55
“اے سب پیاسو!
پانی کے پاس آؤ۔
اگر تمہا رے پاس دولت نہیں ہے تو اس کی فکر مت کرو۔
آؤ خرید لو اور کھا ؤ۔
ہاں! آؤ مئے اور دودھ
بنا زر اور بغیر قیمت کے خریدو۔
بیکار میں اپنی دولت ایسی کسی شئے پر کیو ں برباد کرتے ہو جو اصل غذا نہیں ہے ؟
ایسی کسی شئے کے لئے اپنی تنخواہ کیوں خرچ کرتے ہو جو تمہیں تشفی نہیں دیتی؟
میری بات غور سے سنو! تم بہتر غذا کھا ؤگے۔
تم ایسی مزیدار غذا کھا ؤ گے جس سے تمہا را دل تشفی پا ئے گا۔
سنو اور میرے پاس آؤ۔
سنو ، تا کہ تم جیو گے۔
میں تمہا رے ساتھ ایک ابدی معاہدہ کر تا ہو ں
محبت کے وعدہ کے مانند
جسے کہ میں نے دا ؤد سے کیا تھا۔
دیکھو! میں نے داؤد کو قوموں کے لئے گواہ مقرر کیا۔
میں نے اسے قوموں کا حکمراں اور سپہ سالا ر بنایا۔”
کئی ملکوں میں کئی انجانی قو میں ہیں جسے تو نہیں جانتا ہے،
لیکن تو ان سبھی قوموں کو بلا ئے گا،
وہ قو میں تجھ سے نا واقف ہیں،
لیکن وہ دو ڑ کر تیرے پاس آئیں گی۔
ایسا ہو گا ، کیوں کہ خداوند تیرا خدا ایسا ہی چا ہتا ہے۔
ایسا یقیناً ہو گا ،کیوں کہ وہ اسرائیل کے قدوس نے تجھ کو جلال بخشا ہے۔
اس سے پہلے کہ دیر ہو جا ئے
تجھے خداوند کی تلاش کرنا چا ہئے
اسے اب تجھے مدد کے لئے پکارنا چا ہئے
جبکہ وہ قریب میں ہے۔
اے شریرو! تجھے اپنے بُرے کامو ں کو چھو ڑنا چا ہئے۔
گنہگا رو! تجھے اپنے برے سوچ کو چھوڑنا چا ہئے۔
تجھے خداوند کی طرف واپس آنا چا ہئے
اگر تم ایسا کرو گے تو خداوند تجھ پر مہربان ہو گا۔
تم سب کو ہمارے خدا کی طرف واپس آنا چا ہئے
کیوں کہ وہ تمہا رے گناہو ں کو مکمل طور پر معاف کرے گا۔
خداوند فرماتا ہے ، “تمہا رے خیالات ویسے نہیں ، جیسے میرے ہیں۔
تمہا ری را ہیں ویسی نہیں جیسی میری را ہیں ہیں۔
جیسا کہ جنت زمین سے زیادہ اونچی ہے
اسی طرح تمہاری را ہوں سے میری را ہیں بلند ہیں۔
اور میرے خیالات تمہا رے خیالات سے بلند ہیں۔”
 
10 “ٹھیک جس طرح آسمان سے بارش ہو تی ہے
اور برف گر تی ہے اور پھر جب تک کہ وہ زمین کو تر نہیں کر دیتی اور مٹی کی زرخیزی کو بڑھا نہیں دیتی واپس نہیں جا تی ہے تا کہ زمین پو دوں کو بڑھا ئے
اور اس سے کسان کو بو نے کیلئے بیج ملے اور لو گوں کو کھانے کے لئے رو ٹی ملے،
11 اسی طرح میرا کلام بھی جو میرے منہ سے نکلتا ہے یقیناً ایسا ہی ہو گا۔
اور جب تک ہو نے کو پو را نہیں کر لیتے وہ واپس نہیں جا ئے گا۔
میں جو چا ہتا ہو ں وہ اس کو پو را کرے گا۔
وہ اس کام میں جسے کرنے کے لئے میں بھیجا ہوں اس میں کامیا ب ہو گا۔
 
12 ہاں، “تم خوشی سے نکلو گے
اور سلامتی کے ساتھ روانہ کئے جا ؤ گے۔
تمام پہاڑ، پہاڑی تمہا رے سامنے نغمہ پر داز ہوں گے
اور بیرون شہر کے تمام درخت تالیاں بجائیں گے۔
13 کانٹے دار جھاڑیوں کی جگہ میں صنوبر کے درخت اگیں گے
اور جنگلی جھاڑیوں کی جگہ پر آس کا درخت ہوگا۔
خداوند نے جو کیا ہے اس کے لئے یہ ایک یاد داشت
اور اس کی قوت کا نشان ہو گی جسے تباہ نہیں کیا جا ئے گا۔”
1:1+جس1:1نے ۷۶۷۔ ۷۴۰ قبل مسیح میں حکومت کی۔1:1+جس1:1نے۷۴۰۔ ۷۳۵ قبل مسیح میں حکومت کی۔1:1+جس1:1نے۷۳۵۔۷۳۷ قبل مسیح میں حکومت کی۔1:1+جس1:1نے ۷۲۷۔ ۶۸۷ قبل مسیح میں حکومت کی۔1:21+کبھی1:21کبھی یہ اس شخص کا بھی حوا لہ دیتا ہے جو خدا کی پیروی کر نا بند کر دیتا ہے اور اس کے بدلے میں بتوں کی پرستش کر تا ہے۔6:2+خصوصی6:2فرشتے جنہیں خدا پیغام رسانی کے لئے استعمال کر تا ہے نام کے شاید معنی ہیں وہ آ گ کی مانند رو شن ہیں۔6:4+اس6:4سے ظا ہر ہو تا ہے کہ مکان میں خدا تھا۔7:14+اس7:14نام کے معنی ہیں ” خدا ہمارے ساتھ ہے ”19:15+اس19:15کا مطلب یہ ہے کہ نہ تو عام لوگ اور نہ ہی اونچے طبقات کے لوگ۔19:18+یہ19:18نام اس نام کی مانند ہے جس کا مطلب ”تبا ہی کا شہر” ہے۔ یہ شاید کہ ہپلو پو لیس کا شہر ہے۔22:8+سليمان22:8کا تعمير کردہ محل جہاں مال و ہتھيار ذخيرہ کيا جاتا تھا۔24:17+عبرانی24:17میں یہ لفظوں کا کھیل۔25:7+پردہ25:7کا مطلب ماتم یا پھر کفن کا کپڑا ہو سکتا ہے۔28:10+شاید28:10کہ یہ عبرانی گیت ہے چھو ٹے بچوں کو سکھانے کے لئے کہ کیسے لکھا جا تا ہے۔اس کی آواز بچوں کی طرح ہو تی ہے یا غیر ملکی زبان کی طرح۔29:1+یہ29:1یروشلم کا ایک اور نام ہے اس کا مطلب “ خدا کا شیر۔30:33+گیہنّا،30:33ہنون کی گھا ٹی۔ لوگوں نے اپنے بچوں کو اس گھا ٹی میں اپنےجھو ٹے معبود ملکوم کے لئے آ گ میں قربانی دی۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں لوگوں نے کو را کرکٹ کو بھی جلا دیا۔اس لئے یہ دو زخ کے لئے نشان بن گیا۔38:8+یہ38:8سب خاص عمارتوں کی سیڑھیاں ہیں جسے حزقیاہ گھڑی کے طور پر استعمال کر تے تھے۔ جب سو رج سیڑھیوں پر چمکتا تھا تو سایہ دکھا تا تھا کہ یہ دن کا کیا وقت ہے۔46:1+بابل46:1کے جھو ٹے معبود۔