زبُور 88
موسیقی کے ہدا یت کا ر کے لئے بنی قورح کا ستائشی نغمہ درد ناک بیما ری کے با رے میں ہیمان ِ ازرا خی کا مشکیل
اے خداوند میرے نجات دینے وا لے خدا !
میں نے رات دن تیرے حضور فریاد کی ہے۔
مہربانی کر کے میری فریاد پر دھیان دے۔
مجھ پر رحم کر نے کے لئے میری دعا سُن۔
میں اپنے دکھ اور مصیبتوں سے تنگ آچکا ہوں۔
میں بہت جلد مروں گا۔
میں گور میں اترنے وا لوں کے ساتھ گنا جا تا ہوں۔
لوگ مجھے اس شخص کی مانند سمجھتے ہیں جو جینے کے لئے نہا یت ہی کمزورہیں۔
مجھے مرے ہو ئے لوگوں میں ڈھونڈ،
میں اُس مُردے جیسا ہوں جو قبر میں لیٹا ہے۔
مرے ہو ئے میں سے ایک کو جسے تُو بھول گیا،
تجھ سے اور تیری نگہداشت سے علٰحدہ کر دیا۔
اے خدا ! تو نے مجھے زمین کے نیچے قبر میں سُلا دیا۔
تو نے مجھے اُس اندھیری جگہ میں رکھ دیا۔
اے خدا ! تجھے مجھ پر غصّہ تھا، اور تو نے مجھے سزا دی۔
 
مجھ کو میرے دوستوں نے چھوڑدیا ہے۔
وہ مجھ سے بچتے پھرتے ہیں۔ جیسے میں کو ئی ایسا شخص ہوں جس کو کو ئی بھی چھُونا نہیں چاہتا۔
گھر کے ہی اندر قیدی بن گیا ہوں۔ میں باہر تو جا ہی نہیں سکتا۔
میری دکھو ں اور مصیبتوں کے لئے روتے روتے میری آنکھیں دُھند لا گئیں ہیں۔
اے خداوند میں نے ہر روز تجھ سے دعا کی ہے۔
تیری جانب میں نے اپنے ہا تھ پھیلا ئے ہیں۔
10 اے خدا! کیا تو مرے ہو ئے لوگوں کے لئے معجزے دکھا ئے گا؟
کیا بھو ت زندہ اٹھا کرتے ہیں اور تیری تعریف کر تے ہیں ؟نہیں!
 
11 مَرے ہو ئے لوگ اپنی قبروں میں تیری وفا داری کی باتیں نہیں کر سکتے۔
مرے ہو ئے لوگ موت کی دنیا کے اندر تیری وفا داری کی باتیں نہیں کر سکتے۔
12 اندھیرے میں پڑ ے ہو ئے مرے لوگ ان حیرت انگیز باتوں کو جن کو تو کرتا ہے نہیں دیکھ سکتے ہیں۔
مرے ہو ئے لوگ فراموشی کی دنیا میں تیری شفقت کی با تیں نہیں کر سکتے۔
13 اے خدا وند!میری دہا ئی ہے مجھ کو سہا را دے!
ہر صبح میں تیرے حضور دعا کرتا ہوں۔
14 اے خداوند! کیا تو نے مجھ کو چھوڑدیا؟
کیوں تو نے مجھے سننے سے انکا ر کر دیا؟
15 بچپن سے میں کمزور اور بیمار تھا۔
میں نے بچپن سے ہی تیرے قہر کو سہا۔ میرا سہا را کو ئی بھی نہیں رہا۔
16 اے خدا! تو مجھ پر غضبنا ک ہے ،
اور تری سزا مجھ کو ما ر رہی ہے۔
17 مجھے ایسا لگتا ہے ،جیسے مصیبتیں اور دکھ ہمیشہ میرے ساتھ ہیں۔
مجھے محسوس ہے کہ میں دکھوں اور دردوں میں ڈوبا جا رہا ہوں۔
18 اے خداوند! تو نے میرے عزیز لوگوں اور دوستوں کو مجھے چھوڑ نے پر مجبور کیا۔
اسلئے کہ وہ مجھے چھوڑ دیں۔ میرے ساتھ اب صرف اندھیرا رہتا ہے۔
3:7+لوگ3:7اُس وقت کہتے جب وہ “معاہدہ کا صندوق” اٹھا تے اور اسے اپنے ساتھ جنگ کے میدان میں لے آتے اس سے یہ ظا ہر کرنا کہ خدا ان کے ساتھ ہے۔3:8+یا3:8” ایک گیت جو داؤد کو وقف کیا گیا تھا۔4:5+مناسب4:5قربانی پیش کر۔5:5+زیادہ5:5تر ان لوگوں کے بارے میں کہا جا تا ہے جو خدا پر اعتماد اور یقین نہیں رکھتے۔ اس سے ظاہر ہو تا ہے کہ وہ احمق اور بدکردار ہیں۔5:12+یہ5:12ایک خصوصی آلہ ہو گا ، ایک خصوصی طرز کے ساتھ آلہ یا ایک گروہ جو عبادت گاہ میں موسیقی کا کام انجام دیتا ہے۔15:5+مکتام15:5کا صحیح معنی واضح نہیں ہے۔ شاید اس کا معنی ایک بہترین ترتیب کا گیت ہوگا۔ یہ گیت ہو سکتا ہے داؤد نے لکھا ہو گا یا ان سے منسوب ہے18:2+خدا18:2کا نام ، اس نام سے ظا ہر کیا جاتا ہے کہ خدا حفاظت کی محفوظ جگہ ہے۔18:2+ایک18:2عمارت یا حفاظت کے لئے اونچے اور مضبوط دیواروں سے گھرا ہو ا شہر۔21:13+اس21:13نغمہ کے لئے یہ ایک دُھن ہے۔ لیکن شاید یہ ایک قسم کے آلہ کا حوالہ ہے۔22:7+یہ22:7علامتیں ہیں جو لوگوں کی مایوسی ، نفرت یا شرمندگی کو ظاہر کرتے ہیں29:6+یا29:6”حرمون پہا ڑ۔”31:24+مشکیل31:24کا صحیح مفہوم وا ضح نہیں ہے۔ شاید اس کے معنی ”مراقبے کی نظم” مشورے کی نظم ” یا فنکارانہ طور پر لکھی ہو ئی نظم ہے ”45:7+خوشی45:7کا تیل اپنے اوپر اور اپنے دوستوں پر ڈال۔ یہ ایک خاص تیل ہے جو بادشاہوں کو ، کاہنوں کو اور پیغمبروں کو مسح کر نے کے لئے خدا کی ہیکل میں رکھا جا تا ہے۔58:10+حقیقتًا58:10”وہ اپنے پا ؤں شریر لوگوں کے خون سے دھو ئے گا۔59:9+یا59:9”میری طاقت، میں تیری اُمید کر رہا ہوں”59:13+تب59:13لوگ جانیں گے کہ خدا یعقوب اور ساری سلطنت پر حکومت کر ے گا۔71:24+یہ71:24گیت سلیمان کے ذریعہ ترتیب دیئے گئے ہوں گے یا اس کے لئے مخصوص کئے گئے ہوں گے یا خاص گیتوں کے مجموعے سے لئے گئے ہوں گے -73:24+یا73:24” تو احترام کے بعد میری رہنمائی کر۔74:14+یہ74:14شاید ایک بہت بڑا سمندری دیو ہو گا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مگر مچھ ہے۔ دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ سمندری عفریت( دیو) ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ جادوگر اس کی مدد سے سورج گرہن پیدا کر تے ہیں۔78:9+پرندوں78:9کے شکار کے لئے استعمال کی جانے وا لی ایک مڑی ہو ئی چھڑی۔ اگر اسے سیدھی پھینکی جا ئے تو سیدھی اڑ کر زمین کی جانب نیچے آتی ہے پھر اچا نک ہوا میں او پر اٹھتی ہے اور کبھی کبھی پھینکنے والے کی طرف واپس آجا تی ہے۔ ادبی زبان میں ”پھینکی جانے والی کمان ”یا” آنکھوں کو دھو کہ دینے والی کمان ”کہلا تی ہے۔82:1+دیگر82:1مما لک تعلیم دے رہے تھے کہ ایل اور دیگر معبود زمین پر رہنے والے لوگوں کے بارے میں گفتگو کر نے کے لئے اکٹھا ہو ئے۔ کئی مرتبہ بادشا ہوں اور رہنما بھی خدا کہلا ئے اس لئے یہ زبور شاید اسرائیل کے رہنماؤں کے لئے خدا کی ایک تنبیہ ( آگاہی ) ہو۔82:5+اس82:5کے معنیٰ یہ ہو سکتے ہیں وہ غریب لوگ نہیں سمجھتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔