9
کیوں کہ جس زمین پر ظلم کیا گیا وہ اور زیادہ اندھیرا سے ڈھکا ہوا نہیں رہے گا۔ ایک بار زبولون اور نفتالی کی زمین کم اہمیت والی سمجھی جاتی تھی۔ لیکن آخر میں وہ انکو تعظیم دینگے جو کہ یردن ندی کے پار سمندر کے راستے پر جو غیر یہودیوں کا گلیل کہلا تا ہے آباد ہیں۔ لوگ جو کہ اندھیرے میں چلتے ہیں اب عظیم روشنی دیکھیں گے۔ وہ جو سایہ دار جگہ میں رہتے ہیں اب ان لوگوں پر چمکیلی روشنی چمکتی ہے۔
اے خدا! تو اس قوم کو بڑھا کر خوشحال بنا یا۔ تیرے حضور ایسے جشن منائے جیسے فصل کاٹتے وقت یا مال غنیمت کی تقسیم کے وقت لوگ جشن منا تے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے ؟ کیوں کہ تو نے انکے جوا ، بھا ری بوجھ جو کہ انکے اوپر تھا اس کو ہٹا دیا ہے۔ تم نے انکے چھڑوں کو جو کہ انکے کندھوں پر تھا توڑ پھینکا ہے۔ تو نے اس چھڑی کو توڑ دیا ہے جس کا استعمال دشمن لوگ ان لوگوں کو سزا دینے کے لئے کر تے تھے۔ یہ اسی وقت کی مانند ہو گا جب تو نے مدیانی لوگوں کو شکست دی تھی۔
ہر وہ قدم جو لڑائی میں آگے بڑھیگا فنا کر دیا جائے گا۔ اور ہر وردی پر خون کے دھبے لگا دیئے جائیں گے۔ یہ ساری چیزیں آگ میں جھونک دی جائیں گی۔ کیوں کہ ایک بچہ ہم لوگوں کے لئے پیدا ہوا ہے۔ ایک بچہ ہم لوگوں کو دیا گیا ہے اور حکمرانی کرنے کا اختیار اسکی ذمہ داری ہے۔ اس کا نام “ تعجب خیز مشیر ، قوت والا خدا ، ہمیشہ رہنے والا باپ اور سلامتی شہزادہ ” ہوگا۔ اس کا اختیار عظیم ہوگا۔ اور اس سلامتی کو جسے وہ لیکر آئے گا کوئی انتہا نہ ہوگی۔ وہ داؤد کے تخت پر بیٹھے گا اور اسکی مملکت پر ہمیشہ کے لئے حکمرانی کرے گا۔ انصاف اور صداقت اسے مضبوطی فراہم کرے گا۔ خدا وند قادر مطلق کی بے حد محبت کی وجہ سے یقیناً ایسا ہوگا۔
یعقوب ( اسرائیل ) کے لوگوں کے خلاف میرے خدا وند نے ایک پیغام دیا۔ اسرائیل کے خلاف دیئے گئے اس پیغام پر عمل ہوگا۔ تب افرائیم کے ہر شخص کو اور یہاں تک کہ سامریہ کے امراء تک کو یہ پتا چل جائے گا کہ خدا نے انہیں سزا دی تھی۔
آج وہ لوگ متکبر اور منھ زور ہیں وہ لوگ کہا کرتے ہیں۔ 10 یہ سب اینٹیں گر گئیں۔ لیکن ہم اسے پھر سے پتھروں کو کاٹ کر بنائیں گے۔ گولر کی لکڑی کے شہتیر ٹکڑوں میں ٹوٹ گئے ، لیکن ہم اسکی جگہ دیو دار کی لکڑی لگائیں گے۔
11 اس لئے خدا وند لوگوں کو اسرائیل کے خلاف جنگ کرنے کے لئے اکسائے گا خدا وند رضین کے دشمنوں کو ان کی مخالفت میں لے آئے گا۔ 12 خدا وند مشرق سے بنی ارام کو اور مغرب سے فلسطینیوں کو لائے گا۔ وہ دشمن اپنی فوج سے اسرائیل کو ہرا دیں گے۔ لیکن خدا اسرائیل سے تب بھی غضبناک رہے گا۔ اس کا ہاتھ اوپر اٹھا ہوا ہے ، انہیں سزا دینے کے لئے تیار ہے۔
13 خدا نے لوگوں کو سزا دی۔ لیکن تب بھی وہ لوگ گناہ کرنے سے باز نہیں آئے اور نہ ہی اسکی طرف لو ٹے وہ لوگ خدا وند قادر مطلق کی طرف نہیں مڑے۔ 14 اس لئے خدا وند نے اسرائیل کا سر اور دُم ، شاخیں اور تنا ایک ہی دن میں کاٹ دیا۔ 15 یہاں بزر گ اور اہم آدمی سر تھے۔ اور جو نبی جھو ٹی باتیں سکھا تا ہے وہی دُم تھے۔
16 وہ لوگ جو لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں وہ انہیں بری راہ پر لے جاتے ہیں۔ اور ان لوگوں کو جو ان کے پیچھے چلتے ہیں فنا کردیا جائے گا۔ 17 اس لئے خدا وند ان کے جوان آدمیوں سے ناراض تھے اور وہ یتیموں اور بیواؤں پر کبھی رحم نہ کرے گا کیوں کہ ان میں ہر ایک بے دین اور بد کا رہے اور نافرمان ہے ہر ایک جھوٹ بولتا ہے۔
اس لئے اسکا غصہ کم نہیں ہوا اور اس کا ہاتھ اب تک ان لوگوں کے خلاف اٹھا ہوا ہے۔
18 برائی ایک آگ کی مانند جلتی ہے۔ سب سے پہلے یہ کانٹوں اور گھاس پھوس کو نگلتی ہے۔ تب پھر یہ بڑی جھا ڑیوں اور جنگلوں کو جلاتی ہے۔ آخر میں یہ ایک بڑی آگ کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور ہر کچھ دھواں میں اوپر چلی جاتی ہے۔
19 خدا وند قادر مطلق غضبناک تھا اس لئے یہ زمین جل گئی تھی اور لوگ آگ کے لئے ایندھن بن گئے تھے۔ کوئی بھی شخص کسی بھی شخص کے لئے رحم نہیں کھا یا۔ 20 لوگ داہنی طرف سے جو کچھ بھی ہتھیا سکے ہتھیا لئے لیکن پھر بھی وہ لوگ آسودہ نہیں ہوئے تھے۔ اس لئے وہ لوگ اپنے ہی خاندان کے خلاف ہو گئے اور انکے بچوں کو کھا گئے۔ 21 منسی افرائیم اور افرائیم منسی کے خلاف لڑے۔ پھر دونوں یہوداہ کے خلاف لڑے۔
ان تمام کے با وجود خدا وند اب بھی اسرائیل سے ناراض ہے۔ اس کا ہاتھ اب بھی اوپر اٹھا ہوا ہے اور سزا دینے کے لئے تیار ہے۔
1:1+جس1:1نے ۷۶۷۔ ۷۴۰ قبل مسیح میں حکومت کی۔1:1+جس1:1نے۷۴۰۔ ۷۳۵ قبل مسیح میں حکومت کی۔1:1+جس1:1نے۷۳۵۔۷۳۷ قبل مسیح میں حکومت کی۔1:1+جس1:1نے ۷۲۷۔ ۶۸۷ قبل مسیح میں حکومت کی۔1:21+کبھی1:21کبھی یہ اس شخص کا بھی حوا لہ دیتا ہے جو خدا کی پیروی کر نا بند کر دیتا ہے اور اس کے بدلے میں بتوں کی پرستش کر تا ہے۔6:2+خصوصی6:2فرشتے جنہیں خدا پیغام رسانی کے لئے استعمال کر تا ہے نام کے شاید معنی ہیں وہ آ گ کی مانند رو شن ہیں۔6:4+اس6:4سے ظا ہر ہو تا ہے کہ مکان میں خدا تھا۔7:14+اس7:14نام کے معنی ہیں ” خدا ہمارے ساتھ ہے ”