2
افُسس کی کلیسا کے فرشتے کو یہ لکھو:
“جس نے اپنے داہنے ہاتھ میں سات ستارے پکڑ رکھے ہیں اور سات شمعدانوں کے ساتھ یہ چلتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ،
“میں جانتا ہوں جو تم کیا کرتے ہو اور سخت محنت کرتے ہو اور صابر ہو میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تم برے لوگوں کو پسند نہیں کرسکتے۔ تم نے ان لوگوں کو بھی جانچا ہے جنہوں نے رسول ہو نے کا دعویٰ کیاتھا۔ لیکن سچ یہ ہے کہ وہ رسول نہیں ہیں تم نے انہیں جھوٹا رسول پایا۔ میرے نام کی خاطر تم نے سختیاں سہیں اور مصیبت میں مبتلا ہوئے۔ایسا کرتے ہو ئے تم کبھی نہ تھکو گے۔
“مگر مجھے تم سے شکایت ہے کہ تمکو مجھ سے پہلی جیسی محبت نہیں رہی۔ اس لئے یاد کر کہ گر نے سے پہلے کہاں تھا۔ اپنے آپ کو بدل اور وہی کام کر جو تو نے پہلے کیاتھا۔ اگر تم اپنے دل کو نہ بدلے تو میں تمہا رے پاس آؤں گا اور میں تمہا ری شمعدان کو ان جگہوں سے ہٹا دوں گا۔ تم میں ایک بات ہے جو صحیح ہے کہ تو نیکُّلیوں 2:6 نیکلّیوں مذہبی کے کاموں سے نفرت کرتا ہے مجھے بھی ان کے کاموں سے نفرت ہے۔
“وہ شخص جو یہ سب کچھ سنتا ہے اس کو چاہئے کہ وہ روح جو کلیسا ؤں سے کہہ رہی ہو اس کو سنے۔ جو فاتح ہو جا ئے میں اس کو اس زندگی کے درخت سے جو خدا کی جنت میں ہے کھا نے کے لئے پھل دوں گا۔
“سُمرنہ کی کلیسا کے فرشتے کو یہ لکھوکہ:
“وہ جو اوّل ہے وہی آخر بھی ہے اور مزید یہ جو انتقال کر گئے تھے وہ زندہ ہوئے وہ یہ فرماتے ہیں کہ:
“میں تمہا ری تکلیفوں کو سمجھتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ تم غریب ہو لیکن حقیقت میں تم دولتمند ہو۔ میں ان لوگوں کو جانتا ہوں جو تمہا ری برا ئی کرتے رہتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو یہودی کہتے ہیں لیکن وہ سچے یہودی نہیں بلکہ وہ شیطان سے تعلق رکھنے وا لی کلیسا ہے۔ 10 جو بھی تیرے ساتھ دکھ پیش آئے ان سے نہ خوف کر دیکھو میں تم سے کہتا ہوں کہ شیطان تم میں سے بعض کو آزمائش کے لئے قید میں ڈالے گا تم لوگ دس روز تک تکلیف اٹھا ؤگے۔ لیکن تم کو وفادار رہنا ہو گا اگر چہ موت کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے میں تمہیں زندگی کا تاج دوں گا۔
11 “ہر وہ شخص جو یہ سنیں اس کو چاہئے کہ وہ روح کی سنے کہ وہ کلیسا ؤں سے کیا فرما تی ہے اور جوشخص غالب آکر فتح حاصل کرلے تو اس کو دوسری موت سے کوئی نقصان نہ ہوگا۔
12 “پرگمن کی کلیسا کے فرشتے کو یہ لکھوکہ:
“وہ جو تیز دو دھاری تلوار رکھتے ہیں یہ باتیں تم سے کہتے ہیں۔
13 “میں جانتا ہوں جہاں تم رہتے ہو۔ تم وہیں رہتے ہو جہاں شیطان کا تخت ہے۔ لیکن تم میرے لئے سچے ہو تو نے میرے نام کو رد نہیں کیا۔ تم نے اپنے عقیدہ کا انتپاس کے وقت انکار نہیں کیا۔ انتپاس میرا وفادار گواہ تھا۔ جس کو تمہا رے شہر میں قتل کیا گیاتھا تمہا رے اس شہر میں جہاں شیطان رہتا ہے۔
14 “لیکن مجھے تم سے چند باتوں کی شکایت ہے وہ یہ کہ تمہا رے گروہ میں چند لوگ ہیں جو بلعام کی تعلیم کے معتقد ہیں بلعام نے بلق کو تعلیم دی کہ وہ کس طرح اسرائیلیوں کو گنہگار بنائیں ان لوگوں نے بتوں کو بھینٹ چڑھایا ہوا کھا نا کھا کر اور حرامکا ری کرکے گناہ کئے۔ 15 چنانچہ اسی طرح تمہا رے یہاں بھی نیکّلیوں کی تعلیم کے ما ننے وا لے موجود ہیں۔ 16 اسی لئے توبہ کرو اور اپنے آپ کو بدلو اگر اپنے آپ کو نہیں بدلے تو میں جلد ہی تمہا رے پاس آؤں گا اور اس تلوار سے جو میرے منہ سے نکل آتی ہے اس سے ان لوگوں کے ساتھ لڑوں گا۔
17 “ہر وہ شخص جو باتیں سن سکتا ہے اس کو چاہئے کہ وہ کلیساؤں سے جو روح کہے اس کو سنے!
“میں ان لوگوں کو جو فتح حا صل کریں گے انہیں پوشیدہ مّن دوں گا اور اس شخص کو سفید پتھر بھی دوں گا اس پتھر پرایک نیا نام لکھا ہے کوئی بھی اس نئے نام کو نہیں جانتا صرف وہی شخص جسے یہ پتھر ملے گا وہ نیا نام جان جائے گا۔
18 “تھوا تیرہ کی کلیسا کے فرشتے کو یہ لکھو:
“خدا کے بیٹے یہ باتیں کہہ رہے ہیں کہ یہ وہ جس کی آنکھیں آ گ کی مانند دہک رہی ہیں اور پیر چمکتے ہوئے پیتل کی طرح ہیں وہ تم سے کہتا کہ
19 “میں تمہا رے کاموں سے واقف ہوں میں تمہا ری محبت وفاداری، تمہاری خدمت اور صبر کے متعلق جانتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ تم جو کام پہلے کئے تھے اس کے بنسبت ابھی زیادہ کام کر رہے ہو۔ 20 لیکن مجھے یہ شکایت ہے کہ تم ایز بل کو برداشت کرتے ہو وہ عورت اپنے آپ کو نبیہ کہتی ہے تا کہ لوگوں کو متاثر کرسکے وہ میرے بندوں کو حرامکا ری کرنے اور بتوں کی قربانیاں کھا نیکی تعلیم دے کر گمراہ کرتی ہے۔ 21 میں نے اس کو اپنا دل بدلنے کے لئے گناہوں سے دور رہنے کے لئے وقت دیا ہے لیکن وہ اپنے دل کو بدلنا نہیں چاہتی۔
22 “اس لئے میں اس کو بیمار کردوں گا تا کہ وہ بستر پر رہے ان کو بھی بڑی مشکلات میں ڈال دوں گا جو اس کے ساتھ زنا کا ری کی جب تک کہ وہ اس کے برے کاموں سے توبہ نہ کرے۔ 23 اور میں اس کے ماننے والوں کو طاعون سے مار ڈالوں گا تب تمام کلیسائیں جان جائیں گی کہ میں ہی ان کے دلوں کا اور دماغ کا حال جاننے وا لا ہوں اور ان میں سے ہر ایک کو ان کے کاموں کے مطابق بدلہ دوں گا۔
24 “لیکن میں تھوا تیرہ کے باقی لوگوں کو جو ان کی تعلیم کو نہیں مانتے جو شیطان کی گہری پوشیدہ باتوں کو نہیں سیکھا۔یہ کہتا ہوں کہ تم پر اور بوجھ نہ ڈالوں گا۔ 25 بس صرف اپنے راستے پر قائم رہو جب تک کہ میں وا پس نہ آؤں۔
26 “میں ہر اس شخص کو جو فا تح ہوا اور جو میرے کاموں کے موافق آ خر تک عمل کیا میں انہیں دوسری قو موں پر اختیار دوں گا۔ 27 وہ ان پر لو ہے کے عصا سے حکومت کرے گا اور وہ انہیں مٹی کے برتن کی مانند ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ زبور۹:۲
28 یہی وہ اختیار ہے جسے میں نے اپنے باپ سے حاصل کیا ہے میں اس شخص کو بھی صبح کا ستارہ دونگا۔ 29 ہر وہ شخص جو یہ سنتا ہے اس کو چاہئے کہ کلیساؤں سے جو کچھ روح کہے اِس کو بھی سنے۔
1:8+یو1:8نا نی زبان کے پہلے اور آخری حروف جس کے معنی اوّل سے ہے آخر میں بھی ہیں1:13+یہ1:13الفاظ “ابن آدم” دانیال۷:۱۳ میں یہ نام یسوع اپنے لئے استعمال کر تا ہے۔1:18+یہ1:18ایسی جگہ ہے جہاں لوگ مرنے کے بعد جاتے ہیں۔2:6+مذہبی2:6گروہ ہے جو غلط خیال پر عمل کر تے ہیں-