورتوں کے ساتھ ہم بستری کرتے تھے!خُداوند نے مُجھے اُن لوگوں کو زنا کاری کرتے دکھایااور کلام کہتا ہے کہ کوئی زنا کار اُس کی بادشاہی کا وارث نہ ہوگا۔ جب میں یہ سب کُچھ دیکھ رہی تھی تو خُداوند نے مُجھے بتایا، ’’دیکھو بیٹی، یہ سب کُچھ جو میں تُمہیں دکھا رہا ہوں ، یہی کُچھ ہوتا ہے ، جو کُچھ یہ کرتے ہیں اور جو بہت سے ایسے لوگوں کے درمیان ہوتا ہے ، بہت سے کاہنوں کے درمیان اور اُسقفِ اعظم کے درمیان‘‘۔ پھر اُس نے مُجھے بتایا، ’’بیٹی جاؤ اور لوگوں کو بتاؤ کہ یہ میری طرف آنے کا وقت ہے ‘‘۔
خُداوند نے مُجھے وہ جگہ دکھائی جہاں بہت سے لوگ دوزخ کو جا رہے تھے۔ میں نے خُداوند سے پوچھا، ’’خُداوند ، یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ سب لوگ اُس جگہ کی طرف چل کر جا رہے ہیں؟‘‘۔ اُس نے جواب دیا، ’’میں تُمہیں دکھاتا ہوں‘‘۔ اُس نے مُجھے ایک سُرنگ دکھائی جس میں سے بہت سے لوگ جا رہے تھے ۔ اِن لوگوں کے ہاتھ پاؤں زنجیروں سے بندھے تھے۔
اُن کی پوشاکیں سیاہ تھیں اور اُنہوں نے اپنی کمر پر کوئی وزن اُٹھا رکھا تھا۔ یسوع نے کہا، ’’دیکھو بیٹی، وہ لوگ جو تُم وہاں دیکھ رہے ہو، وہ لوگ ابھی مُجھے نہیں جانتے ۔ جو اُنہوں نے اپنی کمر پر لاد رکھا ہے یہ اُن کے گناہوں کا بوجھ ہے ، لیکن جاؤ اور اُنہیں بتاؤ کہ اپنا بوجھ مُجھ پر ڈال دیں اور میں اُنہیں آرام دُونگا، کہ میں وہ ہُوں جو اُن کے سب گناہوں کو مُعاف کرتا ہوں۔۔۔بیٹی جاؤ اور اُن لوگوں کو بتاؤ کہ میری طرف آئیں ؛ کیونکہ میں اُن کا کھُلے بازؤں سے انتظار کرتا ہوں اور جاؤ اُنہیں بتاؤ کہ وہ اُس جگہ کو جا رہے ہیں‘‘۔
جب میں اُن لوگوں کو جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی تو میں نے کہا، ’’خُداوند، وہ شخص
جو وہاں ہے وہ میرا کزن ہے، وہ نوجوان میرا کزن ہے، خُداوند، اور وہ نوجوان
لڑکی جو نیچے آ رہی ہے وہ بھی میری کزن ہے؛ میرا خاندان اِس جگہ پر آ رہا
ہے!‘‘۔ اُنہوں نے جواب دیا، ’’بیٹی ، وہ اِس جگہ پر آ رہے ہیں ، لیکن جاؤ اور
اُنہیں بتاؤ کہ وہ کہاں جا رہے ہیں، جاؤ اور اُنہیں بتاؤ کہ وہ دوزخ کو جا رہے
ہیں۔ جاؤ اور اُنہیں بتاؤ کہ میں نے تُمہیں اپنے نگران کے طورپر چُن لیا ہے
۔۔۔۔۔میں نے تُمہیں اپنے نگران کے طور پر چُن لیا ہے ، کیونکہ اِس کا مطلب ہے
کہ تُمہیں سچائی بتانا ہے۔ تُم جاؤ اوروہ سب بتاؤجو میں نے تُمہیں دکھایا
ہے۔اگر تُم نہ بولی اور اُس شخص کو کُچھ ہوگیا تو اُس کا خُون تُم پر ہوگا،
لیکن اگر تُم جاؤ اور جیسے میں نے تُمہیں بتایا ہے ویسا کرو تو پھروہ شخص مُجھے
جوابدہ ہے۔اگر وہ شخص توبہ نہیں کرتا تو تُم کو دی جانے والی ذمہ داری ختم ہو
جائے گی، کیونکہ یہ اُس کی ذمہ داری ہوگی اور اُس کا خُون تُم پر نہیں ہوگا۔
(حزقی ایل 18:3 )
‘‘۔یسوع نے مُجھے بتایا کہ بہت سے مشہور لوگ اُس جگہ کو جا رہے تھے، مشہور اور اہم لوگ۔ مثال کے طور پر مائیکل جیکسن۔یہ شخص پوری دُنیا میں مشہور تھا لیکن وہ شیطانی قوت تھا۔ حالانکہ بہت سے لوگ اُسے اِس طور نہیں دیکھ پائے۔ لیکن یہ حقیقت ہے۔یہ شخص شیطانی عہود رکھتا تھا: اُس نے ابلیس کے ساتھ یہ معاہدہ کیا تھا تا کہ شہرت حا صل کرسکے اور اپنے بہت سے مداح بنا سکے۔
وہ جس طرح ڈانس کرتے تھرکتا تھا یہ وہ انداز تھا جس سے میں نے شیاطین کو دوزخ میں لوگوں کو اذیت دیتے ہوئے چلتے دیکھا تھا ۔ وہ پیچھے کو تھرکتے اور آگے نہیں بڑھتے تھے جب کہ وہ چلاتی، اُس غضب سے لُطف اندوز ہوتے ہوئے جو لوگوں پر ڈھاتے تھے۔ مُجھے یہ بتانے دیں کہ مائیکل جیکسن دوزخ میں ہے۔ مائیکل کے مرنے کے بعد خُداوند نے مُجھے وہ دکھایا۔ اُس نے مُجھے مائیکل جیکسن کو شعلوں میں اذیت سہتے دکھایا۔ میں نے یسوع سے روتے ہوئے پوچھا، ’’کیوں؟‘‘یہ دیکھنا آسان نہ تھا کہ کیسے وہ شخص اذیت جھیل رہا تھا اور کیسے وہ چلاتا تھا۔ کوئی بھی جو مائیکل جیکسن کے گیت سُنتا اُنہیں گاتا یا جو مائیکل جیکسن کا مداح ہے میں تُمہیں خبردار کرتی ہوں کہ شیطان تُمہیں اپنے جال میں پھانس رہا ہیتا کہ تُمہارا نجام دوزخ ہو۔ ابھی اِس وقت، یسوع کے نام پر اعلان کرو۔ یسوع تُمہیں آزاد کرنا چاہتا ہے تا کہ تُم گمراہ نہ ہونا۔
خُداوند نے کہا، ’’بیٹی، یہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو مُجھے جانتے ہیں، اور جو اِس جگہ کو جاتے ہیں‘‘۔ میں نے کہا، ’’خُداوند ، یہ کیسے ممکن ہے کہ جو لوگ آپ کو جانتے بھی ہیں اور پھر بھی ادھر آ رہے ہیں؟‘‘ اُس نے جواب دیا، ’’وہ شخص جو میرے راستے سے ہٹ گئے ہیں اور وہ شخص جو دو دلا زندگی گُزارتے ہیں‘‘۔ اُس نے مُجھے وہ لوگ دکھانا شروع کردئیے جو دوزخ کو جا رہے تھے۔ اُن لوگوں کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے۔ اُن میں سے ہر ایک نے سفید پوشاک پہنی ہوئی تھی، لیکن وہ پھٹی ہوئی ، داغدار اور الُجھی ہوئی تھیں۔ یسوع نے کہا، ’’بیٹی، دیکھو، کیسے میرے لوگ مُجھ سے دُور چلے گئے ہیں۔ بیٹی، میں تُمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ میں اِن لوگوں کیلئے نہیں آنے والا۔ میں مقدس لوگوں کے لئے آنے والا ہوں جو تیار ہیں، بے عیب ہیں ، بے داغ ہیں اور پاک ہیں۔۔۔۔جاؤ اور اُنہیں بتاؤ کہ اپنی پُرانی روشوں پر لوٹ جائیں‘‘۔ (افسیوں 5:27-26 )۔ میں نے اپنے بہت سے انکل اور بہت سے دیگر لوگ دیکھے جو خُداوند کی راہ سے بھٹک گئے تھے۔
’’جاؤ اور اُنہیں بتاؤ کہ میں اُن کا انتظار کررہاہوں کہ مُجھ پر اپنا بوجھ لاد دیں اور میں اُنہیں آرام دُونگا‘‘۔ یسوع رو رہے تھے، ’’بیٹی وہ اِس طرف آ رہے ہیں۔ جاؤ اور اپنے انکل لوگوں کو بتاؤ؛ جاؤ اور اپنے عزیزوں کو بتاؤکہ وہ اِس طرف آ رہے ہیں! بیٹی ، بہتیرے تُمہارا یقین نہیں کریں گے ، لیکن میں تُمہارا سچا گواہ ہوں، میں تُمہارا سچا گواہ ہوں۔ میں تُمہیں تنہا نہیں چھوڑوں گا۔ بھلے وہ تُمہارا یقین نہ کریں، بیٹی، جاؤ اور اُنہیں سچ بتاؤ، کیونکہ میں تُمہارے ساتھ ہوں ۔ میں تُمہیں دکھاؤں گا، بیٹی، کہ کیسے لوگ اِس مقام پر پہنچتے ہیں‘‘۔
ہم ایک سُرنگ پر گئے جہاں بہت سے لوگ اتھاہ گڑھے میں گر رہے تھے۔ نہ ایک ہزار، نہ دو ہزار ، لیکن لاتعداد، سمندر کی ریت کی مانند بہت سے ۔ وہ سیکنڈوں میں گررہے تھے، جیسے مُٹھیاں بھر کر ریت گرائی جا رہی ہو۔ روحیں تیزی سے گر رہی تھیں۔یسوع رو رہے تھے، اُنہوں نے کہا، ’’بیٹی، اِس طرح انسان ہلاک ہو رہے ہیں، اِس طرح وہ گمراہ ہو رہے ہیں!۔۔۔ بیٹی، مُجھے انسانوں کی ہلاکت دیکھ کر دُکھ ہوتا ہے‘‘۔ یسوع نے کہا، ’’شیاطین اِس جگہ پر میٹنگیں بھی کرتے ہیں‘‘۔ اور میں نے کہا، ’’شیاطین میٹنگیں کرتے ہیں؟‘‘ یسوع نے کہا، ’’ہاں، بیٹی، وہ منصوبہ بندی کرنے کیلئے ملتے ہیں، منصوبہ بندی کہ وہ انسانوں کے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ وہ روزانہ خفیہ میٹنگیں کرتے ہیں‘‘۔ اور اِس کے ساتھ ہی یسوع مُجھے ایک کوٹھڑی میں لے گئے جہاں میں نے لکڑی کی میز اور اُس کے گرد کُرسیاں دیکھیں۔ اور وہاں شیاطین تھے۔۔۔ہر قسم کے شیاطین۔ یسوع نے وضاحت کی، ’’بیٹی، اب وہ منصوبہ بنا رہے ہیں کہ جا کر پاسٹروں کے خاندانوں، مشنریوں ، مبلغوں اوراُن سب لوگوں کو ہلاک کریں جو مُجھے جانتے ہیں۔ بیٹی وہ اُن کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں ، اُن کے پاس بہت سے نیزے ہیں‘‘۔
شیاطین
ہنستے، ٹھٹھا اُڑاتے اور کہتے، ’’آئیں انسانوں کو ہلاک کریں اور اُنہیں اِس
مُقام پر لائیں‘‘۔ یسوع نے کہا، ’’جاؤ اور اُنہیں بتاؤ کہ میں اُن کے ساتھ ہوں۔
اُنہیں بتاؤ کہ کوئی دروازہ کھُلا نہ رہنے دیں ، اور شیطان کو کوئی جگہ نہ دیں،
کیونکہ شیطان گرجتے شیر مانند پھرتا ہے، ڈھونڈتے ہوئے کہ کسے وہ کھا سکے۔ (پہلا
پطرس 8:5 )‘‘لیکن کلام کہتا ہے، ’’وہ ایسے چلتا ہے جیسے‘‘، کیونکہ واحد حقیقی
ببر، یہوداہ کا شیر ببر، ناصرت کا یسوع مسیح ہے (مُکاشفہ 5:5 )! یسوع نے کہا،
’’بیٹی، وہ خاص طور پر پاسٹر کے خاندان کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں‘‘۔ میں نے
پوچھا، ’’وہ پاسٹر کے خاندان کو کیوں ہلاک کرنا چاہتے ہیں؟‘‘۔اور یسوع نے جواب
دیا، ’’کیونکہ وہ ہزاروں لوگوں کے انچارج ہیں جو گلے کی بھیڑیں ہیں ؛ اُس گلے
کی بھیڑیں جو خُداوند نے اُنہیں دیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہ لوگ واپس دوبارہ
دُنیا میں لوٹ جائیں ؛ پیچھے کو دیکھیں اور دوزخ کو پہنچیں۔۔۔جاؤ اور پاسٹر کو
بتاؤ کہ سچ بولے۔ جاؤ اور اُنہیں بتاؤ کہ سچائی کی مُنادی کریں اور وہ سب کُچھ
بتائیں جو میں اُنہیں بتاتا ہوں اور وہ کبھی اپنے پاس نہ رکھیں جو میں اُنہیں
بتاتا ہوں!‘‘۔
جب ہم اُس جگہ سے نکلے تو یسوع نے مُجھے بتایا، ’’میں تُمہیں کُچھ اور دکھانا چاہتا ہوں۔۔۔۔اِس جگہ پر بچے بھی ہیں‘‘۔ اور میں نے جواب دیا، ’’خُداوند، اِس جگہ پر بچے؟اِس جگہ پر بچے کیوں ہیں؟ تیرا کلام کہتا ہے ۔’بچوں کو میرے پاس آنے دو، اُنہیں نہ روکو: کیونکہ آسمان کی بادشاہی ایسوں کی ہی ہے‘‘۔ (متی 14:19 )۔ یسوع نے جواب دیا، ’’بیٹی، یہ حقیقت ہے، آسمان کی بادشاہی ایسوں ہی کی ہے، لیکن اُن بچوں کو میرے پاس آنا ہے ، کیونکہ جو کوئی میرے پاس آئے گا، میں اُنہیں نکال باہر نہیں کروں گا‘‘۔(یوحنا 37:6)۔فوراً ہی خُداوند نے مُجھے آٹھ سالہ بچہ دکھایا جو آگ میں اذیت سہہ رہا تھا۔ لڑکا چلایا، ’’خُداوند مُجھ پر رحم کریں، مُجھے اِس جگہ سے نکالیں، میں یہاں نہیں رہنا چاہتا!‘‘۔اُس نے چیخنا چلانا جاری رکھا۔ میں نے اُس بچے کے گرد شیاطین دیکھے، جو کارٹونوں کی شکلوں کے تھے۔وہاں ڈریگن، بوائے زیڈ، بین ٹن، پوکومون، ڈورا وغیرہ تھے۔ ’’خُداوند یہ بچہ یہاں کیوں ہے؟‘‘ یسوع نے مُجھے اُس بچے کی زندگی کی ایک بڑی سکرین دکھائی۔ میں نے دیکھا کہ کیسے وہ اپنا سارا وقت ٹی وی کے سامنے گُزارتا تھا، اِن کارٹونوں کو دیکھتے ہوئے۔
یسوع نے کہا، ’’بیٹی، یہ کارٹون، وہ فلمیں، وہ صابن کی مشہوریاں جو روزانہ ٹی
وی پر دیھی جاتی ہیں ، انسانوں کو ہلاک کرنے کے لئے شیطانی آلات ہیں ۔۔۔دیکھو ،
بیٹی، یہ کیسے ممکن ہوتا ہے‘‘۔ میں نے دیکھا کہ کیسے وہ لڑکااپنے والدین کا
باغی اور نافرمان تھا۔ جب اُس کے والدین اُس سے بات کرتے تھے، تو وہ بھاگ جاتا،
چیزیں پھینکتے ہوئے اور اُن کی نافرمانی کرتے ہوئے۔ اِس بات کے بعد ، ایک کار
اُس پر چڑھ گئی اور اُس کی زندگی کا خاتمہ کردیا۔ یسوع نے
مُجھے
بتایا، ’’تب سے یہ اِس جگہ پر ہے‘‘۔
میں نے اُس لڑکے کی طرف دیکھا جب وہ اذیت سہہ رہا تھا۔ یسوع نے کہا، ’’بیٹی ، جاؤ اور والدین کو بتاؤ کہ اپنے بچوں کی یوں تربیت کریں جیسے میرے کلام میں لکھا ہے‘‘ ۔ (امثال 6:22 )۔ خُدا کا کلام حقیقی ہے، یہ بتاتا ہے کہ بچے کی چھڑی سے تربیت کریں ، لیکن ہر وقت نہیں ، صرف تب جب بچہ اپنے والدین کا نافرمان ہوں۔ (امثال 22:15)۔
خُداوند نے کُچھ ایسی بات بتائی جو بہت اُداس کُن اور بہت پُردرد ہے۔ اُس نے کہا، ’’بیٹی، اِس جگہ پر بہت سے بچے ہیں ، کارٹونوں کے سبب اور بغاوت کے سبب‘‘۔ میں نے اُس سے پوچھا، ’’خُداوند کارٹونوں کو اِس کا موردالزام کیوں ٹھہرایا جاتا ہے؟‘‘اور اُنہوں نے وضاحت کی، کیونکہ وہ جن بھوت ہوتے ہیں جو بچوں کیلئے بغاوت، نافرمانی، تلخی اور نفرت لئے ہوتے ہیں؛ اور دیگر جن بھوت اِن بچوں میں داخل ہوجاتے ہیں ، تا کہ وہ اچھے کام نہ کریں، بلکہ وہ کریں جو غلط ہے: جو کُچھ بچے ٹی وی پر دیکھتے ہیں وہ حقیقت میں کرنا چاہتے ہیں ‘‘۔دوزخ وجود رکھتا ہے، دوزخ حقیقی ہے اور حتی کہ بچوں کو بھی فیصلہ کرنا ہے۔کہ اُنہوں نے کس کے ساتھ رہنا ہے۔ میں نے پوچھا، ’’خُداوند، مُجھے بتائیں، اِس مُقام پر بچے کیوں ہیں ؟‘‘ اور یسوع نے جواب دیا، ’’ایک بار بچے جب جان جاتے ہیں کہ دوزخ اور جنت ہیں تب اُنہوں نے جگہ کو چُننا ہوتا ہے‘‘۔
آسمان کی بادشاہی
دوزخ کے بارے میں بتانے کو اور بھی بہت کُچھ ہے ، لیکن اب میں وہ بیان کروں گی
جو میں نے جنت میں دیکھا۔ یسوع نے کہا، ’’بیٹی، اب میں تُمہیں دکھاؤں گا کہ میں
نے اپنے مُقدس لوگوں کے لئے کیا تیار کررکھا ہے‘‘۔ ہم سُرنگ میں سے گُزرتے ہوئے
، اُس جگہ سے نکل آئے۔ اُس سُرنگ میں سے گُزرتے ہوئے ہم اچانک اُس جگہ پر آئے
جہاں روشنی تھی۔ میں نے کوئی اور اندھیرا، اذیت یا شعلے نہ دیکھے۔اُس نے کہا،
’’بیٹی، میں تُمہیں اپنا جلال دکھانے جا رہا ہوں‘‘،
اور
ہم نے آسمان کی بادشاہی کی طرف جانا شروع کردیا! جلد ہی ہم ایک ایسے دروازے پر
پہنچے جہاں جِلی حروف میں بڑے الفاظ کے ساتھ لکھا ہوا تھا: ’’آسمان کی بادشاہی
میں خُوش آمدید‘‘۔
یسوع نے کہا، ’’بیٹی، اندر جاؤ، کیونکہ دروازہ میں ہو، جو میرے وسیلہ سے داخل ہوتا ہے ، وہ اندر جائے گا اور چراگاہ پائے گا‘‘ (یوحنا 9:10 )۔
خُداوند کے یہ الفاظ کہنے کے بعد دروازہ کھُلا اور ہم اندر داخل ہو گئے۔ میں نے
فرشتوں کو ہمارے آسمانی باپ کو جلال، عزت اور تمجید کرتے دیکھا ! (مُکاشفہ
7:12-11 )۔ جب ہم چلتے گئے تو ہم ایک ایسی میز پر پہنچے جس کی ابتدا میں دیکھ
سکتی تھی لیکن اُس کا آخر نہ دیکھ سکتی تھی ۔ (مُکاشفہ 9:19 )۔ میں نے ایک بڑا
اور چھوٹا تخت دیکھا ، جن کے گرد ہزاروں کُرسیاں تھیں۔ اُن کُرسیوں کے درمیان
تاجوں کے ساتھ پوشاکیں تھیں۔ خُداوند نے مُجھے بتایا ، ’’بیٹی، تاج جو تُم وہاں
دیکھ رہی ہو ، وہ زندگی کا تاج ہے ‘‘۔ (مُکاشفہ 10:2 )۔ یسوع نے کہا، ’’دیکھو ،
بیٹی، یہ وہ
ہے جو میں نے اپنے مُقدس لوگوں کے لئے تیار کیا ہے‘‘۔ میں نے دیکھا کہ میز
سُنہری کناری والے سفید میز پوش سے ڈھکا ہُوا تھا۔ وہاں پلیٹیں، پھل اور سونے
کے پیالے اور سب کُچھ پیش کیا جا رہا تھا۔ یہ سب کُچھ بہت خُوبصُورت تھا۔ میز
کے وسط میں ایک بہت بڑا برتن تھا جس میں کھانے کے لئے مے تھی۔ اور یسوع نے کہا،
’’بیٹی، میری کلیسیا کی آمد کے لئے سب کُچھ تیار ہے‘‘۔ ہم ایک اور جگہ کو گئے،
جہاں میں نے باغ میں بہت سے لوگ دیکھے۔ وہاں بائبل کے جانے پہچانے لوگ تھے،
لیکن ، وہ عُمر رسیدہ نہ تھے بلکہ جوان تھے۔ وہاں ایک نوجوان تھا جس کے ہاتھ
میں ایک بڑا رُومال تھا اور جو گھومتے ہوئے رقص کررہا تھا خُداوند کی تمجید
کررہا تھا۔ یسوع نے کہا، ’’بیٹی، وہ نوجوان جو تُم وہاں دیکھ رہے ہو، میرا خادم
داؤدہے‘‘۔ وہ ہمارے باپ کو جلال دے رہا تھا ۔ اچانک ایک اور نوجوان پاس سے
گُزرا اور یسوع نے مُجھے بتایا، ’’بیٹی، وہ یشوع ہے؛ وہ مُوسیٰ ہے اور یہ دوسرا
نوجوان
ابراہام ہے‘‘۔ یسوع اُنہیں اُن کے ناموں سے پُکار رہا تھا۔ وہ سب ایک جیسی
مُشابہت رکھتے تھے۔ یسوع نے کہا، ’’بیٹی، وہ عورت جو تُم وہاں دیکھ رہی ہو میری
خادمہ ، مریم مگدلینی ہے اور وہ میری خادمہ سارہ ہے‘‘۔لیکن پھر اُس نے مُجھے
بتایا، ’’بیٹی، وہ مریم ہے۔ مریم جس نے یسوع مسیح کو جنم دیا جو میں ہوں۔ بیٹی،
میں تُمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ اُسے دُنیا پر ہونے والی باتوں کا کوئی علم نہیں
ہے۔ میں تُمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ تُم جاؤ اور لوگوں کو بتاؤ ، بتوں کی پُوجا
کرنے والوں کو بتاؤ کہ دوزخ حقیقی ہے، اور کہ بُت پرست میری بادشاہی کے وارث نہ
ہونگے، لیکن جاؤ اور اُنہیں بتاؤ کہ اگر وہ توبہ کریں تو وہ میرے آسمانی سکونت
کے مُقام میں داخل ہو سکتے ہیں۔ جاؤ اُنہیں بتاؤ کہ میں اُن سے پیار کرتا ہوں
اور اُنہیں بتاؤ کہ مریم [دُنیا میں ہونے والی] کسی بات کا علم نہیں رکھتی اور
واحد جو پرستش کے لائق ہے میں ہوں، کیونکہ نہ ہی مریم اور نہ مُقدس گریگوری اور
نہ ہی کوئی اور مُقدس نجات بخش سکتا ہے۔ صرف میں ہوں جو نجات بخشوں گا اور میرے
علاوہ، کوئی نہیں، کوئی نہیں ، کوئی نہیں جو نجات دے سکتا ہے!‘‘۔اُس نے یہ تین
بار دہرایا کہ کوئی بھی نجات نہیں دے سکتا ؛ صرف وہ نجات بخشتا ہے۔
انسان ایک فرضی مُقدس پر ایمان لانے سے دھوکہ کھا رہے ہیں جو کہ مُقدس نہیں بلکہ شیطان ہے جو کہ انسان کے بنائے ہوئے ایک بُت کے ذریعہ سے کام کررہا ہے ۔ لیکن مُجھے بتانے دیں کہ خُداوند آپ کو سب سے بہترین دینا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ آپ آسمان کی بادشاہی میں داخل ہوں ؛ توبہ کریں اور بُت پرستی چھوڑ دیں ۔ کیونکہ بُت پرستی آپ کو نجات نہیں بخشے گی۔ ناصرت کا یسوع مسیح ہی واحد ہے جو نجات بخشتا ہے ، جو اپنی زندگی آپ کی خاطر دیتا ہے، میرے لئے اور سب انسانیت کے لئے۔ خُداوند کا سب انسانوں کے لئے ایک بڑا پیغام ہے۔ جب وہ رو رہے تھے ، تو اُنہوں نے مُجھے بتایا، ’’پلیز، بیٹی، خاموش نہ رہنا؛ جاؤ اور سچائی بیان کرو، جاؤ اور بتاؤ جو کُچھ میں نے تُمہیں دکھایا ہے‘‘۔
میں نے دیکھا کہ کیسے مریم خُداوند کی پرستش کر رہی تھی، اور میں نے ایک عورت دیکھی جس کے بہت خُوبصورت لمبے بال تھے۔ میں نے کہا، ’’خُداوند، اُن کے بال کتنے خُوبصورت لگ رہے ہیں‘‘۔ اُس نے مُجھے بتایا، ’’بیٹی، یہ جو تُم دیکھ رہی ہو، یہ پردہ ہے جو میں نے عورت کو دیا ہے ‘‘۔ اُس نے بات جاری رکھی، ’’بیٹی، جاؤ اور عورتوں کو بتاؤ کہ اِس پردے کا خیال کریں جو میں نے اُنہیں دیا ہے‘‘۔
پھر اُس نے مُجھے بتایا’’میں تُمہیں کُچھ دکھانا چاہتا ہوں جو بہت ضروری ہے ‘‘۔ میں نے دُور دیکھا اور ایک چمکدار شہر دیکھا جو سونے کا شہر تھا! میں نے کہا، ’’خُداوند ، وہ کیا ہے؟ میں وہاں جانا چاہتی ہوں‘‘۔ اُس نے جواب دیا، ’’بیٹی، میں تُمہیں دکھاتا ہوں کہ وہاں کیا ہے۔جو تُم دیکھ رہے ہو، وہ آسمانی سکونت ہے، آسمانی کمرے جو میرے لوگوں کے لئے تیار ہیں‘‘۔ ہم نے چلنا شروع کردیا اور آخر ایک سنہرے پُل پر جا پہنچے۔ جب ہم اُس کے اوپر سے گُزرے، ہم ایسی شاہراؤں پر پہنچے جو خالص سونے کی بنی ہوئی تھیں! (مُکاشفہ 21:21 )
سب کُچھ اتنا خُوبصُورت ، اتنا روشن، چمکدار شیشے کی مانند تھا، یہ سب کُچھ
بالکل مافوق الفطرت اور ناقابل بیان تھا! ہم نے آسمانی گھر دیکھے اور ہزاروں
فرشتوں کو اُنہیں تعمیر کرتے دیکھا۔ کُچھ فرشتے بہت تیزی سے تعمیر کررہے تھے،
دیگر سست روی سے تعمیر کررہے تھے اور کُچھ بالکل تعمیر نہیں کررہے تھے۔ میں نے
خُداوند سے پُوچھا، ’’کیوں کُچھ فرشتے تیزی سے تعمیر کررہے ہیں، جبکہ کُچھ سست
روی سے تعمیر کررہے ہیں اور دیگر نے تعمیر بالکل
روک
دی ہے؟‘‘ خُداوند نے وضاحت کی، ’’بیٹی، زمین پر اِسی طرح میرے لوگ کام کرتے ہیں
اور فرشتے بھی ویسے ہی کام کرتے ہیں جیسے میرے لوگ دُنیا میں کام کرتے
ہیں۔۔۔بیٹی، میرے لوگ اب خُوشخبری کی مُنادی نہیں کرتے۔ میرے لوگ اب تیزی نہیں
کرتے۔ میرے لوگ اب سڑکوں پر نہیں جاتے اور سچائی بیان کرنے والے کتابچے نہیں
بانٹتے۔ میرے لوگ اب شرمندگی محسوس کرتے ہیں ۔جاؤ اور میرے لوگوں کو بتاؤ کہ
اپنی پُرانی روشوں کو لوٹ جائیں ۔ یہ فرشتے جو تُم نے دیکھے کہ کُچھ نہیں کررہے
، اُن لوگوں کے ہیں جو میرے راستے سے ہٹ گئے ہیں۔۔۔۔ بیٹی، جاؤ اور میرے لوگوں
سے کہو کہ اپنی پُرانی روش پر لوٹ جائیں‘‘ (یرمیاہ 16:6 ) اور یہ کہتے ہوئے ،
اُس نے رونا شروع کردیا۔
میں نے اور لوگوں کو گاتے سُنا، پس میں نے خُداوند سے کہا، ’’خُداوند، میں چاہتی ہوں کہ آپ مُجھے وہاں لیکر جائیں، جہاں وہ لوگ گا رہے ہیں‘‘۔ یسوع مُجھے دیکھ رہے تھے ، میں بتا سکتی ہوں کہ وہ کیسے مُجھے دیکھ رہے تھے ، لیکن میں اُس کا چہرہ نہیں دیکھ پا رہی تھی، صرف اُس کے چہرے کی حرکات دیکھ رہی تھی۔ جبکہ اُس کے آنسو، اُس کی پوشاک پر گررہے تھے، میں نے اُن سے پوچھا کہ وہ کیوں رو رہے تھے۔ لیکن اُنہوں نے مُجھے نہ بتایا۔
بعد میں ہم اُس خُوبصورت باغ میں پہنچے۔ وہاں آسمانی گھروں کے درمیان میں نے
پھول دیکھے جو چہچہا رہے تھے۔ یہ وہ گانا ہوگا جو میں نے سُنا تھا ۔خُداوند نے
اپنی اُنگلی سے اشارہ کیا اور کہا، ’’بیٹی، دیکھو، وہ میری تمجید کرتے ہیں ، وہ
میری پرستش کرتے ہیں ! میرے لوگ اب نہیں کرتے جیسا کہ پہلے وہ کیا کرتے تھے۔
میرے لوگ اب تمجید نہیں کرتے، اب میری پرستش نہیں کرتے؛ نہ ہی مُجھے ڈھونڈتے
ہیں جیسے کہ پہلے وہ کرتے تھے ۔ اِسی لئے میں نے تُمہیں بتایا ہے کہ، بیٹی، جاؤ
اور میرے لوگوں کو بتاؤ کہ مُجھے ڈھونڈیں، کیونکہ میں جاؤں گا، میں جاؤں گا،
میں جاؤں گا، اُن لوگوں کے لئے جو روح میں ڈھونڈتے ہیں اور سچائی میں، اُن
لوگوں کے لئے جو تیار ہیں ، اور مُقدس لوگوں کے لئے!‘‘۔اور روتے ہوئے اُس نے
کہا، ’’میں آ رہا ہوں، میں آ رہا ہوں!‘‘۔ پھر میں سمجھ گئی کہ وہ کیوں رو رہا
ہے ، کیونکہ وہ آ رہا ہے، دلگیر ہوتے ہوئے۔وہ آئے گا لیکن اُن کے لئے نہیں جو
آدھے ہیں ، صرف اُن کے لئے جو روح اور سچائی کے ساتھ اُسے ڈھونڈتے ہیں ۔ پھر
خُداوند نے مُجھے بتایا کہ مُجھے واپس دُنیا میں جانا ہے۔ میں نے کہا،
’’خُداوند، میں دُنیا میں واپس نہیں جانا چاہتی! آپ کا کیا مطلب ہے ۔۔دُنیا
میں؟ میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں ۔ آپ مُجھے یہاں لائے اور اب میں کہیں نہیں
جانا چاہتی کیونکہ میں آپ کے پاس ہوں!‘‘ یسوع نے کہا، ’’بیٹی، یہ ضروری ہے کہ
تُم دُنیا میں جاؤ اور گواہی دو کہ میرا جلال حقیقی ہے ، کہ میں جو تُمہیں
دکھانا چاہتا ہوں وہ حقیقی ہے ، کہ جو کُچھ میں نے تُمہیں دکھایا ہے وہ حقیقی
ہے تا کہ انسان مُجھ تک آ سکیں، توبہ کریں اور ہلاک نہ ہوں‘‘۔ روتے ہوئے، میں
اُس کے قدموں پر گر پڑی، اور وہاں میں نے اُس کے قدموں پر زخم دیکھے۔ میں نے
پوچھا، ’’خُداوند، یہ زخم یہاں کیوں ہیں؟‘‘ ۔ اُس نے جواب دیا، ’’بیٹی، یہ کل
کے وہ نشان ہیں جب میں نے اپنی
جان
انسانوں کے لئے دی‘‘۔
اُس نے مُجھے اپنے ہاتھوں کے نشان بھی دکھائے، میں نے پوچھا، ’’خُداوند، آپ کے یہ نشان ابھی بھی کیوں ہیں؟‘‘اُس نے مُجھے بتایا، ’’بیٹی، یہ وہ نشان ہیں جو رہ گئے ہیں‘‘۔ پس، میں نے پوچھا، ’’کیا یہ ختم ہو جائیں گے؟‘‘ اُس نے جواب دیا، ’’بیٹی ، یہ ختم ہو جائیں گے جب سب مُقدسین یہاں اکٹھے ہو جائیں گے۔۔۔۔بیٹی، مُجھے تُمکو دُنیا میں لے جانا ہوگا‘‘:میں نے انکار کرنے کی کوشش کی لیکن اُنہوں نے اپنی اُنگلی سے زمین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’دیکھو، وہ لوگ جو نیچے تُم دیکھ رہی ہوں ، وہاں تُمہارے رشتہ دار ہیں ؛ وہ بدن جو وہاں تُم دیکھ رہی ہو، وہاں اُس میں تُمہیں لوٹنا ہے ۔۔۔ اب وقت ہُوا چاہتا ہے کہ تُم اِس جگہ سے چلی جاؤ‘‘۔ پھر وہ مُجھے ایک خُوبصُورت صاف شفاف دریا کے پاس لے گئے اور کہا، ’’بیٹی، دریا میں اُترواور اِس میں غوطہ لگاؤ‘‘۔ اِس سے قبل کہ میں زندگی کے پانی کے اُس شفاف دریا میں داخل ہوتی، میں ایک ناقابل بیان شادمانی کا تجربہ کررہی تھی ، لیکن جب میں نے غوطہ لگایا اور باہر آئی تو میں بہت مسرور تھی۔ میں نے سوچا کہ مُجھے واپس گھر نہیں جانا چاہئے تھا لیکن خُداوند نے مُجھے بتایا، ’’بیٹی ،تُمہیں دُنیا میں واپس جانا ہے۔۔۔۔بیٹی، میں تُمہیں کُچھ اور دکھانا چاہتا ہوں کہ کیسے میں مُقدس لوگوں کے لئے دُنیا میں آنے والا ہوں۔ میں تُمہیں دکھاؤں گا کہ میری آمدِ ثانی کا دن کیسا ہوگا‘‘۔
آمدِ ثانی اور بڑی مُصیبت
ہم چلتے ہوئے ایسی جگہ پہنچے جہاں ایک بڑی سکرین لگی ہوئی تھی اور میں نے اُس
میں لوگ دیکھے۔ میں پوری دُنیا کو دیکھ سکتی تھی۔ پھر اچانک، میں نے ہزاروں لوگ
غائب ہوتے دیکھے۔ حاملہ عورتوں کے حمل گرنے لگے اور یوں دکھائی دیتا تھا کہ
جیسے وہ پاگل ہو گئی ہوں۔ہر جگہ سے بچے غائب ہو رہے تھے ۔ بہت سے لوگ یہاں سے
وہاں، چیختے ہوئے دوڑ رہے تھے، ’’یہ نہیں ہوسکتا، یہ نہیں ہوسکتا! یہ کیا ہورہا
ہے؟‘‘۔
میں نے دیکھا کہ وہ جو خُداوند کو جانتے تھے، لیکن وہ بچ گئے تھے(متی 24:41-40 )۔ وہ کہہ رہے تھے کہ مسیح آ گئے ہیں، آمدِ ثانی وقوع ہو گئی ہے۔ وہ چلا رہے تھے اور اپنے آپ کو مارنا چاہتے تھے لیکن وہ ایسا نہ کر پائے ۔ خُداوند نے مُجھے بتایا’’بیٹی،اُن دنوں میں موت بھاگ جائے گی؛ بیٹی، پاک روح اُن دنوں دُنیا میں نہ ہوگا‘‘۔ (مُکاشفہ 6:9)۔ وہاں حادثے ہو رہے تھے لیکن میں نے ایک بھی فرد کو ہلاک ہوتے نہ دیکھا: وہ سب زندہ تھے ، تا ہم زخمی ہو گئے تھے۔ میں نے ہزاروں لوگوں کے ساتھ ایک بڑی ٹریفک دیکھی۔اُنہوں نے مُجھے بتایا، ’’بیٹی، دیکھو، اِس طرح یہ سب کُچھ ہوگا‘‘۔ میں نے پھر لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ چلاتے ہوئے بھاگتے دیکھا، ’’مسیح آگئے، مسیح آ گئے!‘‘ وہ منتیں کررہے تھے، ’’خُداوند ، مُجھے مُعاف کردیں، مُعاف کردیں، مُجھے اپنے ساتھ لے جائیں!‘‘ لیکن افسوس کیساتھ خُداوند کہتے ہیں ، ’’اب بہت دیر ہو چُکی ہے۔ توبہ کا وقت اب ہے ، ۔۔۔بیٹی، جاؤ انسانوں کو بتاؤ کہ مُجھے ڈھونڈیں، کیونکہ اُس وقت، کوئی موقع نہیں ہوگا۔ (یسعیاہ 6:55)۔ بیٹی ، اُن سب کیلئے تب بہت دیر ہو چُکی ہوگی جو پیچھے رہ جائیں گے‘‘۔ جب یسوع نے دیکھا کہ کیسے لوگ پیچھے رہ گئے ہیں تو وہ رونے لگے اور کہا، ’’بیٹی ، میں دُنیا میں جاؤں گا، جیسے پہلا تھسلنیکیوں 4: 17-16میں لکھا ہے: ’’کیونکہ خُداوند خُود آسمان سے للکارا اور مُقرب فرشتہ کی آواز اور خُدا کے نرسنگے کے ساتھ اُتر آئیگا اور پہلے تو وہ جو مسیح میں موئے جی اُٹھینگے۔ پھر ہم جو زندہ باقی ہونگے اُنکے ساتھ بادلوں پر اُٹھائے جائیں گے تا کہ ہو ا میں خُداوند کا استقبال کریں اور اِس طرح ہمیشہ خُداوند کے ساتھ رہینگے‘‘
لیکن ہر کوئی خُداوند کے ساتھ نہیں جائے گا ، صرف وہ جو اُس کی مرضی کو پورا کریں گے(متی 21:7) اور پاک زندگی گُزاریں گے۔ کیونکہ خُداوند نے مُجھے بتایا، ’’صرف وہ جو پاک ہیں، آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونگے۔(عبرانیوں 14:12)
’’لیکن اُس دن اور اُس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا جس میں ، میں اپنے پاک لوگوں کے لئے جاؤں گا حتی کہ آسمان کے فرشتے بھی نہیں جانتے‘‘ (متی 36:24)
سکرین پر میں نے لوگوں کو ادھر اُدھر بھاگتے دیکھا۔ میگزین اور ٹی وی کی خبریں
کہہ رہی تھیں کہ ’’مسیح آ گئے ہیں‘‘۔ سکرین بند ہوگئی اور یسوع نے یہ کہتے ہوئے
بات ختم کی ، ’’میں اپنے پاک لوگوں کے لئے جاؤں گا‘‘۔ یہ سب کُچھ
تھا
جو اُنہوں نے مُجھے دکھایا۔ اِس کے بعد، وہ واپس مُجھے دُنیا میں لے آئے۔
فرشتوں کے جھُرمٹ میں ، ہم نے وہ خُوبصورت سیڑھیاں اُترنا شروع کردیں، سفید
سیڑھیاں جن کے گرد پھول تھے۔ میں سارے راستے رو رہی تھی، یسوع سے درخواست کرتے
ہوئے، ’’خُداوند، پلیز، مُجھے یہاں نہ چھوڑیں۔ مُجھے اپنے ساتھ لے جائیں!‘‘
اُنہوں نے جواب دیا، ’’بیٹی، قومیں،تُمہارا خاندان ، تُمہارا انتظار کررہا
ہے۔۔۔بیٹی، تُمہیں اِس جسم میں داخل ہونا ہوگا۔ تُمہیں زندگی پانا ہوگی، بیٹی،
تا کہ تُم جاؤ اور اُس بات کی گواہی دو جو تُم نے دیکھا ہے۔ بہتیرے تُمہارا
یقین نہیں کریں گے، بہتیرے تُمہارا یقین کریں گے، لیکن میں تُمہارا سچا گواہ
ہوں۔ میں تُمہارے ساتھ ہوں۔ میں تُمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا‘‘۔
دُنیا میں واپسی
میکسما
جب میری بیٹی واپس آئی، ہم وہاں انتظار کررہے تھے اور وہ فرش پر لیٹی ہوئی تھی۔ جب اُس نے ’’آہ‘‘ کی اور اِس کے علاوہ کُچھ نہیں۔ تو میں نے کہا، ’’خُداوند تیرا شُکر، کیونکہ میری بیٹی واپس آ گئی ہے‘‘۔
ہم سب نے خُداوند کا بڑا شُکر ادا کیا۔ جلد ہی اُس نے ہلکا ہلکا سانس لینا شروع کردیا۔ پانچ گھنٹوں کے بعد، وہ اپنی آنکھیں کھول پائی اُس نے بات کی۔ پہلے پہل ہم بمشکل سمجھ پائے کہ وہ کیا کہہ رہی تھی ؛ اُس کی آواز واضح نہ تھی۔ اُس میں کوئی قوت بھی نہ تھی۔ ہمیں کھڑکیاں بند رکھنا پڑیں کیونکہ اُس کی آنکھیں روشنی کو برداشت نہ کر پارہی تھیں۔ تجسس کے ساتھ، ہم سب چاہتے تھے کہ وہ ہمیں بتائے کہ اُس نے کیا دیکھا۔ لیکن چونکہ وہ بہت کمزور تھی، وہ ہمیں بہت کم بتا پائی۔ کوئی دو ہفتے کے بعد وہ ہمیں اپنی پوری گواہی بتا پائی۔
اِس سب کے بعد شیاطین اُسے اذیت دینے کو آئے ۔ وہ اُنہیں واضح طور دیکھ سکتی
تھی؛ وہ سائے میں چھُپنے کی کوشش کرتے۔ وہ یہاں اُس کی واپسی کے تین دنوں بعد
سے تھے، یعنی اُس کے صحیح طور بولنے سے بھی قبل سے۔ اُس نے اُن سے پوچھا کہ وہ
کیا چاہتے ہیں اور اُنہوں نے جواب دیا، ’’ہم تُمہارے ساتھ معاہدہ کرنے آئے ہیں
۔۔۔تُم اپنا مُنہ بند رکھو گی۔ تُم کُچھ ایسا نہیں بتاؤ گی جو تُم نے وہاں
دیکھا کیونکہ اگر تُم بولو گی تو ہم تُمہیں قتل کردیں گے‘‘۔ اُس نے بتایا کہ
شیاطین بہت بدصُورت، بڑے، بھدے اور خونخوار تھے۔ اُس نے بتایا کہ اُس کے پاس
الفاظ نہیں کہ وہ بیان کرسکے کہ وہ کتنے خوفناک دکھائی دیتے تھے۔ وہ اُنہیں
ڈانٹتی، لیکن وہ نہ جاتے۔ جب وہ آتے تو وہ اُس پر پھُدکتے اور اُس کا گلا دبانے
کی کوشش کرتے ۔ وہ اُنہیں ڈانٹتے ہوئے اُن کا مُقابلہ کرتی ، مگر اُس میں اتنی
قوت نہ تھی ۔ ایک مرتبہ جب اُس نے اُنہیں ڈانٹا تو ایک بڑی روشنی پیدا ہوئی
اورپھر وہ بھاگ گئے ۔ یہ خُداوند تھے۔ میری بیٹی جس مرحلے سے گُزری وہ اتنا
آسان نہ تھا ۔ اُسے سب انسانوں کے لئے ایک اہم پیغام دیا گیا تھا کہ خُدا کو
ڈھونڈیں۔ لیکن انسان سمجھتے ہیں کہ جو وہ کررہے ہیں وہ دُرست ہے ۔ نوجوان جو
منشیات اور شراب نوشی سے وابستہ ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہے
۔لیکن
ایسا نہیں ہے۔
سب سے بڑا تجربہ جو میری بیٹی نے کیا ، جب اُس نے دوزخ میں بہت سے تفریح طبع والے لوگ دیکھے، جن میں رقاص اور پوپ جان پال دوئم بھی تھا۔ یہ گھڑی ہے کہ خُداوند کے طلبگار ہوں، توبہ کریں اپنے آپ کو خُداوند کے سامنے عاجز بنائیں۔ خُدا کا کلام سچا ہے جب یہ کہتا ہے، ’’آسمان اور زمین ٹل جائیں گے لیکن میرے مُنہ کی باتیں نہ ٹلیں گی‘‘ (مرقص 31:13 )۔ خُدا کا کلام اپنے مقررہ وقت میں پورا ہوگا۔
خُداوند نے اُسے وہ سُرنگ بھی دکھائی ، جہاں لوگ چل کر دوزخ کو جا رہے تھے ۔ بہت سے لوگ پہلے ہی دوزخ میں ہیں۔ یہ حقیقت ہے! لیکن حتی کہ خُداوند کے لوگ بھی اِس کا یقین نہیں کرتے ، بہت سے محض یقین نہیں کرتے۔
مرکزی پیغام یہ تھا کہ ہم خُداوند کے طلبگار ہوں ، نہ صرف اپنے ہونٹوں سے ، بلکہ اپنے دل کی گہرائی سے، کیونکہ خُداوند کی آمد سر پر ہے۔ یسوع نے کہا، ’’میں اب دروازے پر نہیں ہوں؛ میں دروازے سے بھی آگے ہوں۔ میں جلد آؤں گا ؛ میری آمد نزدیک ہے۔ میرے لوگوں نے مُجھے چھوڑ دیا ہے اور دُنیاوی باتوں میں پھنس گئے ہیں۔۔۔میرے لوگوں کو بتائیں کہ اپنی پُرانی روش کو لوٹ جائیں‘‘۔ کلیسیا کو آج اپنی پُرانی روش کو لوٹنا ہے ؛ وہ یہ کہ ہم آگ میں ہیں ، خُداوند کو ڈھونڈتے ہوئے۔ جب نرسنگا پھونکا جائے گا تو ہمیں خُداوند سے ملنے کو تیار رہنا ہے ، اور یہ شاندار ہوگا!
ُخُداوند کا فوری پیغام
انجلیکا، سامعین سے خطاب کرتے ہوئے
خُداوند
نے مُجھے بتایا، ’’بیٹی، اُن دنوں میں پاک روح دُنیا میں نہ ہوگا۔ اُن دنوں میں
وہ دُنیا میں نہ ہوگا‘‘۔ (دوسرا تھسلنیکیوں 7:2)۔ اور میں نے حادثوں میں گھری
ایک بڑی ٹریفک دیکھی۔ بہت سے لوگ اپنے آپ کو ہلاک کرنا چاہتے تھے، لیکن یسوع نے
کہا، ’’وہ موت مانگیں گے لیکن موت انسانوں سے بھاگ جائے گی ۔ موت اُس گھڑی میں
نہ ہوگی ‘‘۔ (مُکاشفہ 6:9)۔ میں نے لوگوں کو ٹی وی دیکھتے اور جرائد پڑھتے
دیکھا جس میں لکھا تھا ’’ہزاروں ہزار صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں‘‘ بہت سے پہلے
جانتے تھے کہ مسیح اپنے پاک لوگوں کے لئے آ چُکے ہیں ۔ وہ جو خُداوند کو جانتے
تھے ، لیکن پیچھے رہ گئے تھے ، سڑکوں پر روتے پھرتے رہے ، اپنے آپ کو مارنے کی
کوشش کرتے ہوئے، لیکن وہ کُچھ نہ کر پائے۔
جبکہ آسمان پر، یسوع نے کہا، ’’میں مُقدس لوگوں کے لئے آؤں گا اور میں جلد اپنی کلیسیا کے لئے آؤں گا ‘‘ ۔ لیکن دو ہفتے قبل ، خُداوند نے مُجھے بتایا، ’’بیٹی، جو کُچھ تُم کررہی ہو، مُجھے اِس سے خُوشی ہوئی کہ تُم اُسے پورا کررہے ہو جو کام میں نے تُمہیں دیا تھا ، لیکن میرے لوگوں کو یہ مت بتانا کہ میں جلد آ رہا ہوں ۔ میرے لوگوں کو یہ بتانا کہ میں اِسی گھڑی آ رہا ہوں‘‘۔ پھر خُداوند نے کہا، ’’میرے لوگوں کو بتاؤ کہ میں اِسی گھڑی آتا ہوں اور کہ میں اپنے پاک لوگوں کے لئے آتا ہوں۔ میرے لوگوں کو بتاؤ کہ صرف مُقدسین، صرف مُقدسین مُجھے دیکھ پائیں گے ! ۔۔۔اور خاموش نہ رہنا : جو کُچھ میں نے تُمہیں بتایا ہے اُس کی مُنادی کرتے رہنا‘‘۔
انجلیکا سامعین کے ساتھ دُعا کرتے ہوئے
ہر ایک اپنی آنکھیں بند کرلے ، اور اپنا دہنا ہاتھ اپنے دل پر رکھ لے۔ اپنا بایاں ہاتھ بُلند کریں اور اگر آپ رونا محسوس کریں تو روئیں۔ اب خُداوند کو بتائیں کہ آپ اپنے دل میں کیا محسوس کرتے ہیں ، وہ جو خُداوند کو قبُول کرنا چاہتے ہیں ، میرے پیچھے یہ دُعا دُہرائیں:
خُداوند، میں تیرے پیار اور تیرے رحم کے لئے تیرا شُکر ادا کرتی/کرتا ہوں۔ خُداوند اُس کلام کے لئے جو آج میرے دل میں پہنچا۔ باپ، میں تُجھ سے مُعافی مانگتا/مانگتی ہوں۔ مُجھے مُعاف کر۔ مُجھے اپنے بیش قیمت خون سے دھو دے ۔ میرا نام کتاب حیات میں لکھ دے۔ خُداوند مُجھے اپنے بیٹی/بیٹے کے طور پر قبُول کر۔ اِسی وقت، میں جس کسی کو کبھی مُعاف نہیں کرپایا/پائی، مُعاف کرتا /کرتی ہوں۔ میں اپنی مُعاف نہ کرنے کی کمزوری کو ترک کرتا/کرتی ہوں۔ میں اُن سب چیزوں کو ترک کرتا/کرتی ہوں جو تیری راہ میں رُکاوٹ ہیں، اور میں تُجھ سے درخواست کرتا/کرتی ہوں کہ مُجھے تبدیل کردے ۔اور مُجھے ہر روز اپنی حضُوری سے معمور کردے۔ شُکریہ ، باپ، بیٹے اور پاک روح؛ یسوع نام میں، آمین۔
انجلیکا
یہ
گواہی کوئی جھوٹ نہیں ہے؛ یہ کوئی مذاق نہیں ہے؛ یہ کوئی داستان نہیں ہے اور یہ
کوئی خواب نہیں ہے، دوزخ حقیقی ہے ! دوزخ وجود رکھتی ہے ! وہ جو یقین نہیں
رکھتے، اُنہیں میں بتانا چاہتی ہوں کہ دوزخ حقیقی ہے بالکل حقیقی۔ میرے پاس
بیان کرنے کے لئے الفاظ نہیں کہ آپ کو بتا سکوں کہ وہ کتنی حقیقت ہے۔ کاش، آپ
لوگ بھی خُود اُس کا تجربہ کرسکیں
انجلیکا ، بیان کرنے والے سے بات کرتے ہوئے
وقت نزدیک ہے، خُدا نشان دے رہا ہے کہ انسانوں پر ظاہر کرسکے کہ کیا ہونے والا ہے۔ غلط کاری میں نہ رہیں، یہی کُچھ ابلیس چاہتا ہے۔ اپنے آپ سے پوچھیں ، کیا آپ کہیں دوزخ کی سُرنگ میں سے پہلے ہی تو نہیں گُزر رہے۔آج نجات کا دن ہے، آج یسوع کو اپنے نجات دہہندہ کے طور پر اپنی زندگی میں بُلانے کا دن ہے۔
یہ نہایت سادہ اور عظیم الفاظ ہیں کہ کہا جائے: ’’یسوع ، میں آپ کو اپنے خُداوند اور واحد نجات دہندہ کے طور پر قبُول کرتا ہوں۔ میں آپ کو اپنی زندگی اور روح اپنے سارے دل سے دیتا ہوں۔ میں آپ کے ساتھ ابدالآباد رہنا چاہتا ہوں ‘‘۔
اپنی حتمی منزل کو چُنیں: زندگی یا موت، جنت یا دوزخ، یسوع یا ابلیس۔ یہ واضح ہے کہ یا تو آپ یسوع کے ہوسکتے ہیں یا ابلیس کے۔ یا تو آپ وہ کریں جو دُرست ہے یا وہ کریں جو غلط ہے۔ آپ اپنی منزل چُنتے ہیں : ہمیشہ کی زندگی یا آگ کی جھیل۔ اِس کے بارے میں سوچ لیں۔ فیصلہ اب کریں۔ یسوع مسیح صلیب پر ہم میں سے ہر ایک کے لئے موئے، ہمارے گناہوں کے لئے ، اور اُس نے اپنے رحم کی بدولت ہمیں نجات کا موقع دیا ۔ مسیح کو اپنے واحد نجات دہندہ کے طور پر قبُول کریں!
اب چونکہ آپ نے گواہی سُن لی ہے، اِس لمحے کو ایسا نہ بننے دیں کہ بعد میں ہمیشہ آپ دوزخ میں پچھتاتے رہیں‘‘۔
حوالہ جات
مُکاشفہ 9:19
مُبارک ہیں وہ جو برہ کی شادی کی ضیافت میں بُلائے گئے ہیں ۔پھر اُس نے مُجھ سے کہایہ خُدا کی سچی باتیں ہیں۔
مُکاشفہ 15:20
اور جس کسی کا نام کتابِ حیات میں لکھا ہوا نہ ملا وہ آگ کی جھیل میں ڈالا گیا۔
مُکاشفہ 4:21
اور اُنکی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دیگا۔اِسکے بعد نہ موت رہے گی اور نہ ماتم رہے گا۔ نہ آہ و نالہ نہ درد۔پہلی چیزیں جاتی رہیں۔
مُکاشفہ 1:21
پھر میں نے ایک نئے آسمان اور نئی زمین کو دیکھا کیونکہ پہلا آسمان اور پہلی زمین جاتی رہی تھی اور سُمندر بھی نہ رہا۔
مُکاشفہ 8:21
مگر بُزدلوں اور بے ایمانوں اور گھنونے لوگوں اور خونیوں اور حرامکاروں اور جادُوگروں اور بُت پرستوں اور سب جھوٹوں کا حصہ آگ اور گندھک سے جلنے والی جھیل میں ہوگا۔ یہ دوسری موت ہے۔
’’کوئی بُت پرست‘‘ آسمان کی بادشاہی کا وارث نہ ہوگا۔
خروج 3:20-5
میرے حضُور تو غیر معبودوں کو نہ ماننا، تُو اپنے لئے کوئی تراشی ہوئی مُورت نہ بنانا۔ نہ کسی چیز کی مُورت بنانا جو اُوپر آسمان میں یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے ۔ تُو اُنکے آگے سجدہ نہ کرنا اور نہ اُنکی عبادت کرنا کیونکہ میں خُداوند تیراخُدا غیور خُدا ہوں اور جو مُجھ سے عداوت رکھتے ہیں اُنکی اولاد کو تیسری اور چوتھی پُشت تک باپ دادا کی بدکاری کی سزا دیتا ہُوں۔
مُکاشفہ 21:21
اور بارہ دروازے بارہ موتیوں کے تھے ۔ہر دروازہ ایک موتی کا تھا ، اور شہر کی سڑک شفاف شیشہ کی مانند خالص سونے کی مانند تھی۔
مُکاشفہ 27:21
اور اُس میں کوئی ناپاک چیز یا کوئی شخص جو گھنونے کام کرتا یا جھُوٹی باتیں گھڑتا ہے ہر گز داخل نہ ہوگا مگر وہی جنکے نام برہ کی کتاب حیات میں لکھے ہوئے ہیں۔
مُکاشفہ 7:22
اور دیکھ ، میں جلد آنے والا ہوں ۔ مُبارک ہے وہ جو اِس کتاب کی نبوت کی باتوں پر عمل کرتا ہے۔
مُکاشفہ 1:22
جو بُرائی کرتا ہے ، وہ بُرائی ہی کرتا جائے اور جو نجس ہے وہ نجس ہی ہوتا جائے اور جو راستباز ہے وہ راستبازی کرتا جائے اور جو پاک ہے وہ پاک ہی ہوتا جائے۔
مُکاشفہ 12:22
دیکھ میں جلد آنے والا ہُوں اور ہر ایک کے کام کے مُوافق دینے کے لئے اجر میرے پاس ہے۔
مُکاشفہ 13:22-15
میں الفا اور اومیگا ۔اؤل و آخر۔ابتدا و انتہا ہُوں۔ مُبارک ہیں وہ جو اپنے جامے دھوتے ہیں کیونکہ زندگی کے درخت کے پاس آنے کا اختیار پائیں گے اور اُن دروازوں سے شہر میں داخل ہونگے ۔ مگر کُتے اور جادُوگر اور حرامکار اور خُونی اور بُت پرست اور جھوٹی بات کا ہر ایک پسند کرنے اور گھڑنے والا باہر رہیگا۔
:"El Sueno de Dios"(یہ ویڈیو ڈاکومینٹری ، منسٹری
نے باہم گوڈ فلمز‘‘ کیساتھ ملکر تیار کی ہے ۔ یہ ویڈیو بُنیادی طور پر ہسپانوی میں تھی ، جس کا ویڈیو سے انگریزی(بشکریہ سینڈرہ) اور بعد ازاں اُردو (بشکریہ مرقس یونس، پاکستان) میں ترجمہ کیا گیا۔ ا،س گواہی کی تلخیص و تجدید کی گئی ہے ۔ بہت سے بیانئے اصل گواہی کا حصہ نہ تھے۔)