2
خداوند یہ کہتا ہے: “میں موآب کے لوگوں کو ان کے کئی گنا ہو ں کے لئے ضرور سزا دونگا۔کیوں؟ کیونکہ موآب نے ادوم کے بادشاہ کی ہڈیوں کو جلا کر چونا بنا یا۔ اسلئے میں موآب میں آ گ لگا ؤں گا اور وہ آگ قریوت کے قلعو ں کو فنا کریگی۔ دہشت ناک چیخیں اور بگل کی آواز ہو گی اور مو آب مر جا ئے گا۔ اس لئے میں مو آب کے بادشا ہوں کو ختم کردوں گا اور میں مو آب کے سبھی لوگو ں کو مار ڈا لوں گا۔” خداوند فرماتا ہے۔
خداوند یوں فرماتا ہے: “میں یہودا ہ کو ان کے کئی گنا ہوں کے لئے ضرور سزا دونگا کیوں؟ کیوں کہ انہوں نے خداوند کے احکام کو ماننے سے انکار کیا۔انہوں نے ان احکام کو قائم نہیں رکھا۔ان کے باپ دادا نے جھوٹ پر یقین کیا اور ان جھو ٹی باتوں کی وجہ سے بنی یہوداہ نے خدا کی اطاعت نہ کی۔ اس لئے میں یہودا ہ میں آگ لگا ؤں گا اور یہ آگ یروشلم کے قلعو ں کو فنا کریگی۔”
خداوند یہ کہتا ہے: “میں اسرا ئیل کو انکے کئی گنا ہوں کے لئے سزا ضرور دونگا۔کیوں؟ کیونکہ انہوں نے چاندی کے چند سکوں کے لئے صادق لوگوں کو بیچ دیا۔ انہوں نے ایک جو ڑی جو تے کیلئے غریب لوگوں کو بیچا۔ انہوں نے ان غریب لوگوں کو دھکّہ دیکر منہ کے بل گرا یا اور وہ ان کو کچلتے ہوئے گئے۔ انہوں نے خاکسار لوگوں کی ایک نہ سنی۔باپ اور بیٹا ایک ہی عورت کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کئے۔ انہوں نے میرے مقدس نام کی بے حرمتی کی اور اسے تبا ہ کیا۔ انہوں نے غریبوں کے کپڑوں کو لیا اور ان پر غالیچہ کی طرح تب تک بیٹھے جب تک کہ وہ قربان گا ہ پر عبادت کر تے رہے۔ انہوں نے غریبوں کے کپڑوں کو گروی رکھا اور سکّے قرض کے طور پر دیئے۔ انہوں نے لوگو ں کو جرمانہ دینے پر مجبور کیا اور اس جرمانہ کی رقم سے اپنے خدا کی ہیکل میں پینے کے لئے مئے خریدی۔
“حالانکہ میں نے ہی ان کے سامنے اموریوں کو فنا کیا۔ جو دیوارو ں کی مانند بلند اور بلوطوں کی مانند مضبوط تھے۔ وہاں میں نے ہی اوپر سے ان کا پھل برباد کیا اور نیچے سے ان کی جڑی کا ٹیں۔
10 “وہ میں ہی تھا جو تمہیں مصر سے نکال کر لا یا۔ چالیس برس تک میں تمہیں بیابان سے ہو تے ہو ئے لا یا۔ میں نے تمہیں اموریوں کی زمین پر قبضہ کر لینے میں مدد دی۔ 11 میں نے تمہا رے کچھ بیٹوں کو نبی چنا۔ میں نے تمہا رے نو جوان آدمیوں میں سے کچھ کو نذیری بنا یا۔ اے بنی اسرائیل! کیا یہ سچ نہیں ہے ” خداوند نے یہ سب کہا، 12 “لیکن تم لوگوں نے نذیریوں کو مئے پلا ئی۔ تم نے نبیوں کو نبوت کر نے سے رو کا۔ 13 تم لوگ میرے لئے بھاری بوجھ کی طرح ہو۔ میں اس گاڑی کی طرح ہوں جو ڈھیر سا اناج لدے ہو نے کی سبب جھکی ہو ئی ہو۔ 14 کو ئی بھی شخص بچ کر نکل نہیں پا ئے گا۔ یہاں تک کہ تیز دوڑنے وا لا بھی۔زور آور کا زور بھی نہیں رہیگا۔ سپا ہی اپنے کو نہیں بچا پا ئیں گے۔ 15 کمان اور تیر وا لے بھی نہیں بچا ئے جا ئیں گے۔ تیز دوڑ نے وا لے بھی نہیں بچیں گے۔ اور تیز سوار بھی اپنی جان نہیں بچا پا ئیں گے۔ 16 اس دن جنگجو ؤں میں سے جو کو ئی سچ مچ دلا ور ہے حفاظت کیلئے ننگا دو ڑیں گے۔” خداوند نے یہ فرمایا تھا۔
1:2+اسرائیل1:2کا ایک پہاڑ۔اس نام کے معنی خدا کاتاکستان۔اس سے ظا ہر ہو تا ہے کہ یہ پہاڑ نہایت زرخیز ہے۔