چرچ (کلیسیا) کے بارے سوالات

سوال: کلیسیا کیا ہے ؟

جواب:
بہت سارے لو گ کلیسیا کو ایک عمارت کے طور پر سمجھتے ہیں یہ کلیسیا کی بائبل کے مطابق سمجھ بوجھ نہیں ہے ۔ لفظ " کلیسیا " یونانی لفظ اوکلیسیا سے ماخوذ ہے جس کی تعریف " ایک اجتماع" کے طور پر ہوتی ہے یا " ہر کسی کو بُلانا " ہوتی ہے ۔ " کلیسیا " کا بنیادی مطلب ایک عمارت نہیں ہے ، لیکن لوگوں کے حوالے سے ہے ۔ یہ مضحکہ خیز بات ہے کہ جب آپ لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ اُنہوں نے کونسی کلیسیا میں عبادت کی تو وہ عام طور پر ایک عمارت کی نشاندہی کرتے ہیں ۔ رومیوں 16 باب اُس کی 5 آیت کہتی ہے " اور اُس کلیسیا سے بھی سلام کہو جو اُن کے گھرمیں ہے ۔ " پولس اِن کے گھر میں کلیسیا کا حوالہ دیتا ہے نہ کہ کلیسیا کی عمارت کا بلکہ ایمانداروں کے ایک جسم کا حوالہ دیتا ہے ۔

کلیسیا مسیح کا بدن ہے جس کا وہ سردار ہے افسیوں 1 باب اسکی 22 ۔ 23 آیات کہتی ہیں " اور خدا نے سب کچھ اُس کے پاوں تلے کر دیا اور اُس کو سب چیزوں کو سردار بنا کر کلیسیا کو دے دیا یہ اُس کا بدن ہے اور اُس کی معموری جو ہر طرح سے سب کا معمور کرنے والا ہے ۔ " مسیح کا بدن یسوع مسیح میں پینتیکوست سے لیکر مسیح کی آمدِ ثانی تک کے تمام ایمانداروں سے بنا ہوا ہے ۔ ( اعمال 2 باب) ۔

مسیح کا بدن دو پہلو رکھتا ہے عالمگیر کلیسیا اِن تمام لوگوں پر مشتعمل ہے جو یسوع مسیح کے ساتھ ذاتی رشتہ رکھتے ہیں " کیونکہ ہم سب نے خواہ یہودی ہوں خواہ یونانی خواہ غلام خواہ آزاد ایک ہی روح کے وسیلہ سے ایک بدن ہونے کے لیے بپتسمہ لیا اور ہم سب کو ایک ہی روح پلایا گیا ۔ " ( 1 کرنتھیوں 12 : 13 ) ۔ یہ آیت کہتی ہے کہ ہر کوئی جو ایمان رکھتا ہے مسیح کے بدن کا حصہ ہے اور گواہی کے طور پر مسیح کی روح کو حاصل کر چُکا ہے ۔ خدا کی عالمگیر کلیسیا اُن لوگوں کی ہے جو یسوع مسیح میں ایمان رکھنے کے وسیلہ سے نجات حاصل کر چُکے ہیں ۔ گلتیوں 1 باب اُس کی 1 اور 2 آیات میں مقامی کلیسیا کو بیان کیا گیا ہے ۔ " پولس کی طرف سے جو نہ انسانوں کی جانب سے نہ انسان کے سبب سے بلکہ یسوع مسیح اور خدا باپ کے سبب سے جس نے اُس کو مُردوں میں سے جِلایا رسول ہے ۔ اور سب بھائیوں کی طرف جو میرے ساتھ ہیں گلتیہ کی کلیسیاوں کو " یہاں پر ہم دیکھتے ہیں گلتیہ کے علاقے میں بہت ساری کلیسیائیں تھیں کیا ہم اُن کو مقامی کلیسیائیں کہتے ہیں ۔ ایک بپتسمہ دینے والی کلیسیا لوتھر کی کلیسیا ، کیتھولک کلیسیا وغیرہ کلیسیا نہیں ہے ۔ جیسا کہ عالمگیر کلیسیا میں ہے ۔ لیکن قدرے ایک مقامی کلیسیاہے ایمانداوں کی مقامی جماعت ہے ۔ عالمگیر اُن لوگوں پر مشتعل ہے جو مسیح میں سے ہیں اور نجات کے لیے اُس پر ایمان رکھتے ہیں ، عالمگیر کلیسیا کے اِن اراکین کو ایک مقامی کلیسیامیں رفاقت اور اخلاقی تعلیم حاصل کرنی چاہیے ۔ مختصراً کلیسیا ایک عمارت یا ایک مذہبی فرقے کا ایک اجتماع نہیں ہے ۔ بائبل کے مطابق کلیسیا مسیح کا بدن ہے وہ سب جو نجات کے لیے اپنا ایمان یسوع مسیح میں رکھتے ہیں ( یوحنا 3 : 16 ، 1 کرنتھیوں 12 : 13 ) ۔ مقامی کلیسیائیں عالمگیر کلیسیا کے اراکین کے اجتماعات ہیں ۔

مقامی وہ جگہ ہے جہاں پر عالمگیر کلیسیا کے ممبران مکمل طور پر 1 کرنتھیوں اُس کے 12 باب کے " جسمانی " اصول و ضوابط لاگو کر سکتے ہیں ۔ وہ اصول و ضوابط ، حوصلہ افزائی کرنا ، تعلیم دینا ، اور خداوند یسو ع مسیح کے فضل اور حکمت میں ایکدوسرے کو مضبوط کرنا ہے ۔


سوال: کلیسیا کا کیا مقصد ہے ؟

جواب:
اعمال 2 : 42 کو کلیسیا کے مقصد کے لیے ایک بیان خیال کیا جا سکتا ہے : " اور یہ رسولوں سے تعلیم پانے اور رفاقت رکھنے میں اور روٹی توڑنے اور دعا کرنے میں مشغول رہے ۔" اِس آیت کے مطابق کلیسیا کے مقاصد اور کام یہ ہونے چاہییں " بائبل کے عقائد کی تعلیم 2 ) ایمانداروں کی رفاقت کے لیے جگہ فراہم کرنا 3 ) دعا کرتے ہوئے خداوند کی ضیافت کو منانا ہے ۔

کلیسیا کو ہمیں بائبل کے عقائد کی تعلیم دینی چاہیے اِس طرح ہم اپنے ایمان میں مضبوظ ہو سکتے ہیں ۔ افسیوں 4 : 14 ہمیں بتاتی ہے ، " تاہم ہم آگے کو بچے نہ رہیں اور آدمیوں کی بازیگری اور مکاری کے سبب سے اُنکے گُمراہ کرنے والے منصوبوں کی طرف پر ایک تعلیم کے جھوکے سے موجوں کی طرح اچھُلتے بہتے نہ پھریں ، " کلیسیا کو رفاقت کے لیے ایک جگہ ہونا چاہیے ، جہاں پر مسیحی ایک دوسرے کے لیے وفادار اور دوسرے کا احترام کر سکیں ( رومیوں 12 : 10 ) ایک دوسرے کو ہدایت کر کسیں ( رومیوں 15 : 14 ) ایک دوسرے کے ساتھ نرم دل اور مہربان ہو سکیں ( افسیوں 4 : 32 ) ، ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کر سکیں ( 1 تھسلینکیوں 5 : 11 ) اور سب سے اہم بات ایک دوسرے سے محبت کر سکیں ( 1 یوحنا 3 : 11 )۔

کلیسیا ایک ایسی جگہ ہونی چاہیے جہاں ایماندار مسیح کی موت کو یاد کر تے ہوئے اور ہمارے واسطے خون بہانے کو یاد کر تے ہوئے خداوند کی ضیافت کو منا سکیں ( 1 کرنتھیوں 11 : 23 ۔ 26 ) " روٹی کو توڑنے " کا تصور ( اعمال 2 : 42 ) بھی اکٹھے مِل کر کھانا کھانے کا تصور پیش کرتا ہے ۔ یہ کلیسیا کی رفاقت کو ترویج دینے کی ایک اور مثال ہے ۔ اعمال 2 : 42 آیت کے مطابق کلیسیا کا آخری مقصد دعا ہے ۔ کلیسیا ایک ایسی جگہ ہونی چاہیے جہاں دعا کی ترویج ، دعا کی تعلیم اور دعا کی مشق کرتی ہے ۔ فلپیوں 4 ا ُسکی 6 ۔ 7 آیات ہماری حوصلہ افزائی کرتی ہیں " کسی بات کی فکر نہ کرو بلکہ ہر ایک بات میں تمہاری درخواستیں اور منت کے وسیلہ سے شُکر گذاری کے ساتھ خدا کے سامنے پیش کی جائیں تو خدا کا اطمینان جو سمجھ سے بالکل باہر ہے ےتمہارے دلوں اور خیالو ں کو مسیح یسوع میں محفوظ رکھے گا ۔ "

کلیسیا کو دیا جانے والا ایک دوسرا حکم یسوع مسیح کے وسیلہ سے نجات کی خوشخبری کی منادی کرنا ہے۔ ( متی 28 : 18 ۔ 20، اعمال 1 : 8 ) کلیسیا کو قول و فعل کے وسیلہ سے انجیل کو باندھنے میں ایمان دار رہنے کو کہا گیا ہے ۔ کلیسیا کو جماعت میں لوگوں کو ہمارے خداوند اور نجات دہندہ یسوع مسیح کی طرف اشارہ دینے کے لیے " روشنی کا مینار" ہونا چاہیے ۔ کلیسیا کو خوشخبری کی ترویج کرنا اور خوشخبری کی منادی کے لیے اراکین دونوں کرنے چاہییں ۔ ( 1 پطرس 3 : 15 ) ۔ کلیسیا کے کچھ آخری مقاصد یعقوب کی کتاب میں دئی گئے ہیں " ہمارے خدا اور باپ کے نزدیک خالص اور بے عیب دینداری یہ ہے کہ یتیموں اور بیواوں کی مصیبت کے وقت اُن کی خبر لیں اور اپنے آپ کو دُنیا سے بے داغ رکھیں " ۔ کلیسیا اُن کی خدمت جو مصیبت میں ہیں کے کلام کے بارے میں ہونی چاہیے ، اِس میں نا صرف بائبل کو بانٹنا شامل ہے بلکہ جسمانی ضروریات کے لیے ( خوراک ، کپڑے ، چھت) جیسا کہ ضروری اور مناسب ہو شامل ہیں ۔ کلیسیا کو ایمانداروں کو مسیح میں رہتے ہوئے گناہ پر قابو پانے اور دپنیا کی بالیدگی سے دور کے ہتھیاروں سے لیس کرنا چاہیے ۔ یہ بائبل کی تعلیم اور مسیحی رفاقت سے ہوتا ہے ۔

پس کلیسیا کا کیا مقصد ہے ؟ پولس کرنتھس میں ایمانداروں کو ایک شاندار اشارہ دیتا ہے ۔ کلیسیا اِس دُنیا میں خدا کے ہاتھ ، منہ اور پاوں ہیں ، یعنی مسیح کا جسم ہے ( 1 کرنتھیوں 12 : 12 ۔ 27 ) ہمیں وہ بتیں کرنی چاہییں جو یسوع المسیح کرتا تھا اگروہ زمین پر جسمانی طور پر رہتا ۔ کلیسیا " مسیحٰ" ، " مسیح کی طرح " اور مسیح کی پیروی کرنے والی ہونی چاہیے ۔


سوال: مسيحيوں كے لئے بپتسمه كي كيا اهميت هے؟

جواب:
مسيحي بپتسمه كلام مقدس كے مطابق ايک بيروني گواہي هے كه ايماندار كے اندر كيا تبديلياں رونما هوئي ہيں۔ مسيحي بپتسمه ايک مثال هے كه كيسے ايک ايماندار مسيح كے ساتھ مرا، دفن هوا اور جي اُٹھا۔ كلام مقدس اعلان كرتا هے كه "كيا تم نهيں جانتے كه ہم جتنوں نے مسيح يسوع ميں شامل هونے كا بپتسمه ليا تو اسكي موت ميں شامل هونے كا بپتسمه ليا؟ پس موت ميں شامل هونے كے بپتسمه كے وسيله سے هم اسكے ساتھ دفن هوئے تاكه جس طرح مسيح باپ كے جلال كے وسيله سے مُردوں ميں سے جلايا گيا اسي طرح ہم بھي نئي زندگي ميں چليں"﴿روميوں6باب3تا4آيت﴾۔ مسيحي بپتسمه ميں پاني ميں غوطه لينے كا عمل ظاہر كرتا هے کہ ہم يسوع مسيح كے ساتھ دفن هوئے ہيں۔ پاني سے باهر نكلنے كا عمل اس بات كو ظاہر كرتا هے كه ہم مسيح كے ساتھ جي اُٹھے ہيں۔

مسيحي بپتسمه ميں دو چيزيں بپتسمه لينے والے كو پوری كرني پڑتي ہيں ﴿1﴾بپتسمه لينے والا شخص يسوع مسيح كو اپنا نجات دہنده مانتا هو اور ﴿2﴾بپتسمه لينے والا شخص اچھي طرح جانتا هو كه بپتسمه كس چيز كا نشان هے۔

اگر كوئي شخص جانتا هے كه يسوع مسيح هي نجات دهنده هے ، سمجھتا هے كه مسيحي بپتسمه ايک قدم هے اس بات كا كه وه تمام لوگوں كے سامنے يسوع مسيح پر اپنے ايمان كا اظهار كرتا هے، اور چاهتا هے كه اسے بپتسمه ديا جائے۔ تب كوئي وجه نهيں كه اس ايماندار كو بپتسمه نه ديا جائے۔ كلام مقدس كے مطابق مسيحي بپتسمه صرف تابعداری كي طرف ايک قدم هے ، لوگوں كے سامنے اس بات كا اظهار كه ميں يسوع مسيح پر ايمان ركھتا هوں يہي نجات هے۔ مسيحي بپتسمه ضروری هے كيونكه يه تابعداري كي طرف ايک قدم هے، اور لوگوں ميں يسوع مسيح پر ايمان كا اظهار اور اس كے ساتھ عهد هے ، اور يسوع مسيح كي موت ، دفنايا جانا، اور جي اُٹھنے كا نشان هے


سوال: خداوند کی ضیافت ، مسیحیوں کی رفاقت کی کیا اہمیت ہے؟

جواب:
خداوند کی ضیافت کا مطالعہ معنوں کی گہرائی جو کہ یہ رکھتا ہے کسی وجہ سے ایک روح کو گرما دینے والا تجربہ ہے ۔ اِس دور میں پُرانی رسم عید فسح اُس کی موت کی شام کو منائی گئی ۔ جس میں یسوع نے ایک شاندار رفاقتی کھانے کی بنیاد رکھی ، جو ہم اُس دن مناتے ہیں ۔ یہ مسیحی عبادت کا ایک نا گزیر حصہ ہے ۔ یہ ہمیں خداوند کی روح اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے اور مستقبل میں اُس کی شاندار واپسی پر نظر کرنے کی یاد دلاتی ہے ۔

ععدِفسح یہودی کے مزہبی سال کی سب سے مقدس ضیافت تھی ۔ےہ مصر پر آخری آفت طاعون کی یاددلاتی ہے۔ جب مصر کے پہلوٹھے مر گئے تھے اور اسرائیلی مصر کے خُون کی وجہ سےجو اُنہوں نے اپنی چو کھٹوں پر چھڑک لیا تھا اِکی وجہ سے بچ گئے تھے ۔تب بّرے کو بُھونا گیا اور خمیری روٹی کے ساتھ کھایا گیا ۔خُدا کا حُکم تھا کہآنے والی تمام نسلوں میں ضیافت کو منایا جائے گا یہ کہانی خروج 12باب میں بیان کی گئی ھے۔

آخری عیدِفسح کی رُسومات کے دوران یسُوع نے ایک ٹکڑا لیا اور خُدا کا شُکر ادا کیا ، جیسے ہی اُس نے اِس کو توڑا اور اِسے شاگردوں کو دیا ،اُس نے کہا ،''یہ میرا بد ن ھے جو تمہارے واسطے دیا جاتا ھے ، میری یاد گاری کے لیے یہی کیا کرو اور اِسی طرح کھانے کے بعد پیالہ یہ کہہ کر دیا کہ یہ پیالہ میرے اُس خُون میں نیا عہد ھے جو تمہارے واسطے بہایا جاتا ھے ۔"(لوقا 22: 19 ۔ 21) اُس نے خُدا کی حمدو ثنا کرتے ھوے ضیافت ختم کی (متی26 ۔ 30) اور وہ رات کوباہر زیتون کے پہاڑ کی طرف گئے ۔ یہاں پر یسوع یہودہ سے جیسا کہ پیشن گوئی تھی پکڑوایا گیا ۔اگلے دن اُس کو صلیب دے دی گئ تھی ۔

خُداوند کی ضیافت کے بارے میں اناجیل میں ملتےہیں ۔(متی 26:26۔29)،(مرقس 14:17 ۔ 25۔لوقا 22: 7۔ 22اور یوحناّ13:21۔ 30) پُولوس رسول 1کرنتھیوں11: 23۔ 29میں خُداوند کی ضیافت کےمتعلق لکھتا ھے پو لوس ایک ایسا بیان شامل کرتا ھے جو کہ انا جیل میں نہیں ھے ۔" اس واسطے جو کوئی نا مُناسب طور پر خُداوند کی روٹی کھائے یا اس کے پیالے میں سے پئے وہخُداوند کے بد ن اور خُون کے بارے میں قصُور وار ھو گا ۔ پس آدمی اپنے آپ کو آزما لے اور اسی طرح اس روٹی میں سے کھائے اور اس پیالے میں سے پئے کیونکہ جو کھاتے پیتے وقت خُداوند کے بد ن کو نہ پہچانے وہ اس کھانے پینے سے سزا پائے گا۔" ھم یہ پوچھ سکتے ہیں کہ روٹی اور پیالے میں " ایکنا مناسب طریقہ " سے شرکت کرنے کا کیا مطلب ھے ۔ اس کا مطلب روٹی اور پیالے کےسچے معنوں کو مسترد کرنا اور ھمارے نجات دہندہ کی ھماری نجات کے لیے غیر معمولی قیمت کو بھول جانا ھو سکتا ھے ۔ یا اسکا مطلب ایک مُردہ بننے کی رسم کی اجازت دینا اور حسبِ ضابطہ مذہبی رسومات کو ختم کرنا یا گُناہ کے ساتھ خُداوند کی ضیافت میں شریک ھونا ھو سکتا ھے ۔

پولوس ایک اور بیان دیتا ھے جو کہ انا جیل کے بیانات میں شامل نہیں ھے ۔"کیونکہ جب کبھی تم یہ روٹی کھاتے اوراس پیالے میں سےپیتے ھو تو خُداوند کی موت کا اظہار کرتے ھو "(1کرنتھیوں 11: 26) یہ اس تقریب میں یہ بات ھمارے خُداوند کی دوبارہ آمد تک کے محدود وقت کا اظہار ھے ان مختصر بیانات سے ھم سیکھ سکتے ہیں کہ یسوع نے کس طرح معمولی چیزوں میں سے دو کو اپنے جسم اور خُون کے لیے استعمال کیا اور اپنی موت کی یاد گار بنانے کے لیے سراھا ھے ۔

یہ ایک پتھر پر کُندھا یا تانبے کو پگھلا کر بنی ہوئی یاد گار نہ تھی بلکہ روٹی او سِرکہ کی تھی ۔ اُس نے اعلان کیا کہ روٹی کا اُس کا جسم ہے جو کہ توڑا جائے گا۔ کوئ/ی ٹوٹنے والی ہڈی نہ تھی بلکہ اُس کا جسم بُری طرح زخمی کیا گیا۔ کہ یہ بمُشکل پہچانا جاتا تھا ( زبور 22: 12۔ 17 ) مے اُس کے خون کا حوالہ دیتی ہے اِس الم ناک موت کی طرف اشارہ ہے جس کا جلد ہی تجربہ کرے گا ۔ وہ خدا کا کامل بیٹا نجات دہندہ کے بارے میں پُرانے عہد نامہ کی بےشمار پیشن گوئیوں کو پورا کرنے والا بن گیا ۔ (پئدایش 3 : 15، زبور : 22 ، یسعیاہ 53 ) جب اُس نے کہا " میری یاد میں ایسا ہی کرنا " اُ س نے اس بات کا اشارہ دیا کہ یہایک رسم ھے جو کہآنے والے وقت میں جاری رہنی چاہیے ۔یہ اس بات کا بھی اشارہ دیتی ھے کہ عیدِ فسح جو کہ برّ ے کی قُربانی کا تقاضا کرتی ھے اورخُدا کا برّہ جو کہ دُنیا کے گُناہ اُٹھاتا ھے اس کی آمد ، جو کہ خداوند کی ضیافت میں پوری ہوئی کی طرف اشارہ کر تی ہے ۔ پُرانے عہد نامہ کی جگہ نئے عہد نامہ نے لے لی ۔ جب فسح کا برہ مسیح کو ( 1 کرنتھیوں 5 : 7 ) کو مصلوب کیا گیا ( عبرانیوں 8 : 8 ۔ 13 ) صلیب دئی جانے کے نظام کی مزید ضرورت نہیں ہے ( عبرانیوں 9 : 25 ۔ 28 ) خدا کی ضیافت مسیحی رفاقت اِس بات کی یاد گار ہے کہ مسیح نے ہمارے لیے کیا اور اُس کی قُربانی کے اِس نتیجہ کے طور پر جو ہم حاصل کر تے ہیں اُس کی ایک رسم ہے ۔


سوال: كيا عورتوں كو پادري بن كر/تبلغي طور پر خدمت كرني چاهيے؟

جواب:
یهاں آج کی کلیسیا میں شاید اس سے زیاده بحث کسی اور مسئلے پر نهیں هوتی هوگی کے عورتوں کو کلیسیا میں بطور تبلغی بن کر خدمت کرنی چاهیے۔ نتیجے کے طور پر، یه بهت ضروری هے که اس مسئلے کو صرف اس لئے نه دیکھاجائے که مرد وں کا مقابلہ عورتو ں کے ساتھ کیا جا رہا ہے ۔ یهاں عورتیں هیں جو یقین رکھتی هیں که عورتوں کو پادریوں کی طرح خدمت نهیں کرنی چاهیے اور کلام مقدس کلیسیا میں عورتوں کی تبلغ پر پابندی لگاتا هے اور یهاں مرد هیں جو یقین رکھتے هیں که عورتیں کلیسیا میں تبلغیوں کی طرح خدمت کرسکتی هیں۔ یه کوئی برتری یا تفریق کا مسئله نهیں۔ یه کلام مقدس کے مطابق تشریح کامسئله هے۔

پهلاتیمتھس2باب11تا12آیت بیان کرتی هے ، "عورت کو چپ چاپ کمال تابعداری سے سیکھنا چاهیے۔ اور میں اجازت نهیں دیتا که عورت سکھائے یا مرد پر حکم چلائے بلکه چپ چاپ رهے"۔ کلیسیا میں خدا مردوں اور عورتوں کے لئے مختلف قانون مقرر کرتا هے ۔ اسی لئے بنی نوع انسان کو پیدا کیا گیا﴿1۔تیمتھس2باب13آیت﴾اور جس رسته سے گناه دنیا میں داخل هوا﴿2۔تیمتھس2باب14آیت﴾۔ خدا پولوس رسول کے نوشتوں کے ذریعے عورتوں کے مردوں کو روحانی تعلیم دینے پر پابندی لگاتا هے۔ یه عورتوں کو پادریوں کی طرح خدمت کرنے سے باز رکھتا هے، جس میں یقینی طور پر تبلغ بھی شامل هے، تعلیم دینا اور مردوں پر روحانی تعلیم دینے کا اختیار بھی۔

یهاں پر عورتوں کی کلیسیا میں خدمت بطور پادریوں کی طرح خدمت کرنے میں بهت سے "اعتراض"هیں۔ ایک خاص بات یه هے که پولوس عورتوں کے تعلیم دینے پر پابندی لگاتا هے کیونکه پهلی صدی میں عورتیں خاص طور پر غیر تعلیم یافته تھیں۔ بهر حال، 1تیمتھس2باب11تا14آیت میں کهیں بھی ان کے تعلیمی معیار کو بیان نهیں کیا گیا، اگر تعلیم کلیسیا میں خدمت کے لئے قابلیت تھی تو یسوع کے زیاده ترشاگر د اس معیار پر پورے نه اترتے۔ دوسرا خاص اعتراض یه که پولوس نے صرف افسیوں کی عورتوں کو تعلیم دینے سے روکا﴿1۔تیمتھس کاخط جو تیمتھس کو لکھا گیا جو اس وقت افسیوں کی کلیسیا میں پادری تھا﴾۔ افسس کا شهر ارتمس کی دیوی کے مندر کے لئے مشهور تھاایک جھوٹی یونانی /رومی دیوی۔ عورتوں کو ارتمس کی دیوی کی پرستش کرنے کا اختیار تھا۔ بهرحال، 1۔تیمتھس کے خط میں کهیں بھی ارتمس کی دیوی کو بیان کیا جاتا، نه تو پولوس بیان کرتا هے که ارتمس کی دیوی کی پرستش کی وجه سے 1۔تیمتھس 2باب11تا12آیت میں پابندیاں هیں۔

ایک تیسرا خاص اعتراض یه که پولوس صرف شوهروں اور بیویوں کا حواله دے رها هے، عام مردوں اور عورتوں کونهیں۔ یونانی الفاظ میں1۔تیمتھس 2باب11تا14آیت میں شوهروں اور بیویوں کا حواله دیا جاتا هے۔ بهرحال، الفاظ کا بنیادی مطلب هے مرد اور عورتیں۔ مزید، ایسے هی یونانی الفاظ آیت 8تا10میں استعمال هوتے هیں۔ کیا صرف شوهر هی بغیر غصه اور تکرار کے پاک هاتھوں کو اُٹھا کر دعا کیا کریں﴿آیت8﴾؟ کیا صرف عورتیں هی حیادار لباس پهنیں، اچھے اعمال رکھیں، اور خدا کی پرستش کریں﴿آیت9تا10﴾؟یقینا نهیں۔ 8تا10آیت واضع طور پر مردوں اور عورتوںکا حواله دیتی هیں، صرف شوهروں اور بیویوں کا حواله نهیں دیتیں۔ یهاں سیاق و سباق میں کچھ بھی ایسا نهیں هے جو یه ظاهر کرتا هے که جو شوهروں اور بیویوں کو پابند کرے آیت11تا14میں۔

اس کے علاوه ایک اور اعتراض جو خواتین پادری اور تبلغ کرنے والیوں کے رشتے کی تشریح کرتا هے، مریم، دبوره،خُلده ، پرسکه، فیبے وغیره۔ عورتوں جو کلامِ مقدس کے مطابق پیشوائی کرتی تھیں۔ یه اعتراض ناکام هوجاتا هے جب معنی خیز عنصر کو جانا جائے۔ دبوره کے تعلق سے، تیره مرد منصفوں میں وه اکیلی عورت منصف تھی۔ خُلده کے تعلق سے، وه اکیلی نبیه تھی درجنوں مرد نبیوں کے درمیان جو کلامِ مقدس میں درج هیں۔ مریم کا پیشوائی کا تعلق صرف اس لئے تھا که وه موسیٰ اور هارون کی بهن تھی۔ عتلیاه اور ایز بل ٹھوس مثالیں جو اپنے آپ کو دیوی کی طرح منواتی تھیں۔

اعمال کی کتاب 18باب میں، پرسکله اور اکوله کو مسیح کی وفادار خدمت کرنے والیوں کی طرح پیش کیا گیا هے۔ پرسکله کا نام پهلے بتایا گیا هے غالبااس کا مطلب یه هے که وه خدمت میں اپنے شوهر سے زیاده نمایاں تھی۔ بهرحال، پرسکله نے کهیں بھی یه بیان نهیں کیا که وه کلیسیائی خدمت سرانجام دے رهی هے یه 1تیمتھس 2باب11تا14آیت کے الٹ هے۔ پرسکله اور اکوله اپلوس کو اپنے گھر لے کر آئیں اور وه دونوں اسے تعلیم دینے لگیں، خدا کے کلام کو بهت اچھے طریقے سے اسے بیان کیا ﴿اعمال18باب26آیت﴾۔

رومیوں16باب1آیت میں فیبے کو "پادری "سمجھا جائے بجائے اسکے کے "خادمه"۔ اس کا یه مطلب نهیں که فیبے کلیسیا میں تعلیم دیتی تھی۔ "تعلیم کے قابل "بزرگوں کی اهلیت دی گئی، لیکن پادریوں کی نهیں ﴿1۔تیمتھس 3باب1تا13آیت؛ ططس1باب6تا9آیت﴾۔ ایلڈر/پشپ/ڈیکن کو ایسے بیان کیا گیا هے جیسے "ایک بیوی کا شوهر"، "ایک آدمی جس کے بچے یقین رکھتے هوں"، اور"آدمی جو عزت کے قابل هو"۔ مزید برآں، 1۔تیمتھس 3باب1تا13آیت میں اور ططس 1باب6تا9آیت میں مردانه اسموں کا خاص استعمال کیا گیا هے جوحواله دینے کے لئے ایلڈر/پشپ/ڈیکن۔

پهلا تیمتھس2باب11تا14آیت کی وضع اس "وجه " کو مکمل طور پر صاف بتاتی هے۔ آیت13شروع هوتی هے"لئے"اور"وجه "سے شروع هوتی هے که پولوس نے آیت11تا12میں کیا بیان کیا هے۔ کیوں عورت تعلیم نهیں دے سکتی یا مرد کے اوپر اخیتار نهیں رکھ سکتی؟ کیونکه "پهلے آدم بنایا گیااسکے بعد حوا۔ اور آدم نے فریب نهیں کھایا بلکه عورت فریب کھا کر گناه میں پڑ گئی"۔ یهی وجه هے۔ خدا نے پهلے آدم کو بنایا اور پھر حوا کو جو آدم کی "مددگار"تھی۔ تخلیق کی یه عالمگیر ترتیب انسانی معاشرے میں خاندانوں پر لاگو هوتی هے ﴿افسیوں5باب22تا23آیت﴾ اور کلیسیا پر۔ یه حقیقت جس سے حوا نے فریب کھایا ایک اور وجه هے جس سے عورتیں پادریوں کی طرح خدمت نهیں کرسکتیں یا مردوں پر روحانی اختیار نهیں رکھ سکتیں۔ یه لوگوں کو اس بات پر یقین کرنے کے لئے آماده کرتا هے که عورتیں تعلیم نهیں دے سکتیں کیونکه وه آسانی سے گناه میں گر سکتی هیں۔ اس پر بات کی جاسکتی هے ، لیکن اگر عورتیں بهت آسانی سے گناه میں پڑ جاتی هیں تو کیوں انهیں بچوں کو تعلیم دینے کی اجازت دی گئی ﴿جو آسانی سے گناه میں پڑ جاتے هیں﴾ اور دوسری عورتوں کو ﴿جو اور بھی زیاده آسانی سے گناه میں پڑ سکتی هیں﴾؟ یه وه نهیں جو الفاظ میں بیان کیا گیا هے۔ عورتیں تعلیم نهیں دے سکتیں یا مردوں پر روحانی اختیار نهیں رکھ سکتیں کیونکه حوا گناه میں گر گئی تھی۔ جس کے نتیجے میں خدا نے مردوں کو ابتدائی کلیسیا میں تعلیم کا اختیار دیا۔

عورتیں سبقت لے جاتی هیں ان تحفوں میں جسے مهمان نوازی، شفقت، سیکھانا اور مدد کرنے میں۔ بهت ساری کلیسیاؤں کی خدمت کا انحصار عورتوں پر هے۔ کلیسیا میں جو عورتیں دعا یا نبوت کرتی هیں ان پر پابندی نهیں هے ﴿1۔کرنتھیوں11باب5آیت﴾، صرف مردوں پر روحانی تعلیم کا اختیار نهیں رکھتیں۔ کلامِ مقدس میں کهیں بھی عورتوں کو پاک روح کے تحفوں کو استعمال کرنے کی ممانعت نهیں۔﴿1۔کرنتھیوں12باب﴾۔ عورتیں ویسے هی جس طرح سے مرد دوسروں کو تربیت دینے کے لئے بلائے جاتے هیں پاک روح کے پھلوں کو ظاهر کرتی هیں ﴿گلتیوں5باب22تا23آیت﴾، اورکھوئے هوؤں کے لئے خوشخبری کا اعلان کرنا ﴿متی28باب18تا20آیت؛ اعمال1باب8آیت؛ 1۔پطرس3باب15آیت﴾۔

خدا نے صرف مردوں کو مقرر کیا که وه کلیسیا میں روحانی تعلیم کا اختیار رکھ کر خدمت کریں۔ یه اس لئے نهیں که مرد اچھے استاد هوتے هیں، یا کیونکه عورتیں کمتر یا کم ذهین هوتی هیں﴿جو که یه مسئله نهیں﴾۔ ساده الفاظ میں یه که خدا نے کلیسیا کو اس طرح کام کرنے کے لئے مقرر کیا۔ مرد روحانی پیشوائی کے لئے مقرر کئے گئے هیں۔ اپنی زندگیوں میں اپنے الفاظ کے ذریعے۔ عورتوں کو کم اختیار کے کردار میں پیش کیا گیا هے۔ عورتوں کی حوصله افزائی کی گئی هے که وه دوسری عورتوں کو تعلیم دیں﴿ططس2باب3تا5آیت﴾۔ کلامِ مقدس عورتوں کے بچوں کو تعلیم دینے سے منع نهیں کرتا۔ صرف ایک چیز سے عورتوں کو منع کیا گیا هے که وه نه تو مردوں کو تعلیم دینے یا مردوں پر روحانی اختیار رکھنے سے۔ اس طرح منطقی طور پر اس میں عورتوں کا پادریوں کی طرح کام کرنا /تبلغ کرنا بھی شامل هے۔ یه کسی بھی طرح سے عورتوں کو کم اهمیت نهیں دیتا، جس کا مطلب هے مگر انکو کلیسیا میں خدمت کے لئے مقرر کرتا هے که اس عهد پر نظر کریں که کیسے خدا نے انهیں اپنی برکتوں سے نوازاهے


سوال: گرجا گھر جانا کیوں اہم ہے ؟

جواب:
بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ ہمیں گرجا گھر جانے کی ضرورت ہے تاکہ ہم دوسرے ایمانداروں کے ساتھ مل کر خدا کی عبادت کر سکیں اور اپنی روحانی نشوونما کے لیے اُس کا کلام سیکھیں ( اعمال 2 : 42 ، عبرانیوں 10 : 25 ) گرجا گھر وہ جگہ ہے جہاں ہم ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں ( 1 یوحنا 4 : 12 ) ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ( عبرانیوں 3 : 13) ۔ ایک دوسرے کا لحاظ کرتے ہیں ( عبرانیوں 10 : 24 ) ایک دوسرے کی خدمت کر تے ہیں ( گلتیوں 5 : 13 ) ایک دوسرے کی راہنمائی کرتے ہیں ( رومیوں 15 : 14 ) ایک دوسرے کا احترام کر تے ہیں ( رومیوں 12 : 10 ) اور ایک دوسرے کے ساتھ رحم دلی اور ایک دوسرے کے لیے ہمدردی کا جذبہ رکھنے والے بن جاتے ہیں ( افسیوں 4 : 32 )

جب کوئی شخس نجات ک لیے یسوع مسیح پر ایمان رکھتا ہے تو وہ (مرد) یا وہ ( عورت ) مسیح کے جسم کا رُکن بن جاتا ہے ۔ ( 1 کرنتھیوں 12 : 27 ) ۔ کیونکہ کلیسیا کے نظام کو ٹھیک ٹھیک چلانے کے لیے ضروری ہے کہ اُس کے تمام " حصے" موجود ہوں ۔ ( 1 کرنتھیوں 12 : 14 ۔ 20 ) اِسی طرح ایک ایماندار دوسرے ایمانداروں کی راہنمائی اور حوصلہ افزائی کے بغیر کبھی کبھی مکمل روحانی پختگی حاصل نہیں کر پائے گا ( 1 کرنتھیوں 12 : 21 ۔ 26 ) اِن وجوہات کی بنا ء پر گرجا گھر میں جانا ، اِس میں حصہ لینا او رفاقت ایک ایماندار کی زندگی کے باقاعدہ پہلو ہونے چاہییں ۔ ہفتہ وار گرجا گھر میں جانا کسی بھی طرح سے ایمانداروں سے تقاضا نہیں کرتا ہے لیکن جو کوئی مسیح سے تعلق رکھتا ہے اُسے خدا کی عبادت کرنے ، اُس کے کلام کو حاصل کرنے اور دوسرے ایمانداروں کے ساتھ رفاقت کرنے کی خواہش رکھنی چاہیے ۔


سوال: سبت کا دن کونسا ہے ہفتہ یا اتوار ؟ کیا مسیحیوں کو سبت کا دن منانا چاہیے ؟

جواب:
اکثر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ خروج 20 باب اُسکی 11 آیت میں تخلیق اور سب کے درمیان ےتعلق کی وجہ سے " خدا نے عدن میں سبت کی ابتدا کی " اگرچہ خدا کی ساتویں دن کی ابتدا سے ( پیدائش 2 : 3 ) آنے والے سبت کے قانون کی پیشن گوئی کی گئی یہاں پر اسرائیل کے مصر کی سرزمین چھوڑنے سے پہلے سبت کے بارے بائبل کا کوئی بیان موجود نہیں ہے ۔ کلام میں کہیں بھی کوئی بھی ایسا اشارہ موجود نہیں ہے کہ سبت آدم سے لیکر موسیٰ تک منایا جاتا رہا تھا ۔ خدا کا کلام اِسے نہایت واضح کرتا ہے کہ سبت کا منایا جانا خدا اور اسرائیل کے درمیان ایک خاص علامت تھا " پس بنی اسرائیل سبت کو مانے اور پُشت در پُشت اُسے دئمی عہد جان کر اُس کا لحاظ رکھیں میرے اور بنی اسرائیل کے درمیان یہ ہمیشہ کے لیے ایک نشان رہےگا اِس لیے کہ چھ دن میں خداوند نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور ساتویں دن آرم کرکے تازہ دم ہوا " ( خروج 31 : 16 ۔ 17 )

استثا 5 باب میں موسیٰ اسرائیلوں کی اگلی نسل کے لیے دس احکام کو نئے سرے سے بیان کرتا ہے ۔ یہاں پر 12 سے 14 آیات تک سبت کے منائے جانے کے حکم کے بعد موسیٰ بنی اسرائیل کو سبت کا دن دئے جانے کی وجہ بتاتا ہے ۔ " اور یاد رکھنا کہ تُو مُلک مصر میں غلام تھا اور وہاں سے خداوند تیرا خدا اپنے زور آور ہاتھ اور بُند بازو سے تُجھ کو نکال لایا اِس لیے خداوند تیرے خدا نے تُجھ کو سبت کے دن کو ماننے کا حکم دیا " اسرائیل کو سبت کا دن بھی دینے کے لیے خدا کا ارادہ یہ نہیں تھا کہ وہ تخلیق کو یاد رکھے بلکہ یہ کہ وہ مصری غلامی اور خداوند کے وہاں سے نکالنے کو یاد رکھے ۔ سبت کے دن کو منانے کے تقاضے دیکھیں ، ایک آدمی سبت کے قانون میں رہتے ہوئے سبت کے دن کو اپنا گھر نہیں چھوڑ سکتا ہے ( خروج 16 : 29 ) ۔ وہ آگ نہیں جلا سکتا ( خروج 35 : 3 ) اور وہ کسی سے بھی کام نہیں لے سکتا ہے ( استثنا 5 : 14 ) سبت کے قانون کو توڑنے والا شخص مار دیا جائے گا ( خروج 31 : 15، گنتی 15 : 32 ۔ 35) نئے عہد نامے کے پیروں کا ایک تجزیہ ہمیں چار نقاط ظاہر کرتا ہے ۔

1 ۔ جب مسیح اپنی دوبارہ جی اُٹھنے کی شکل میں آتا ہے اور اِس دن کی نشاندہی کی گئی ہے ، ہر ہمیشہ ہفتہ کا پہلا دن ہو گا ( متی 28 : 1 ۔ 10 ، مرقس 16 : 9 ،24 : 1، 13 ، 15 ، یوحنا 20 : 19 ۔ 26 ) اعمال سے لیکر مکاشفہ تک صر ف ایک بار سبت کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ یہ یہودیوں کے مبشرانہ مقاصد کے لیے تھا اور عام طور پر ایک عبادت گاہ میں منایا جاتا تھا ۔ ( اعمال ابواب ،13 ۔ 18 ) ۔

2۔ پولس لکھتا ہے " میں یہودیوں کے لیے یہودی بنا تاکہ یہودیوں کو کھینچ لاوں ( 1 کرنتھیوں 9 : 20 ) پولس اُن کے ساتھ رفاقت کرنے کے لیے اور یہودی عبادت خانہ میں نہیں گیا اور برگزیدوں کو تعلیم دینے کے لیے نہیں بلکہ گناہ کا اعلان کرنے اور گمراہیوں کو بچانے کے لیے ۔

3 ۔ ایک دفعہ پولس فرماتا ہے اب سے غیر قوموں کے پاس جاوں گا ( اعمال 18 : 6 )۔

سبت کے بارے میں دوبارہ کبھی بات نہیں ہوئی ، اور

4 ۔ سبت کے دن کی استقامت ( وفاداری ) کو بروے کار لانے کی بجائے نئے عہد نامے کی باقیات مخالفت کر تی ہیں ۔ ( اوپر دئے گئے نقاط میں ایک سے تین کے علاوہ سب شامل ہیں جو کہ کُلسیوں 2 باب 16 میں دیکھے گئے ہیں ) ۔

اوپر دئے گئے نقطہ نمبر 4 پر زیادہ قریب سے نظر کرنے سے واضح ہو جائے گا کہ نئے عہد نامے کے ایماندار کےلیے سبت کا دن منانا فرض نہیں ہے ۔ اور یہ ہی ظاہر کرے گا کہ ایک اتوار کا " مسیحی سبت " ہونے کا تصور بھی کلام کا نہیں ہے ۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے یہاں پرپولس کے غیر قوموں پر مرتکز ہونے کے بعد صرف ایک بار سبت کا ذکر آیا ہے " پس کھانے پینے یا عید یا نئے چاند یا سبت کی بابت کوئی تُم پر الزام نہ لگائے کیونکہ یہ آنے والی چیزوں کا سایہ ہیں مگر اصل چیزیں مسیح کی ہیں " ( کُلسیوں 2 : 16 ۔ 17 ) یہودیوں کا سبت صلیب پر ختم ہو گیا یہاں پر مسیح " اور حکموں کی وہ دستاویز مٹا ڈالی " تھی ۔ ( کُلسیوں 2 : 14 ) ۔

یہ خیال نئے عہد نامہ میں ایک سے زیادہ بار دہرایا گیا ہے " کوئی تو ایک دن کو دوسرے سے افضل جانتا ہے اور کوئی سب دنوں کو برابر جانتا ہے ہر ایک اپنے دل میں پورا اعتقاد رکھے جو کسی دن کو مانتا ہے وہ خدا کے لیے مانتا ہے " ( رومیوں 14 : 5 ۔ 6 ) ۔ " مگر اب جو تُم نے خدا کو پہچانا بلکہ خدا نے تُم کو پہچانا تو اُن ضعیف اور نکمی ابتدائی باتوں کی طرف کس طرح رجوع ہو تے ہو ۔ جن کی دوبارہ غلامی کرنا چاہتے ہو " تُم دنوں اور مہینوں اور مقررہ وقتوں اور برسوں کو مانتے ہو ، مُجھے تہماری بابت ڈر ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ جو محنت میں نے تُم پر کی ہے بے فائدہ نہ جائے "۔

بعض لوگ دعویٰ کر تے ہیں کہ 321 بعد از مسیح میں کانسٹنٹائن کے ایک حکم نے سبت کو ہفتہ سے اتوار میں " تبدیل" کر دیا تھا ۔ کس دن ابتدائی کلیسیا عبادت کے لیے جاتی تھی ؟ کلام نے ایمانداروں کی رفاقت یا عبادت کے لیے کسی بھی سبت ( اتوار) کے دن اکٹھے ہونے کی کبھی بھی نشاندہی نہیں کی ہے ۔ تاہم یہاں پر واضح پیرے میں جو ہفتہ کے پہلے دن کی نشاندہی کرتے ہیں مثال کے طورپر اعمال 20 باب اسکی 7 آیت بیان کرتی ہے " ہفتہ کے پہلے دن ہم روٹی توڑنے کے لیے اکٹھے ہوئے " ( 1 کرنتھیوں 16 : 2 ) میں پولس کرنتھس کے ایمانداروں کو اُبھارتا ہے " ہفتہ کے پہلے دن تُم میں سے ہر شخص اپنی آمدنی کے موافق کچھ اپنے پاس رکھ چھوڑا کرے تاکہ میرے آنے پر چندے نہ کرنے پڑیں ۔" جب سے 2 کرنتھیوں 9 باب 12 میں پولس نے اِس خیرات کو " خدمت" کی حثیت دی ہے یہ چندہ مسیحیوں کے اجتماع کی اتوار عبادت کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے ۔ تاریخی طو ر پر اتوار نہ ہی ہفتہ گرجا گھر میں مسیحیوں اکٹھے ہونے کا دن نہیں تھا اِس اور اِس کی عبادت کی تاریخیں پہلی صدی کی ہیں ۔ سبت کادن اسرائیل کو دیا گیا نہ کہ کلیسیا کو دیا گیا تھا ۔ سبت کا دن ابھی تک بھی ہفتہ ہی ہے ۔ نہ کہ اتوار اور کبھی تبدیل نہیں ہو گا ۔ سبت پُرانے عہد نامہ کی شریعت کا حصہ ہے ۔ اور مسیحی اِس شریعت کے بندھن سے آزاد ہیں ۔( گلتیوں 4 : 1 ۔ 26 ، رومیوں 6 : 14 ) ۔ سبت کا دن منانا مسیحیوں کے لیے ضروری نہیں ہے چاہے یہ ہفتہ ہو یا اتوار کا دن ہو ۔ ہفتے کا پہلا دن اتوار خداوند کا دن ( مکاشفہ 1 : 10 ) مسیح کے ہمارے دوبارہ جی اُٹھنے والے سردار کے طور پر نئی تخلیق کی یاد دلاتا ہے ۔ ہم پر یہ فرض نہیں ہے کہ ہم موسوی سبت کی آرام کرتے ہیں پیروی کریں بلکہ اب ہم جی اُٹھنے والے مسیح کی خدمت کرتے ہوئے اِس کا منانے کے لیے آزاد ہیں ۔ پولس رسول کہتا ہے کہ ہم مسیحی کو قدیم آرام کرنے والا سبت منانے کا فیصلہ کرنا چاہیے " کوئی تو ایک دن کو دوسرے سے افضل جانتا ہے اور کوئی سب دنوں کو برابر جانتا ہے ہر ایک اپنے دل میں پورا اعتقاد رکھے ( رومیوں 14 :5 ) ۔ ہمیں ہر دن خدا کی عبادت کرنا ہو گی نہ کہ ہفتہ یا اتوار کے دن کو کرنی چاہیے ۔


سوال: مُجھے کیوں ایک منظم مذہب میں ایمان رکھنا چاہیے ؟

جواب:
" مذہب" کی تعریف لغت میں اِس طرح کی ہو گی " خداوند یا دیوتائوںپر عبادت کرنے کے لیے ایمان رکھنا جس کا اظہار عام ہر رسومات سے ہوتا ہے ۔ ایمان رکھنے کا کوئی مخصوص نظام جیسے کہ وغیرہ وغیرہ ۔ اکثر اخلاقیات کو اِس میں شامل کیا جاتا ہے ۔ اِس تعریف کی روشنی میں بائبل منظم مذہب کے بارے میں بات نہیں کر تی ہے لیکن بہت سارے معاملات میں " منظم مذہب "کا مقصد اور تاثر کچھ اِس طرح کا نہیں ہے کہ خدا اِس کے ساتھ خوش ہے۔

پئدایش11 باب میں غالبا ً منظم مذہب کی پہلی مثال ہے نوح کی اولاد نے خدا کے حکم پوری دُنیا کو بھر دو کی تابعداری کرنے کی بجائے بابل کے مینار کی تعمیر کے لیے اپنے آپ کو منظم کیا وہ یقین رکھتے تھے کہ اُن کا اتحاد خدا کے ساتھ رشتے سے زیادہ اہم ہے ۔ خدا نے اِس میں مداخلت کی اور اِن کی زبانوں کو بگاڑ دیا ۔ پھر اِس منظم مذہب کو ختم کر دیا۔

خروج 6 باب میں اور آگے بھی خدا نے قوم بنی اسرائیل کے لیے ایک " منظم " مذہب ترتیب دیا دس احکام " اشائے ربانی سے متعلقہ قوانین ، اور قُربانی کا نظام سب کی ابتدا ، خدا سے ہوئی اور اسرائیلوں نے اُن کی پیروی کی ، نئے عہد نامہ کے مزید مطالعہ واضح کر تا ہے کہ اِس مذہب کا مدعا ایک نجات دہندہ مسیح کی ضرورت کے لیے نشاندہی کرنا تھا ۔( گلتیوں 3 ، رومیوں 7 باب) تاہم بہت سارے اِسے غلط سمجھتے ہیں اور خدا کی بجائے اصول اور رسومات کی پرستش کر تے ہیں ۔ اسرائیل کی پوری تاریخ میں اسرائیلیوں نے منظم مذاہب کے ساتھ تنازع سمیت بہت سارے تنازعات کا تجربہ کیا ہے ۔ مثالوں میں بعل کی پرستش ( قضاۃ 6 ، 1 سلاطین 18 ) دجون ( 1 سیموئیل 5 ) اور ملیچ ( 2 سلاطین 23 ؛ 10 ) شامل ہیں ۔ خدا نے اپنا اختیار اور اپنی موجودگی کو ظاہر کر تے ہوئے اَن مذاہب کے پیروکاروں کو شکستِ فاش دی ۔

اناجیل میں فیریسی اور سدیسی مسیح کے دور میں منظم مذاہب کے نمائیدہ کے طور پر بیان ہوئے ہیں ۔ یسوع مسلسل اُن کی غلط تعلیمات اور منافقانہ طرزِ زندگی کے بارے میں اُن کا سامنا کرتا ہے ۔ نئے عہد نامہ کے خطوط میں منظم گروہ تھے، جو کہ اناجیل کو متقاضی کاموں اور رسومات کے ساتھ ملاتے تھے ۔ وہ یمانداروں پر تبدیل ہونے اور " مسیحیت کے اضافی" مذاہب کو قبول کرنے پر بھی زور دیتے تھے ( گلتیوں ) اِس طرح کے مذاہب کے بارے میں خبردار کرتی ہیں۔ مکاشفہ کی کتاب میں منظم مذاہب دُنیا پر اِس طرح کا ایک تاثر قائم کرے گا جیسا کہ مسیح کا انکار کرنے کا نظام ہے یعنی ایک مذہب دُنیا ۔ بہت سارے معاملات میں منظم مذہب کا آخری نتیجہ خدا کی طرف سے ایک تباہی کی صورت میں ہے ۔ تاہم بائبل منظم ایمانداروں کے بارے میں بات نہیں کرتی ہے جو کہ اُس کے منصوبے کا حصہ ہیں ۔ خدا اِن منظم ایمانداروں کی جماعتوں کو " کلیسیا ئیں" کہتا ہے ۔ اعمال کی کتاب اور نئے عہد نامہ کے خطوط کے بیانات نشاندہی کرتے ہیں کہ کلیسیا منظم اور آزاد ہونی چاہیے ۔ تنظیم حفاظت ، پیدوار اور پہنچ سے بالا تر ہے ۔ ( اعمال 2 : 41 ۔ 47 ) ۔ کلیسیا کے معاملے میں ، اِسے " منظم رفاقت " کہنا زیادہ بہتر ہو گا ۔ مذہب انسان کی خدا کے ساتھ رفاقت رکھنے کی جدوجہدکا نام ہے ۔ مسیحی ایمان خدا کے ساتھ رشتہ استوار کرنے کا نام ہے کیونکہ جو کچھ اُس نے ہمارے لیے مسیح یسوع کی قُربای کے وسیلہ سے کیا ہے ۔ یہاں پر خدا تک پہنچنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے ( و ہ ہماری پہنچ سے بالا تر ہے ( رومیوں 5 : 8 ) کوئی غرور نہیں ( سب کچھ فضل سے حاصل ہوتا ہے ۔ افسیوں 2 : 8 ۔ 9 ) رہنما پر کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہیے ( مسیح سردار ہے ۔ کُلسیوں 1 : 18 ) کوئی تعصب نہیں ہونا چاہیے ( ہم سب مسیح میں ایک ہیں ۔ گلتیوں 3 : 28 ) منظم ہونا مسئلہ نہیں ۔ ایک مذہن کی رسومات اور قوانین پر مرکوز ہونا مسئلہ ہے ۔