19
ان باتوں کے بعد میں نے آسمان پر گو یا بڑی کلیسا کو بلند آواز سے یہ گاتے ہو ئے سنا کہ:
 
“ہِلّلُویاہ!
فتح اور جلال اور قدرت ہمارے خدا ہی کی ہے۔ اسکے فیصلے سچّے اور درست ہیں ہمارے خدا نے اس فاحشہ کو سزا دی جس نے زمین کو اپنی حرام کاریوں سے خراب کیا تھا اور اس سے اپنے بندوں کے خون کا بدلہ لیا۔”
 
ایک بار پھر آسمان پر انہوں نے کہا:
 
“ہِلّلُویاہ۔ اس کے جلنے سے ہمیشہ ہمیشہ دھواں اٹھتا ہی رہیگا۔”
 
تب چوبیس بزرگ اور چار جاندار جھک کر سجدہ کئے اور اس خدا کی عبادت کی جو تخت نشیں تھا۔ انہوں نے کہا:
 
“آمین، ہِلّلُویاہ!”
 
تب تخت سے ایک آواز آئی جس نے کہا:
 
“تعریف اس خدا کے لئے جس کی تم سب بندگی کر تے ہو
تعریف اس خدا ہی کے لئے تم سب چھو ٹے بڑے ڈر تے ہو!”
 
تب پھر میں نے ایک آواز سنی جو کسی بڑی کلیساء کی آواز کی جیسی تھی ،جو پانی کی زور سے بہنے کی جیسی آواز تھی اور بجلی کی کڑکنے کی جیسی زور دار آواز تھی۔ وہ کہہ رہی تھی:
 
“ہِلّلُویاہ!
ہمارا خدا وند خدا ہی قادر مطلق ہے
جو حکومت کر تا ہے۔
 
ہم کو خوشیاں منا نے دو خوش رہنے دو اور خدا کی حمد کر نے دو اس لئے میمنہ کی شادی کا وقت آگیا ہے
اور میمنہ کی دلہن نے اپنے آپ کو پو ری طرح تیار کر لیا ہے۔
مہین کتان کا کپڑا جو چمک دار اور صاف ہے
دلہن کو پہننے کے لئے دیا گیا”
 
(مہین کتان کا مطلب خدا کے مقدس لوگوں کے نیک اعمال ہیں۔ )
تب فرشتے نے مجھ سے کہا!“یہ لکھو! جن لوگوں کو میمنہ کی شادی کی دعوت میں مدعو کیا گیا وہ مبارک ہیں” پھر فرشتے نے کہا، “یہ خدا کے سچے الفاظ ہیں۔”
10 تب میں فرشتے کے قدموں میں عبادت کر نے کے لئے جھک گیا لیکن فرشتے نے مجھ سے کہا!“میری عبادت مت کرو میں بھی تمہارے اور تمہارے بھا ئیوں کی طرح خدمت گزار ہوں جو یسوع کی گواہی دینے پر قائم ہیں۔ اسلئے تم خدا کی عبادت کرو۔ کیوں کہ یسوع کی گواہی ہی نبوت کی روح ہے۔”
11 تب میں نے آسمان کو کھلا دیکھا اور میرے سامنے ایک سفید گھو ڑا تھا اس گھوڑے کا سوار سچا اور وفا دار کہلا یا کیوں کہ وہ انصاف سے فیصلہ کر تا ہے اور جنگ کر تا ہے۔ 12 اسکی آنکھیں شعلہ کی مانند اسکے سر پر کئی تاج ہیں اور اس پر ایک نام لکھا ہے۔ اور وہی اس نام کو جانتا ہے۔ کو ئی دوسرا اس نام کو نہیں جانتا۔ 13 وہ خون میں ڈوبی ہو ئی پوشاک پہنا ہے اس کا نام “خدا کا کلام”ہے۔ 14 آسمان کی فوجیں جو سفید گھو ڑے پر سوار ہیں انکی پو شاکیں مہین کتان کی تھیں جو سفید اور صاف تھیں۔ 15 ایک تیز تلوار سوار کے منھ سے باہر نکلتی ہے۔ وہ اس تلوار کو قوموں کی شکست کے لئے استعمال کرتا ہے۔ وہ فولادی عصا سے قوموں پر حکو مت کریگا وہ انگوروں کو خدا کے غضب کی بھٹی میں نچوڑ یگا۔ خدا جو بڑی قدرت والا ہے۔ 16 اسکے چغّہ پر اور اسکے ران پر اسکا نام لکھا ہے:
 
17 پھر میں نے ایک فرشتے کو سورج پر کھڑا دیکھا اس فرشتے نے زور دار آواز سے تمام پرندوں سے کہا جو اونچے آسمان پر اڑ رہے تھے۔ گرج دار آواز میں بلا یا اور کہا، “خدا کی بڑی دعوت میں شریک ہو نے کے لئے جمع ہو جاؤ۔ 18 آؤ اور خود جمع کرلو تا کہ تم بادشاہوں کا گوشت ،فوجی سرداروں کے مشہور آدمیوں کا ،گھو ڑوں کا اور انکے سرداروں کا اور سب آدمیوں کا چاہے وہ آزاد ہوں یا غلام چھو ٹے ہوں یا بڑے کا گوشت کھاؤ۔”
19 تب میں نے اس جانور اور زمین کے بادشاہوں کو دیکھا کہ انکی فوجیں جمع ہو ئیں تا کہ اس گھوڑ سوار اور اسکی فوجوں کے خلاف جنگ کریں۔ 20 لیکن وہ جانور اور جھوٹا نبی پکڑا گیا۔ یہ وہی جھو ٹا نبی تھا جس نے اسکے سامنے معجزے دکھا ئے تھے۔ اس جھو ٹے نبی نے لوگوں کو گمراہ کر نے کے لئے معجزے کئے جو جانور کی اور اسکے بت کی عبادت کیا کر تے تھے اس جھو ٹے نبی اور جانور کو زندہ آ گ کی جھیل میں ڈال دیا گیا جس میں گندھک جل رہی تھی۔ 21 اس کی باقی فوجیں اس سوار کے منھ سے جو تلوار نکلی تھی اس سے ختم ہو گئیں اور تمام پرندوں نے انکے گوشت کو کھا لیا یہاں تک کہ شکم سیر ہو گئے۔
1:8+یو1:8نا نی زبان کے پہلے اور آخری حروف جس کے معنی اوّل سے ہے آخر میں بھی ہیں1:13+یہ1:13الفاظ “ابن آدم” دانیال۷:۱۳ میں یہ نام یسوع اپنے لئے استعمال کر تا ہے۔1:18+یہ1:18ایسی جگہ ہے جہاں لوگ مرنے کے بعد جاتے ہیں۔2:6+مذہبی2:6گروہ ہے جو غلط خیال پر عمل کر تے ہیں-9:11+قدیم9:11عہد نامے کے مطابق یہ ایسی جگہ ہے جسے موت کی جگہ کہتے ہیں۔ ایوب۲۶:۶؛زبور۸۸:۱۱