2
پس میرے دوست انصاف کر نے والے چا ہے کو ئی بھی ہو تیرے پاس کو ئی عذر نہیں کیوں کہ تو دوسرے کو مجرم ٹھہرا تا ہے تو حقیقت میں خود اپنے جرم کی عدالت کریگا۔ کیوں کہ تو دوسرے کی عدالت کریگا تو خود وہی کر تا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ جو لوگ ایسا کام کر تے ہیں۔ خدا انہیں انصاف حق کے مطا بق دیگا۔ لیکن اے میرے دوست کیا تو سوچتا ہے کہ تو جن کاموں کے لئے دوسروں کو قصور وار ٹھہرا تا ہے اپنے آپ ویسا ہی کام کر تا ہے کیا تو سوچتا ہے کہ تو اپنے عمل سے خدا کے انصاف سے بچ جائیگا ؟ کیا تو اس کی مہر بانی ، تحمل اور صبر کی دولت کو نا چیز سمجھتا ہے ؟ کیا تو نہیں سمجھتا کہ خدا کی مہر بانی تجھ کو تو بہ کی طرف مائل کر تی ہے ؟
بلکہ تو اپنی سختی اور تو بہ نہ کر نے والے دل کے مطا بق اُس قہر کے دن کے لئے اپنے واسطے خدا کا غضب پیدا کر رہا ہے جس دن خدا کی سچی عدالت ظا ہر ہو گی۔ خدا ہر کسی کو اس کے کاموں کے موافق بد لہ دیگا۔ جو لگاتار اچھے کام کر تے ہو ئے جلال اور عزت اور بقا کے طا لب ہو تے ہیں انہیں وہ بد لے میں ابدی زندگی دیگا۔ لیکن جو اپنی خود غر ضی سے سچائی کے منکر ہو کر بدی کا راستہ اختیار کر تے ہیں انہیں بدلے میں خدا کا غضب اور قہر ملیگا۔ لیکن مصیبت اور تنگی ہر ایک برے کام کر نے والے پر آئیگی۔ پہلے یہودی پر اور پھر غیر یہودی پر۔ 10 اور جو کوئی اچھا کام کر تا ہے اسے جلال ،عزت اور سلامتی ملیگی۔ پہلے یہودی کو اور پھر غیر یہودی کو۔ 11 کیوں کہ خدا جانب دار نہیں ہے۔
12 جنہوں نے بغیر شریعت 1:17 شریعت خدا پا ئے گناہ کیا لیکن بغیر شریعت ہلاک بھی ہو نگے اور جنہوں نے شریعت کے ما تحت ہو کر گناہ کیا انکا فیصلہ شریعت کے موافق ہوگا۔ 13 کیون کہ شریعت کو صرف سننے والے راست باز نہیں ٹھہرا ئے جا سکتے بلکہ شریعت پر عمل کر نے والے راستباز ٹھہرا ئے جائیں گے۔
14 اس لئے کہ جب غیر یہودی جن کے پاس شریعت نہیں ہے بلکہ اعمال سے ہی شریعت کی باتوں پر چلتے ہیں تب چاہے انکے پاس شریعت نہ رہے تو بھی وہ اپنی شریعت آپ ہیں۔ 15 چنانچہ وہ شریعت کی جو باتیں اپنے دلوں پر لکھی ہو ئی دکھا تے ہیں انکا ضمیر بھی ان باتوں کی گواہی دیتا ہے اور انکے خیالات یا تو ان پر الزام لگا تے ہیں یا انکا د فاع کر تے ہیں۔
16 یہ تمام باتیں اس دن ہو گی جب خدا انسان کی پو شیدہ باتوں کی عدالت کریگا ، جس خوشخبری کو میں نے لوگوں سے کہا اس کے تحت یسوع مسیح کی معرفت خدا لوگوں کا انصاف کریگا۔
17 لیکن اگر تو اپنے آپکو یہودی کہتا ہے تو شریعت پر ایمان رکھتا ہے اور اپنے خدا کا تجھے فخر ہے۔ 18 اور تو اسکی مرضی جانتا ہے۔ شریعت تجھے جو سکھا تی ہے اسکے مطا بق تو اہم چیزیں چن سکتا ہے۔ 19 اور یہ مانتا ہے کہ تو اندھوں کا رہنما ہے اور جو اندھیرے میں بھٹک رہے ہیں انکے لئے تو روشنی ہے۔ 20 تو سمجھتا ہے کہ تو بے وقوف کو تربیت دینے والا ہے اور جن کو ابھی تعلیم کی ضرورت ہے انکا تو استاد ہے اور علم اور حق کا جو نمونہ شریعت میں ہے وہ تیرے پاس ہے ؟ 21 پس تو جو اوروں کو سکھا تا ہے اپنے آپکو کیوں نہیں سکھا تا ؟ کہ چوری نہ کرنا لیکن خود کیوں چوری کر تا ہے ؟ 22 تو جو دوسروں سے کہتا ہے کسی سے زنا نہیں کر نا چاہئے پھر خود کیوں زنا کر تا ہے ؟تو جو بتوں سے نفرت کر تا ہے عبادت گاہوں کی دولت خود کیوں لوٹتا ہے ؟ 23 تو جو شریعت کے بارے میں شیخی بگھار تا ہے پھر بھی شریعت کی خلاف ورزی سے خدا کی بے عزتی کر تا ہے۔ 24 چنانچہ تحریر کہتی ہے، “تمہارے ہی سبب سے غیر یہودیوں میں خدا کے نام کی بے عزتی ہو تی ہے۔”+ 2:24 اِقتِباس یسعیاہ ۵:۵۲
25 اگر تم شریعت پر عمل کرتے ہو تو ختنہ سے فائدہ ہے لیکن اگر تم شریعت کو توڑ تے ہو تو تمہارا ختنہ کر نا نہ کر نے کے برابر ہے۔ 26 اگر کسی کا ختنہ نہیں ہوا ہے وہ شریعت کے حکم پر عمل کرے تو کیا اسکی نا مختونی ختنہ کے برابر نہ گنی جائیگی۔؟ 27 ایک شخص جس کا ختنہ نہیں ہوا ہے لیکن شریعت پر چلتا ہے تو وہ تجھے شریعت کی نا فر مانی کر نے کا قصور وار ٹھہرا ئے گا۔ تمہارے پاس لکھی ہو ئی شریعت ہے اور ختنہ شدہ بھی لیکن تم شریعت کو توڑتے ہو۔
28 جو بظا ہر یہودی ہے وہ سچا یہودی نہیں ہے۔ جو بظا ہر ختنہ ہے وہ حقیقت میں ختنہ نہیں ہے۔ 29 سچا یہودی وہی ہے جو باطن سے یہودی ہے۔ ختنہ صحیح وہی ہے جو دل سے کی گئی ہو۔ یہ روح سے کیا جاتا ہے لکھی ہو ئی شریعت سے نہیں۔ اور جو شخص دل سے ختنہ شدہ ہے انکی تعریف لوگوں سے نہیں خدا کی طرف سے ہو تی ہے۔
1:3-4+داؤد1:3-4مسیح سے ایک ہزار سال قبل اسرائیل کا بادشاہ -1:17+عبرانیوں1:17۴:۲2:12+خدا2:12کی شریعت ،اسے موسیٰ کی شریعت میں پیش کیا گیا ہے۔