3
اے میرے بھا ئیو اور بہنو! تم میں کئی لوگوں کو معلّم بننے کی خواہش نہ کر نی چاہئے کیوں کہ تم جانتے ہو کہ ہم جو اُستاد ہیں اس کے متعلق ہمیں دوسروں کی نسبت سختی سے حساب دینا ہو گا۔
ہم سبھی کئی غلطیاں کر تے ہیں اگر کو ئی شخص کبھی کو ئی غلط بات نہ کہے تب وہ آدمی کامل ہے ایسا شخص اپنے پو رے جسم پر قابو رکھنے کے قابل ہے۔ ہم گھو ڑے کے منُہ میں اسلئے لگام لگاتے ہیں کہ گھو ڑا ہما رے قابو میں رہے اور ہما ری ہدایت کے مُطا بق عمل کرے گھو ڑے کے مُنہ میں لگام لگانے سے اس کا پورا جسم ہما رے قابو میں رہتا ہے۔ اسی طرح پا نی کا جہا ز بھی ہے جہاز بہت بڑاہو تا ہے جو ہوا کے زور پر چلتا ہے لیکن ایک چھوٹی سی پتوار اس کے چلنے پر قابو کر تی ہے کہ اس کو کس طرف جانا ہے اور پتوار چلانے وا لے آدمی کی مرضی پر اس کو چلایا جا تا ہے۔ اور یہی حال ہماری زبان کا ہے یہ ہما رے جسم کا چھوٹا سا عضو ہے لیکن بڑی شیخی ما رتی ہے۔
ایک بڑے جنگل میں آ گ صرف ایک شعلہ سے شروع ہو تی ہے۔ زبان بھی ایک آ گ کی مانند ہے جو بُرائی کی ایک دُنیا ہے اور ہمارے جسم کے ہر حصّہ پر اثر انداز ہو تی ہے زبان آ گ لگا تی ہے جو زندگی پر اثر کر تی ہے اور شعلے جہنم کی آ گ سے نکلتے ہیں۔
لوگ ہر قسم کے جنگلی جانوروں، پرندے، رینگنے والے جانور، اور مچھلیوں کو پالتے ہیں۔ حقیقت میں یہ سب لوگوں کی پالتو چیزیں ہیں۔ لیکن زبان کو کو ئی بھی آدمی قابو میں نہیں کر سکتا زبان غیر مستحکم اور بری ہے۔ یہ نہایت زہریلی ہے جو ہلاک کر سکتی ہے۔ ہم زبان کو صرف ہما رے خداوند اور باپ کی تمجید کے لئے استعمال کر تے ہیں۔ اور اِسی سے آدمیوں کو جو خدا کی صورت پر پیدا ہوئے ہیں بد دُعا دیتے ہیں۔ 10 تعریفیں اور بد کلمات اسی مُنہ سے نکلتے ہیں میرے بھا ئیو اور بہنو! ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ 11 کیا ایک ہی چشمے سے میٹھا اور کھارا پانی نکلتا ہے؟ نہیں! 12 میرے بھا ئیو اور بہنو! کیا ایک انجیر کے درخت پر زیتون اُگتے ہیں؟ کیا انگور میں انجیر پیدا ہو سکتے ہیں؟نہیں! اسی طرح ہم ایک کھا رے پانی کے چشمہ سے میٹھا پانی نہیں نکال سکتے۔
13 کیا تم میں کو ئی ایسا آدمی ہے جو عقلمند اور تعلیم یافتہ ہو ؟ تو پھر اس کو اپنی عقلمندی کو نیک چال و چلن کے ذریعے اس عاجزی کے ساتھ ظا ہر کرے جو حکمت سے پیدا ہو تا ہے۔ 14 لیکن اگر تم خود غرض ہو اور تمہا رے دل میں شدید حسد ہو تو تمہیں شیخی کرنے کی کو ئی وجہ نہیں تمہا ری شیخی ایک جھوٹ ہے جو سچائی کو چھپا تی ہے۔ 15 اس قسم کی “دانائی” خدا کی طرف سے نہیں آتی یہ تو دُنیا کی طرف سے ہے یہ رُوحانی نہیں بلکہ شیطان کی طرف سے ہے۔ 16 جہاں حسد اور خود غرضی ہو وہاں بے ضابطگی اور ہر قسم کی بُرا ئی ہے۔ 17 لیکن جو حکمت اُوپر سے آتی ہے پہلے یہ پاک ہے پھر پُر امن۔ نرم اور وسیع ذہن آسانی سے قبول کر نے والی نئی سچّا ئی یہ رحم سے بھر پور نیک عمل کر نے اور دوسروں کے ساتھ ایماندار اور غیر جانب دار رہتی ہے۔ 18 جو لوگ امن کے لئے پُر امن طریقےسے کام کر تے ہیں وہ راستبازی کے ذریعہ اچھی چیزوں کو پا تے ہیں۔