4
خداوند نے موسیٰ سے کہا : “بنی اسرائیلیوں سے کہو اگر کو ئی شخص غیر ارادی طور پر گناہ کر لیتا ہے جس کو خداوند کے حکم کے مطا بق نہیں کر نا چاہئے۔ تو اُ سے یہ چیزیں کر نی چاہئے :
“اگر ایک منتخب کا ہن کو ئی ایسا گناہ کر تا ہے جو لوگوں کو قصوروار بنا دیتا ہے ، تب اسے خداوند کو گنا ہ کے نذرانے کے طور پر قربانی پیش کر نا چاہئے۔اسے ایک سانڈ خدا وند کو پیش کرنا چاہئے اور یہ بے عیب ہونا چاہئے۔ یہ خدا وند کے لئے گناہ کا نذرانہ ہوگا۔ منتخب کاہن کو اُس سانڈ کو خدا وند کے سامنے خیمہٴ اجتماع کے دروازے پر لانا چاہئے۔ اُسے اپنا ہاتھ اس بچھڑے کے سر پر رکھنا چاہئے اور خدا وند کے سامنے اسے ذبح کر نا چاہئے۔ تب منتخب کاہن کو بچھڑے کا خون لینا چاہئے اور خیمہٴ اجتماع میں لے جانا چاہئے۔ تب کاہن کو اپنی انگلیاں خون میں ڈبونی چاہئے اور خدا وند کے سامنے مقدس ترین پردے کی جگہ کے آگے خون کو سات دفعہ چھڑکنا چاہئے۔ کاہن کو کچھ خون لوبان جلانے کی قربان گاہ کے کونوں پر لگانا چاہئے۔ یہ خدا وند کے خیمہٴ اجتماع میں ہے۔ کاہن کو بچا ہوا خون جلانے کے نذرانے کی قربان گاہ کی بنیاد پر ڈالنا چاہئے جو کہ خیمہٴ اجتماع کے دروازوں پر ہے۔ اور اسے گناہ کے نذرانہ کے سانڈ کی تمام چربی کو نکال لینا چاہئے۔ اسے اندرونی حصوں کے اوپر اور اسکے چاروں طرف کی چربی کو بھی نکال لینی چاہئے۔ اسے دونوں گردوں اور اسکے اوپر کی چربی اور پٹھے پر کی چربی کو بھی نکال لینا چاہئے۔ اسے کلیجہ پر کی جھلّی کو بھی گردوں کے ساتھ نکال لینا چاہئے۔ 10 جب یہ ساری چیزیں ہمدردی کے نذرانے کے سانڈ سے نکال لی جاتی ہیں تو کاہن کو انہیں جلانے کے نذرانے کے قربان گاہ پر پیش کرنا چاہئے۔ 11 لیکن کاہن کو سانڈ کا چمڑا ، سر سمیت اس کا تمام گوشت ، پیر، اندرونی حصّہ اور گوبر ، 12 یعنی کہ یہ سانڈ کا پورا جسم خیمہ کے باہر کھلی ہوئی صاف جگہ میں جہاں پر راکھ پھینکا جاتا ہے لانا چاہئے۔ یہ تمام چیزیں راکھ کے ڈھیر پر جلاون کی لکڑی پر جلانا چاہئے۔
13 “ایسا ممکن ہے کہ پورے ملک اسرائیل سے انجانے میں کوئی ایسا گناہ ہوجائے جسے نہ کرنے کا حکم خدا وند نے دیا ہو۔ اس طرح سے وہ قصوروار سمجھا جائے گا۔ 14 جب اسے بعد میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ گناہ کیا ہے۔ تو پورے ملک کے لئے ایک سانڈ گناہ کے نذرانے کے طور پر قربانی کرنی چاہئے۔ انہیں اسے خیمہٴ اجتماع کے سامنے لانا چاہئے۔ 15 بزرگوں کو خدا وند کے سامنے سانڈ کے سر پر اپنے ہاتھ رکھنے چاہئے۔ انہیں خدا وند کے سامنے سانڈ کو ذبح کرنا چاہئے۔ 16 تب منتخب کاہن کو سانڈ کا کچھ خون خیمہٴ اجتماع میں لانا چاہئے۔ 17 کاہن کو اپنی انگلیاں خون میں ڈبونی چاہئے اور پردے کے آگے سات بار خون کو خدا وند کے سامنے چھڑکنا چاہئے۔ 18 تب کاہن کو کچھ خون قربان گاہ کے کونوں پر رکھنا چاہئے وہ قربان گاہ خیمہٴ اجتماع میں خدا وند کے سامنے ہے۔ کاہن کو بچا ہوا خون جلانے کی قربان گاہ کی بنیاد پر ڈالنا چاہئے۔ وہ جلانے کے نذرانے کی قربان گاہ ہے جو خیمہٴ اجتماع کے دروازے کے سامنے ہے۔ 19 پر کاہن کو جانور کی تمام چربی نکال لینی چاہئے اور اسے قربان گاہ پر پیش کرنا چاہئے۔ 20 اس سانڈ کے ساتھ ویسا ہی کیا گیا ہے جیسا کہ گناہ کے نذرانے کی قربانی پیش کئے گئے سانڈ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اس سانڈ کے ساتھ ایسا ہی کیا جائے گا۔ اس طرح سے کاہن انکے لئے کفارہ دے۔ ان لوگوں کے لئے اس کو معاف کیا جائے۔ 21 کاہن سانڈ کو چھاؤنی سے باہر لے جائے گا اور اسے وہاں جلائے گا جیسا کہ اس نے پہلے سانڈ کو جلایا تھا۔ یہ پوری جماعت کے گناہ کا نذرانہ ہے۔
22 “ممکن ہے کہ کوئی حاکم انجانے میں گناہ کر سکتا ہے جسے خدا وند کے حکم کے مطابق نہیں کرنا چاہئے تھا۔ اس حالت میں حاکم بھی قصوروار ہے۔ 23 جب اسے یہ پتا چلے گا کہ اس نے گناہ کیا ہے تو اسے ایک بکرا جو کہ بے عیب ہو لانا چاہئے۔اور یہ اس کا نذرانہ ہوگا۔ 24 حاکم کو بکرے کے سرپر اپنا ہاتھ رکھنا چاہئے اور اسے اس جگہ پر ذبح کرنا چاہئے۔ جہاں وہ جلانے کی قربانی کو خدا وند کے سامنے ذبح کرتے ہیں۔ بکرے کی قربانی ایک گناہ کا نذرانہ ہے۔ 25 “کاہن کو گناہ کے نذرانے کا کچھ خون اپنی انگلیوں میں لینا چاہئے اور اسے جلانے کے نذرانے کی قربان گاہ کے سینگوں پر رکھنا چاہئے۔ کاہن کو باقی بچے خون جلانے کی نذرانے کی قربان گاہ کی بنیاد میں ڈالنا چاہئے 26 کاہن کو پوری چربی قربان گاہ پر ہمدردی کے نذرانے کے طریقے پر جلانا چاہئے۔ اس طرح سے کاہن اس کے لئے اس کے گناہ کا کفارہ ادا کرتا ہے اور اس کا گناہ معاف کر دیا جاتا ہے۔
27 ممکن ہے عام رعایا میں سے کوئی شخص انجانے میں گناہ کر سکتا ہے جسے خدا وند نے نہ کرنے کا حکم دیا ہو۔ اور وہ قصور وار ہوجاتا ہے۔ 28 جب اس کو گناہ کا پتا چلے گا۔ تو وہ ایک بے عیب بکری لائے۔ یہ انکے گناہ کے لئے نذرانہ ہوگا۔ 29 اسے اپنا ہاتھ اس جانور کے سر پر رکھنا چاہئے۔ اور جلانے کی قربانی کی جگہ پر اسے ذبح کرنا چاہئے۔ 30 تب کاہن کو اس بکری کا کچھ خون اپنی انگلی پر لینا چاہئے اور اسے جلانے کے نذرانے کے قربان گاہ کی سینگوں پر چھڑکنا چاہئے۔ کاہن کو قربان گاہ کی بنیاد پر بکری کا باقی تمام خون اُنڈیلنا چاہئے۔ 31 پھر کاہن کو بکری کی تمام چربی اسی طرح نکالنی چاہئے جس طرح ہمدردی کے نذرانہ سے نکالی گئی تھی۔ تب کاہن کو اسے قربان گاہ پر جلانا چاہئے۔ اس کی بُو خدا وند کو خوش کر تی ہے۔ اس طرح کاہن اس کے لئے کفارہ ادا کرتا ہے۔ اور اس کے گناہ کو معاف کیا جاتا ہے۔
32 اگر کوئی شخص گناہ کے نذرانہ کے طور پر ایک میمنہ لاتا ہے تو اسے مادہ میمنہ لانا چاہئے جس میں کوئی عیب نہ ہو۔ 33 اس شخص کو اس کے سر پر اپنا ہاتھ رکھنا چاہئے اور اسے اس جگہ پر گناہ کے نذرانہ کے طور پر ذبح کرنا چاہئے۔ جہاں وہ جلانے کی قربانی کے جانور کو ذبح کئے۔ 34 کاہن کو اپنی انگلی پر گناہ کے نذرانے کا خون لینا چاہئے اور اسے جلانے کی قربان گاہ کے سینگوں پر چھڑکنا چاہئے۔ تب اسے باقی بچے ہوئے تمام خون کو قربان گاہ کی بنیاد پر اُنڈیلنا چاہئے۔ 35 کاہن کو تمام چربی اسی طرح لینی چاہئے جس طرح ہمدردی کی قربانی کے میمنہ کی چربی لی گئی تھی۔ تب کاہن ان تمام چیزوں کو خدا وند کے لئے تحفہ کے طور پر قربان گاہ پر جلائے۔ اس طرح کاہن اس کے گناہوں کا جو اس نے کیا تھا کفارہ ادا کر تا ہے اور اسکے گناہ کو معاف کر دیا جاتا ہے۔