26
جس طرح برف کا گرمی میں گرنا اور فصل کٹا ئی پر بارش کا آنا اسی طرح سے بے وقوف کو عزت دینا صحیح نہیں ہے۔
بلا سبب لعنت بے مقصد اڑتی ہو ئی آوارہ گوریّا اور اڑتی ہو ئی ابا بیل کی مانند ہے جو کبھی آرام سے نہیں رہتا۔
گھوڑے کے لئے چابک اور خچر کے لئے لگام اور احمق کے لئے چھڑی ہے۔
بے وقوف کی باتوں کا جواب اسکی بے وقوفی کے مطابق مت دو ورنہ تم بھی اسکی مانند ہو جا ؤ گے۔
احمق کے احمقانہ بات کا جواب اسی کے مطابق دے ورنہ وہ اپنے آپ کو عقلمند سمجھے گا۔
احمق کے ذریعہ پیغام بھیجنا ایسا ہے جیسے اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنا یا تکلیفوں کو دعوت دینا۔
احمق کے منہ میں مَثل( کہاوت ) ایسی ہے جیسے کسی لنگڑےشخص کا لڑ کھڑا تا ہوا پاؤں۔
احمق کی عزت کرنا ایسا ہی ہے جیسے غلیل میں پتھر رکھنا۔
احمق کے منہ میں مثل ( کہاوت ) شرابی کے ہا تھ میں چُبھنے وا لے کانٹے کی جھاڑی کی مانند ہے۔
10 بے وقوفوں یا راہ گذروں کو مزدوری پر لے نا اس تیر انداز کی مانند ہے جو یونہی زخمی کر تا ہے۔
11 جس طرح کتا کچھ کھا کر بیمار ہو جا تا ہے اور قئے کر تا ہے اور پھر اسی کو کھاتا ہے ویسے ہی بے وقوف بھی اپنی بے وقوفی بار بار دہراتا ہے۔
12 کیا تو ایسے شخص کو جانتا ہے جو اپنے آپ کو عقلمندسمجھتا ہے ؟ ا سکے مقابلہ میں ایک احمق کے لئے زیادہ امید ہے۔
13 کا ہل کہتا ہے، “راستے میں شیر ببر کھڑا ہے۔ایک باگھ ( شیر ) گلیو ں میں گھوم رہا ہے !”
14 جس طرح سے ایک دروازہ قبضو ں پر گھومتا ہے اسی طرح ایک کا ہل شخص اپنے بستر پر کر وٹ بدلتا ہے۔
15 ایک کا ہل شخص اپنا ہا تھ تھالی میں ڈالتا ہے لیکن وہ اتنا کا ہل کہ اپنا ہا تھ اپنے منہ میں نہیں لا تا ہے۔
16 ایک کا ہل شخص اپنے آپ کو عقلمند سمجھتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ وہ سات عقلمند آدمی جو کہ پر اثر جواب دے سکتا ہے ا س سے بہتر اور زیادہ چالاک ہے۔
17 جب تم ایسے جھگڑے میں شامل ہو جس کا کہ تم سے کو ئی مطلب نہیں ہے تو یہ کتّے کے کان کو پکڑنے کی مانند ہے۔
18-19 جو شخص اپنے پڑوسی کو فریب دے کر یہ کہے کہ وہ تو صرف مذاق کر رہا تھا تو اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کو ئی پاگل آدمی بری طرح سے جلی ہو ئی تیر کو چھوڑتا ہے۔
20 جس طرح بغیر لکڑی کے آگ بجھ جا تی ہے اسی طرح بغیر کانا پھوسی کے جھگڑا ختم ہو جا تا ہے۔
21 جس طرح سے کو ئلہ انگاروں کو اور لکڑی آگ کو بھڑکا تی ہے اسی طرح جھگڑا لو جھگڑے کو بھڑکا تا ہے۔
22 غیبت کرنے وا لے کی باتیں مزید ار کھانے کی طرح سے جو پیٹ میں نیچے اتر تا ہے۔ 23 شریروں کی نرم باتیں اس کے برے ارادے کو چھپاتی ہیں ، یہ مٹی کے برتن کو چاندی کے ورق سے ڈھکنے کی مانند ہے۔
24 شریر آدمی اپنی باتوں سے اپنے آپ کو چھپا تا ہے لیکن اس کے اندر دھو کہ چھپا رہتا ہے۔
25 وہ اس کی باتیں پُر کشش معلوم ہو تی ہیں لیکن ان پر بھروسہ نہ کرو۔اس کے دل میں برا ئی بھری ہے۔
26 وہ اپنے برے منصوبوں کو عمدہ الفاظ سے چھپا تا ہے ،لیکن اس کی برائی کو اجلاس میں فاش کر دی جا ئے گی۔
27 جو شخص گڑھا کھو دتا ہے وہ خود اس گڑھے میں گر جا ئے گا۔
28 دھو کہ باز زبان اس سے نفرت رکھتی ہے جن کو اس نے نقصان پہنچا یا ہے۔اور چاپلوسی باز منہ تباہی لانا چا ہتا ہے۔
22:6-23:3+اسکا23:3مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ میزبان (حکمراں) اپنے مہمان سے کچھ لینے کی خواہش رکھتا ہے اسلئے وہ اس کو فینسی کھا نا پیش کرتا ہے۔ اس کا ارادہ سچ نہیں ہے لیکن چال باز، دھو کہ باز ہے۔