19
خداوند نے موسیٰ سے کہا ، “بنی اسرائیلیوں کی تمام جماعتوں کو کہو کہ میں خداوند تمہا را خدا ہوں میں پاک ہوں اس لئے تمہیں بھی پاک ہو نا چا ہئے۔
“تم میں سے ہر ایک کو اپنے ماں باپ کی تعظیم کر نی چا ہئے اور میرے سبت کے دنوں پر عمل کرنی چا ہئے۔ میں خداوند تمہا را خدا ہوں۔
“بُتوں کی پرستش مدد کے لئے مت کرو اپنے لئے گلا کر دھات کی مورتیاں مت بنا ؤ۔ میں خداوند تمہا را خدا ہوں۔
جب تم خداوند کو ہمدردی کی قربانی چڑھا ؤ تو اسے اس طریقے سے پیش کرو کہ یہ قبول کی جا ئے گی۔ ہو سکتا ہے تم قربانی کا گوشت قربانی پیش کر نے کے دن اور دوسرے دن بھی کھا ؤ۔ اگر اس کا کو ئی بھی حصّہ تیسرے دن تک رکھا جا تا ہے تو اسے آ گ میں جلا دینا چا ہئے۔ اگر کسی بھی قربانی کو تیسرے دن کھا یا جا تا ہے تو وہ برباد ہے اور نا مقبول ہے۔ اگر کو ئی شخص اسے کھا تا ہے تو وہ اپنا گنا ہ خود اپنے سرا ٹھا ئیگا۔ کیو نکہ اُس نے خداوند کی مقدس چیزوں کی تعظیم نہیں کی۔ اس طرح کے شخص کو اپنے لوگوں سے الگ کر دیا جا ئے گا۔
“جب فصل کٹنے کے لئے تیار ہو جا ئے تو فصل کو کھیت کے چاروں طرف کونوں تک مت کا ٹو۔ اور جواناج زمین پر گِر چُکا ہے اسے جمع مت کرو۔ 10 اپنے انگور کے با غ کے سبھی انگوروں کو مت توڑو اور جو انگور زمین پر گر گئے ہیں اسے جمع مت کرو۔اسے غریب لوگوں اور غیر ملکیوں کے لئے جو کہ تمہا رے درمیان رہتے ہیں چھو ڑ دو۔ میں خداوند تمہا را خدا ہو ں۔
11 “تمہیں چوری نہیں کرنی چا ہئے۔ تمہیں لوگوں کو نہیں ٹھگنا چا ہئے۔ تمہیں اپنے گا ؤں وا لوں کے با رے میں جھو ٹ نہیں بولنا چا ہئے۔ 12 تمہیں میرے نام پر جھو ٹی قسم نہیں کھا نی چا ہئے۔ کیو نکہ یہ میرے نام کو رُسوا کرتا ہے۔ تمہیں اپنے خداوند کے نام کی تعظیم کر نی چا ہئے میں خداوند ہو ں۔
13 “تمہیں اپنے پڑوسی کو دھو کہ نہیں دینا چا ہئے۔ تمہیں اُسے لو ٹنا نہیں چا ہئے۔ تمہیں مزدوروں کی مزدوری دوسرے دن صبح تک نہیں روکنی چا ہئے۔ 19:13 تمہیں ․․․ رو کنی چا ہئےدن
14 تمہیں کسی بہرے آدمی کو بددُعا نہیں دینی چا ہئے۔ تمہیں کسی اَ ندھے کو گِرانے کے لئے اُس کے سامنے رُکا وٹ کی کو ئی چیز نہیں رکھنی چا ہئے۔ لیکن تمہیں اپنے خداوند کا خوف کرنا چا ہئے میں خداوند ہوں۔
15 “اوندھی انصاف نہ کرو۔ تمہیں نہ غریب کی طرفداری اور نہ ہی دولتمندوں کی ہمدردی کر نی چا ہئے۔ تمہیں اپنے پڑوسی کے ساتھ انصاف کر تے وقت ایماندار ہو نا چا ہئے۔ 16 تمہیں اپنے لوگوں کے بیچ افوا ہیں نہیں پھیلا نی چا ہئے۔ کا ہل کے جیسے کھڑے مت رہو جب تمہا رے پڑوسی کی زندگی خطرے میں ہو۔ میں خداوند ہو ں۔
17 “تم اپنے دل میں اپنے بھا ئیوں سے نفرت نہ کرو۔ اگر تمہا را پڑوسی کچھ بُرا کر تا ہے تو اُس کی غلطی کے متعلق اُ سکے رو برو بات کرو۔ تا کہ تم اس کے گنا ہ کے ذمّہ دار نہ ہو ۔ 18 اگر لوگ تمہا را بُرا کریں تو اس کے خلا ف بدلہ لینے کی کو شش نہ کرو۔ اور نہ ہی بغض رکھو۔ اپنے پڑوسی سے اُسی طرح محبت کرو جیسے اپنے آپ سے کر تے ہو۔ میں خداوند ہو ں۔
19 “تمہیں میری شریعت کی تعمیل کر نی چا ہئے۔ دوقسم کے جانوروں کو آپس میں تولید کے لئے اختلاط نہ کرا ؤ۔ تمہیں ایک ہی کھیت میں دو قسم کے بیج نہیں بو نی چا ہئے۔ تمہیں دوقسم کی چیزوں کی ملا وٹ سے بنے لباس کو نہیں پہننا چا ہئے۔
20 “اگر کو ئی شخص کسی غلام لڑکی سے جو کسی شخص کی منگیتر ہو اس سے جنسی تعلق قا ئم کرتا ہے ، لیکن وہ غلام لڑکی نہ تو کبھی خریدی گئی ہو اور نہ ہی آزاد کی گئی ہو تو انہیں سزا ملنی چا ہئے۔ لیکن وہ ما ری نہیں جا ئے گی کیو نکہ وہ ایک آزا د عورت نہیں ہے۔ 21 اس آدمی کو گنا ہ کے نذرانہ کے طور پر خیمٴہ اجتماع کے دروازے پر خدا وند کے لئے ایک مینڈھا قربانی دینی چا ہئے۔ 22 کا ہن اس کے لئے ، اس کے گنا ہوں کے
لئے جو اس نے کیا ہے اس کے کفّارہ کی ادا ئیگی کے لئے یہ چیز کرے گا۔ وہ گنا ہ کی قربانی کے طور پر مینڈھے کو چڑھا ئے گا۔ تب وہ شخص اپنے گنا ہوں کے لئے معاف کیا جا ئے گا۔
23 “مستقبل میں جب تم اپنے ملک میں دا خل ہو گے۔ اس وقت تم اپنے کھانے کے لئے درخت لگا ؤ گے۔ تب ان کے پھلوں کو کھانے کے لئے تمہیں تین سال تک انتظار کرنا چا ہئے۔ تمہیں اُس مدّت سے پہلے ان کے پھلوں کو نہیں کھا نا چا ہئے۔ اسے تمہیں بیکار کا پھل تصور کرنا چا ہئے۔ 24 چوتھے سال سارے پھل جو اس درخت پر ہو گا اسے خداوند کے لئے حمد کا نذرانہ سمجھنا چاہئے۔ 25 تب پانچویں سال تم اُس درخت کا پھل کھا سکتے ہو تا کہ پیداوار بڑھیگی۔ میں خداوند تمہا را خدا ہوں۔
26 “تمہیں گوشت کو اُس میں خون رہنے تک نہیں کھانا چاہئے۔” تمہیں کا لا جا دو یا جا دو گری کی مشق نہیں کر نا چا ہئے۔
27 “تمہیں اپنے سر کے بغل کے بڑے بالوں کو نہیں کٹوا نا چا ہئے۔ تمہیں اپنی داڑھی کے کنا رے نہیں کٹوا نا چا ہئے۔ 28 کسی مرے ہوئے شخص کے لئے ماتم کرنے کے لئے تمہیں اپنے جسم کے حصّوں کو نہیں کاٹنا چاہئے۔ تمہیں اپنے جسم پر کوئی نشان کھودنا نہیں چاہئے۔ میں خدا وند ہوں
29 “تم اپنی بیٹیوں کو طوا ئف مت بناؤ اس لئے کہ تم ان کو ناپاک کر دوگے۔ تمہارا ملک طوائف گردی میں بدل جائے گا اور دہشت سے بھر جائے گا۔
30 “تمہیں میرے سبت کے دنوں میں کام نہیں کرنا چاہئے۔ تمہیں میری مقدس جگہ کی تعظیم کرنا چاہئے۔ “میں خدا وند ہوں۔ ”
31 “ساحروں اور بد روحوں سے کام لینے والوں کے پاس مشورہ کے لئے نہیں جانا چاہئے ورنہ تم انکی وجہ سے ناپاک ہوجاؤ گے “میں خدا وند تمہارا خدا ہوں۔ ”
32 “بوڑھے لوگوں کی عزت کرو۔ جب وہ کمرے میں آئیں تو تمہیں کھڑے ہوجانا چاہئے۔ اپنے خدا کی تعظیم کرو۔ “میں خدا وند ہوں۔”
33 “اپنے ملک میں رہنے والے غیر ملکیوں کے ساتھ بُرا سلوک نہ کرو۔ 34 تمہیں غیر ملکیوں کے ساتھ اسی طرح برتاؤ کرنا چاہئے جیسا تم اپنے شہریوں کے ساتھ کرتے ہو۔ تم غیر ملکیوں سے اسی طرح پیار کرو جیسا اپنے سے کرتے ہو۔ کیوں کہ تم بھی ایک وقت مصر میں غیر ملکی تھے۔ “میں خدا وند تمہارا خدا ہوں۔ ”
35 “تمہیں چیزوں کی لمبائی ، وزن اور جسامت ناپتے وقت بے ایمان نہیں ہونا چاہئے۔ 36 تمہارے ترازو ، باٹ اور ٹو کریاں خشک چیزوں کو ناپنے کے لئے ٹھیک ہونا چاہئے۔ اور رقیق کو ناپنے کے لئے ناپ ٹھیک ہونا چاہئے۔ میں خدا وند تمہارا خدا ہوں جو تم کو ملک مصر سے باہر لایا۔
37 “تمہیں میرے تمام اصولوں اور انصاف کو یاد رکھنا چاہئے اور تمہیں ان کی تعمیل کرنی چاہئے۔ “میں خدا وند ہوں ! ”
14:10+یہ14:10لگ بھگ ایک پا ؤ لیٹر کے برا بر ہے-16:1+دیکھیں16:1احبار ۱۰ :۱۔۱۲16:8+اس16:8لفظ یا نام کا معنی نا معلوم ہے۔ ایسا معلوم ہو تا ہے کہ بکرا لوگوں کے گنا ہوں کو لے کر چلا گیا۔18:8+اُس18:8کا مطلب سوتیلی ماں-18:21+جھو18:21ٹا خدا ، لو گ اکثر اپنے بچوں کو مولک کی پر ستش کے لئے ماردیا کر تے ہیں۔19:13+دن19:13کے ختم ہو نے پر مزدور کو اُس کی مزدوری تمام کی تما م دینا چا ہئے۔ دیکھو متّی ۲۰:۱۔۱۳