21
اس لئے خداوند کا کلام مجھے پھر ملا۔اس نے کہا، “اے ابن آدم! یروشلم کی جانب توجہ دو اور اس کے مقدس مقاموں کے خلاف کچھ کہو۔ میرے لئے اسرائیل ملک کے خلاف کچھ کہو۔ اسرائیل ملک سے کہو، ’خداوند نے یہ باتیں کہی ہیں۔ میں تمہا رے خلاف ہوں۔ میں اپنی تلوار میان سے با ہر نکا لوں گا۔ میں سبھی لوگوں کو تم سے دو ر کرو ں گا۔ اچھے اور برے دونوں کو۔ میں اچھے اور بُرے دونوں طرح کے لوگو ں کو تم سے الگ کروں گا۔ میں اپنی تلوار میان سے با ہر نکا لوں گا اور جنوب سے شمال تک کے سبھی لوگوں کے خلاف اس کا استعمال کروں گا۔ تب سبھی لوگ جانیں گے کہ میں خداوند ہوں اور وہ جان جا ئیں گے کہ میں نے اپنی تلوار میا ن سے نکال لی ہے۔ میری تلوار میان میں پھر وا پس نہیں جا ئے گی۔”
خدا نے مجھ سے کہا، “اے ابن آدم! شکستہ دل کی طرح آہیں بھرو۔ لوگوں کے سامنے کرا ہو۔ تب وہ تم سے پو چھیں گے، ’ تم کراہ کیوں رہے ہو؟ ' تب تمہیں کہنا چا ہئے، ’ مصیبت کی خبریں ملنے وا لی ہے۔ اس لئے ہر ایک دل خوف سے پگھل جا ئے گا۔ سبھی ہا تھ کمزور ہو جا ئیں گے۔ ہر ایک روح کمزور ہو جا ئے گی۔ ہر ایک جی ڈوب جا ئے گا۔ توّجہ دو۔‘ وہ بُری خبر آ رہی ہے۔ یہ با تیں ہو ں گی۔” میرے مالک خداوند نے یہ با تیں کہیں۔
خدا کا کلام مجھے ملا، اس نے کہا، “اے ابن آدم! میرے لئے لوگوں سے با تیں کرو۔ یہ با تیں کہو۔ میرا مالک خداوند یہ کہتا ہے:
 
’دھیان دو، ایک تلوار، ایک تیز تلوار ہے،
اور تلوار صيقل (چمکا ئی ) کی گئی ہے۔
10 تلوار ہلاک کر نے کے لئے تیز کی گئی ہے۔
بجلی کی مانند چکا چوند کر نے کے لئے اس کو صيقل(چمکا ئی ) کی گئی ہے۔ ”
میرے بیٹے، تم اس چھڑی سے دور بھاگ گئے جس سے میں تمہیں سزا دیتا تھا
تم نے اس لکڑی کی چھڑی سے سزا پانے سے انکار کیا۔
11 اس لئے تلوار کو صيقل (چمکا ئی ) کی گئی ہے۔
اب یہ تلوار استعمال کی جا سکے گی۔
تلوار تیز کی گئی اور صيقل(چمکا ئی ) کی گئی تھی۔
اب یہ مارنے وا لے کے ہا تھو ں میں دی جا سکے گی۔
 
12 “اے ابن آدم! چلا ؤ اور چیخو! کیونکہ تلوار کا استعمال میرے لوگوں اور اسرائیل کے سبھی امراء کے خلاف ہو گا۔ وہ امراء جنگ چا ہتے تھے۔ اس لئے وہ ہمارے لوگوں کے ساتھ اس وقت ہونگے جب تلوار آئے گی۔اس لئے اپنی رانیں پیٹو اور اپنا دکھ ظا ہر کر نے کے لئے شو ر مچا ؤ 13 کیونکہ آزمائش آ رہی ہے۔ تم نے عصا کے ذریعہ سزا پانے سے انکار کیا۔ کیا وہ اسے آنے سے رو کے گا؟” میرے مالک خداوند نے یہ باتیں کہیں۔
 
14 خدا نے کہا، “اے ابن آدم! تا لی بجا ؤ
اور میرے لئے لوگوں سے یہ باتیں کرو۔ ”
دو بار تلوار کو وار کر نے دو،
ہاں تین بار یہ تلوار لوگوں کو مارنے کیلئے ہے۔
یہ تلوار بڑی خونریزی کے لئے ہے۔
یہ تلوار چاروں جانب کے لوگوں کو کاٹ دے گی۔
15 ان کے دل خوف سے پگھل جا ئیں گے
اور بہت سے لوگ گریں گے۔
بہت سے لوگ اپنے شہر کے پھاٹک پر مریں گے۔
ہاں تلوار بجلی کی طرح چمکے گی۔
یہ لوگوں کو مارنے کے لئے صيقل(چمکا ئی) کی گئی ہے۔
16 اے تلوارو! دھار دار بنو،
تلوارو! دا ئیں کا ٹو،
سیدھے آگے کا ٹو،
با ئیں کا ٹو۔
ہر اس مقام پر جا ؤ جہاں جانے کے لئے تمہا ری دھار کو چنا گیا ہے۔
 
17 “تب میں بھی تا لی بجا ؤگا
اور میں اپنا قہر ظا ہر کرنا بند کردو ں گا،
میں خداوند کہہ چکا ہوں۔”
18 خداوند کا کلام مجھے ملا۔اس نے کہا 19 “اے ابن آدم! دو سڑکوں کا نقشہ بنا ؤ۔ جن میں شا ہ بابل کی تلوار اسرائیل جانے کے لئے ایک کو چُن سکے دونو ں سڑکیں اسی بابل ملک سے نکلیں گی۔ تب شہر کو پہنچنے وا لی سڑک کے کو نے پر ایک نشان بنا ؤ۔ 20 نشان کا استعمال یہ دکھانے کے لئے کرو کہ کون سی سڑک کا استعمال تلوار کریگی ایک عمون شہر ربہ کو پہنچا تی ہے۔ دوسری سرک یہودا ہ، محفو ظ شہر، یروشلم کو پہنچا تی ہے! 21 یہ ظا ہر کرتا ہے کہ شا ہ بابل اس سڑک کا منصوبہ بنا رہا ہے جس سے وہ اس علاقہ پر حملہ کرے۔شاہ بابل اس جگہ پر آچکا ہے جہاں دونوں سڑکیں الگ ہو تی ہیں۔شاہ بابل نے سامری کی علامتوں کا استعمال مستقبل کو جاننے کے لئے کیا ہے۔اس نے کچھ تیرو ں کو ہلا یا۔اس نے گھرانے کے بتو ں سے سوال پو چھا،اس نے ان جانوروں کا جگر دیکھا جسے اس نے مارا تھا۔
22 اس کے داہنے ہا تھ میں یروشلم کا نقشہ کندہ کیا ہوا ایک پانسہ پڑے گا۔ وہ نشان اس سے کہے گا داہنی جانب کی اس سڑک پر جا ؤ جو کہ یروشلم جا تی ہے اور قلعہ شکن گا ڑی رکھو،حکم دو اور مارنا شروع کرو، لڑا ئی کا للکار لگا ؤ۔ پھاٹکو ں پر قلعہ شکن گا ڑی لگا ؤ۔ ڈھلوان اور ڈھلوان نما دیوار بنا۔ شہر پر حملہ کرنے کے لئے لکڑی کا برج بنا ؤ۔ 23 وہ جا دو ئی علامتیں بنی اسرائیلیوں کے لئے کو ئی معنی نہیں رکھتیں۔ وہ ان قسمو ں کو کھا تے ہیں جو انہوں نے دیئے۔ لیکن خداوند انکے گنا ہ یا درکھے گا۔ تب اسرائیلی اسیر کئے جا ئیں گے۔”
24 میرا مالک خداوند کہتا ہے، “تمہا رے برے اعمال بے نقاب ہو چکے ہیں۔ تمہا رے ہر کام میں تمہا را گنا ہ دکھا ئی دے رہا ہے جسے تم نے کیا۔ تم نے مجھے اس بات کو یاد رکھنے پر مجبور کیا کہ تم قصوروار ہو۔اس لئے دشمن تمہیں اپنے قبضہ میں کر لیگا۔ 25 اور اسرائیل کے بد کردار امراؤ! تم مارے جا ؤ گے۔تمہا ری سزا کا وقت آپہنچا ہے اب خاتمہ قریب ہے۔”
26 میرا مالک خداوند یہ پیغام دیتا ہے، “اپنی شا ہی پگڑی اور تاج اتا رو۔ یہ چیزیں اب ایسی نہیں رہیں گی جس طرح وہ پہلے تھیں۔ پَست کو بلند کر اور اسے جو بلند ہے پَست کر۔ 27 میں اس شہر کو پوری طرح فنا کروں گا۔ وہ شہر تب تک وجود میں نہیں رہے گا جب تک وہ شخص نہیں آجا تا ہے جسے کہ حکومت کر نے کا حق ہے۔ تب میں اسے (شاہ بابل کو ) اس شہر پر حکومت کرنے دوں گا۔”
28 خدا نے کہا، “اے ابن آدم! میرے لئے لوگوں سے کہو۔ یہ با تیں کہو، ’میرا مالک خداوند یہ باتیں بنی عمون اور ان کے شرم و حیا کے بارے میں کہتا ہے:
 
“دیکھو! ایک تلوار!
ایک تلوار اپنی میان سے با ہر ہے۔
تلوار صيقل (چمکا ئی) کی گئی ہے۔
اور یہ مارنے کے لئے تیار ہے۔
اسے صيقل کی گئی تا کہ وہ بجلی کی طرح چمکے گی۔
 
29 تمہا ری رو یا بیکار ہے۔
تمہا را جا دو تمہا ری مدد نہیں کریگا۔
یہ صرف جھوٹ کا پلندہ ہے۔
اب تلوار بدکرداروں کی گردن پر ہے۔
وہ جلدی ہی مرد ہ ہو جا ئیں گے۔
ان کا آخری وقت آپہنچا ہے۔
ان کے گنا ہوں کے خاتمے کا وقت آگیا ہے۔
30 “اب تم تلوار (بابل ) کو میان میں واپس رکھو۔ اے بابل میں تمہارے ساتھ انصاف اسی مقام پر کروں گا جہاں تمہاری تخلیق کی گئی ہے یعنی اس ملک میں جہاں تم پیدا ہوئے ہو۔ 31 میں تمہارے خلاف اپنے قہر کی بارش بر سا ؤں گا۔ میرا قہر تمہیں دھکتی آندھی کی طرح جلائے گا۔ میں تمہیں ان ظالم لوگوں کے حوالے کردوں گا جو لوگ انسانوں کو ہلاک کرنے میں ماہر ہیں۔ 32 تم آ گ کے لئے ایندھن بنو گے۔ تمہارا خون زمین میں بہے گا۔ تمہیں پھر یاد نہیں کریں گے۔ میں خدا وند نے یہ کہا ہے۔”