2
اے میرے بھا ئیو اور بہنو! اگر تم ہمارے ذوالجلال خدا وند یسوع مسیح کے ماننے والے ہو تو تہیں طرفداری نہیں کر نی چاہئے۔ تم اس پر غور کرو کہ ایک شخص تو انگلی میں سونے کی انگوٹھی اور عمدہ پو شاک پہنے ہو ئے تمہاری کلیساء میں آئے اور اسی وقت ایک غریب آدمی پرا نے اور گندے کپڑے پہنے ہو ئے آئے۔ تمہاری توجہ پہلے عمدہ لباس کے پہنے ہو ئے آدمی کی طرف ہو تی ہے اور کہتے ہو “تو یہاں اس اچھی جگہ میں بیٹھ” اور اُسی وقت غریب شخص سے کہتے ہو “تو وہاں کھڑا رہ” یا “میرے پاؤں کی چوکی کے پاس بیٹھ۔” “تم یہ کیا کر رہے ہو؟” تم کچھ لوگوں کو دوسروں کی بنسبت اہمیت دے رہے ہو محض اس سے صاف ظا ہر ہے کہ اپنے بُرے خیالات کی بناء پر سمجھتے ہو کہ کون بہتر ہے۔
سنو! اے میرے پیارے بھا ئیو اور بہنو! خدا نے غریب آدمیوں کو ان کے ایمان میں دولت مند چُنا ہے اس لئے کہ وہ بادشاہت حاصل کرنے کے قا بل ہیں جس کا خدا نے اُن لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو اس سے محبت کر تے ہیں۔ لیکن غریب آدمی کے لئے اس کو عزت دینے کے لئے اظہار نہیں کر تے اور تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ دولت مند لوگ ہی وہ ہیں جو تمہیں زندگی میں ستا تے ہیں اور یہی تمہیں عدالتوں میں گھسیٹ کر لے جا تے ہیں۔ اور دولت مند ہی وہ لوگ ہیں جو اس کے معزز نام کے ساتھ بُری باتیں کہتے ہیں جو تمہیں اپناتا ہے۔
ایک شریعت دیگر تمام شریعت پر حاکم ہے۔ یہ بادشاہی شریعت صحیفوں میں ملتی ہے “دوسروں سے ایسی ہی محبت کرو جیسا تم اپنے آپ سے کر تے ہو ۔”
+ 2:8 اِقتِباس احبار ۱۸:۱۹ اگر تم اس شریعت پر عمل کر تے ہو تو تم صحیح کر تے ہو۔ لیکن اگر تم جانب داری کر تے ہو تب پھر تم گناہ کر رہے ہو اور شریعت کی خلاف ورزی میں تم قصور وار ہو۔
10 اگر ایک شخص شریعت کے پو رے احکام پر عمل کر تا ہے لیکن وہ خاص شریعت پر عمل نہیں کر تا۔ تب وہ شریعت کے تمام حکموں کی نا فرمانی کر نے کا قصور وار ہے۔ 11 خدا نے کہا: “زنا نہ کرو” اور یہ بھی کہا “کسی کو ہلاک نہ کرو-” + 2:11 اِقتِباس استثناء ۱۸:۵ خروج ۱۴:۲۰ اگر تم زنا نہیں کر تے ہو لیکن کسی کو ہلاک کر تے ہو تب تم خدا کی شریعت کو توڑ نے والے ٹھہرے۔
12 تم ان لوگوں کی طرح با تیں کر و اور کام بھی کرو جن کا شریعت کے مطا بق انصاف ہو گا۔ 13 تم کو دوسرے لوگوں پر رحم کرنا چاہئے اگر تم دوسروں پر ر حم نہ کرو گے تو پھر خدا بھی انصاف کے دن تمہا رے ساتھ رحم نہ کرے گا اور اگر کو ئی رحم کر ے گا تو فیصلہ کے وقت بلا خوف کے کھڑا رہے گا۔
14 اے میرے بھائیو اور بہنو! اگر کو ئی یہ کہتا ہے کہ وہ ایمان رکھتا ہے لیکن کر تا کُچھ نہیں تو پھر کیا فا ئدہ ہے ؟ کیا ایسا ایمان اسے نجات دے سکتا ہے ؟ نہیں؟ 15 مسیح میں ایک بھا ئی یا بہن کو پہننے کے لئے کپڑوں کی اور پھر کھا نے کے لئے غذا کی ضرورت ہے۔ 16 لیکن تُم ا یسے آدمی سے کہو کہ “خدا تمہا رے ساتھ ہے اور سلامتی کے ساتھ جا ؤ گر م ا ور سیر رہو” مگر جو چیزیں جسم کے لئے ضروری ہیں وہ انہیں نہ دے تو کیا فائدہ؟ 17 یہ سچ ہے ایمان ہے مگر اُس کے ساتھ اعمال نہ ہوں تو ایسا ایمان اپنی ذات سے مُردہ ہے۔
18 کو ئی کہہ سکتا ہے ، “تو ایمان رکھتا ہے لیکن میں عمل کر نے وا لا ہوں۔” تو تُو اپنا ایمان بغیر اعمال کے دکھا اور میں اپنا ایمان عمل کے ذریعہ تجھے دکھا ؤں گا۔ 19 تجھے یقین ہے کہ خدا ایک ہے ٹھیک ہے لیکن شیاطین بھی ایمان رکھتے ہیں اور خوف سے کانپتے ہیں۔
20 اے بے وقوف آدمی کیا تو جانتا نہیں ہے کہ ایمان بغیر عمل کے بیکا ر ہے۔ 21 ہما رے جد اعلیٰ ابراہیم خدا کے پاس راستباز بنا اپنے عمل سے جب اس نے اپنے بیٹے اسحاق کو قربانی کی جگہ پیش کیا۔ 22 تم نے دیکھ لیا ہے کہ ابراہیم کے ایمان اور عمل نے مِل کر کیا اثر کیا ان کا ایمان ان کے عمل سے کامل ہوا۔ 23 اور یہ نوشتہ پوُرا ہوا! “ابراہیم خداپر ایمان لا یا اور خدا نے اس کے ایمان کو قبول کیا”+ 2:23 اِقتِباس پیدائش ۶:۱۵ اور یہ اُس کے لئے راستباز ی گنا گیا اور اس کی وجہ سے وہ “خدا کا دوست ”+ 2:23 اِقتِباس ۲ تواریخ ۷:۲۰ ؛ یسعیاہ ۸:۴۱ کہلایا۔ 24 تو تم نے دیکھا کہ ایک آدمی خدا کے پاس اپنے اعمال سے راستباز ٹھہرا صرف ایمان سے نہیں بلکہ اعمال سے۔
25 دوسری مثال راحب کی ہے راحب ایک فاحشہ تھی لیکن وہ خدا کے پاس اپنے اعمال کی وجہ سے راستباز ٹھہری اپنے اعمال کی وجہ سے اس نے خدا کے مقدس لوگوں کی مدد کی اس نے ان کی اپنے گھر میں خاطر داری کی اور انہیں دوسرے راستے سے فرار ہو نے میں مددکی۔
26 جیسے ایک آدمی کا جسم بغیر رُوح کے مُردہ ہے ویسے ہی ایمان بھی بغیر اعمال کے مُردہ ہے۔