3
“ہم پلٹے اور بسن کو جانے وا لی سڑک پر چلتے رہے۔ بسن کا بادشا ہ عوج اور اس کے تمام لوگ ہم لوگوں کے خلاف ادرعی میں لڑنے آئے۔ خداوند نے مجھ سے کہا، ’عوج سے نہ ڈرو کیو ں کہ میں نے اسے تمہا رے ہاتھ میں دینے کا فیصلہ کیا ہے میں ا سکے تمام لوگوں اور زمین کو تمہیں دوں گا تم اسے اسی طرح شکست دو گے جیسے تم نے حسبون کے حاکم اموری بادشا ہ سیحون کو شکست دی تھی۔‘
“اس طرح خداوند ہما رے خدا نے بسن کے بادشا ہ عوج اور اس کے تمام لوگوں کو ہما رے حوا لے کیا۔ ہم نے اسے اسطرح شکست دی کہ اس کا کو ئی آدمی بھی زندہ نہ بچا۔ تب ہم لوگوں نے ان شہروں پر قبضہ کیا جو اس وقت عوج کے قبضے میں تھے۔اس وقت ہم لوگ اس کے تمام شہروں کو لے لئے اور وہاں کو ئی بھی ایسا شہر نہیں تھا جسے ہم لوگوں نے اس سے نہ لے لیا : بسن میں عوج کی سلطنت کے ارجوب کے علا قے میں۶۰ شہروں کو اپنے قبضے میں لے لئے۔ ان تمام شہروں میں اونچی دیواریں اور پھاٹکیں اور پھاٹکوں میں مضبوط سلا خیں تھیں کچھ دوسرے شہر بغیر دیوار کے تھے۔ ہم لوگوں نے انہیں ویسے تباہ کیا جیسے حسبون کے بادشا ہ سیحون کے شہروں کو تباہ کیا تھا ہم نے ہر ایک شہر کو انکے لوگوں کے ساتھ ساتھ عورتوں اور بچوں کو بھی تباہ کیا۔ لیکن ہم نے شہروں کے تمام جانوروں اور قیمتی چیزوں کو اپنے لئے رکھا۔
“اس وقت ہم نے امو ری لوگوں کے بادشا ہوں سے زمین لی۔ یہ زمین د ریا ئے یردن کی دوسری طرف ہے یہ زمین ارنون وادی سے لے کر حرمون سر یون پہا ڑ تک ہے۔ (صیدو نی لوگ حرمون پہا ڑ کہتے ہیں لیکن اموری لوگ اسے سنیر کہتے ہیں۔) 10 ہم نے کھلے میدان کے تمام شہروں ، پو را جلعا د اور سارے کے سارے بسن یہاں تک کہ سلکہ اور ادرعی کو لے لیا۔ سلکہ اور ادرعی بسن کے عوج کی سلطنت کے شہر تھے۔” 11 ( بسن کا بادشاہ عوج تنہا آدمی تھا جو رفاعی لوگوں میں زندہ چھوڑا گیا تھا۔ عوج کا پلنگ لوہے کا تھا۔ یہ تقریباً ۱۳ فیٹ لمبا اور ۶ فیٹ چوڑا تھا۔ ربّہ شہر میں یہ پلنگ ابھی تک ہے جہاں عمّونی لوگ رہتے ہیں۔
12 “اس وقت اس زمین کو ہم لوگوں نے فتح کیا تھا۔ میں نے رُوبن خاندانی گروہ اور جدّی خاندان کے گروہ کو ارنون وادی کے سہارے عروعیر سے جِلعاد تک آدھے پہاڑی حصّہ تک اُس کے شہروں کے ساتھ کا ملک دیا ہے۔ 13 منسّی کے آدھے خاندانی گروہ کو میں نے جلعاد کا دُوسرا آدھا حصّہ اور عوج سلطنت کا پورا حصّہ بسن کو دیا۔”
(بسن کا علاقہ رفائیم کا ملک بھی کہلاتا تھا۔) 14 منسّی کے خاندانی گروہ سے یائیر نے ارجوب کے تمام علاقے (بسن)، جسوریوں کی سرحد معکاتی لوگوں کی سرحد تک قبضہ کیا۔ یائیر نے بسن کے اُن شہروں کا نام اپنے نام پر رکھا اُسی سے آج بھی یہ سب شہر یائیر کے نام سے پکارا جاتا ہے۔)
15 “میں نے جِلعاد مکیر کو دیا۔ 16 اور رُوبن خاندان کے گروہ کو اور جاد خاندانی گروہ کو جلعاد سے شروع ہو نے والی زمین دی جو وادی ارنون سے دریائے یبوق تک ہے۔ وادی کے درمیان ایک سرحد ہے۔ دریائے یبوق امونی لوگوں کی سرحد ہے۔ 17 مغربی سرحد ریگستان کے نزدیک یر دن ندی ہے۔ شمال میں گلیل جھیل ہے اور جنوب میں مردہ سمندر ( کھارا سمندر ) ہے مشرق میں پسگہ چٹان کی ترائی ہے۔
18 “اس وقت میں نے اُن خاندانی گروہ کو یہ حکم دیا تھا : ’ خدا وند تمہارے خدا نے تم کو رہنے کے لئے دریائے یردن کے اُس جانب کا ملک دیا ہے لیکن اب تمہارے جانبازوں کو اپنے ہتھیار اُٹھانے چاہئے۔ اور دُوسرے اسرائیلی خاندانی گروہوں کو دریا کے پار لے جانا چاہئے۔ 19 تمہاری بیویاں تمہارے چھوٹے بچّے اور تمہارے مویشی ( میں جانتا ہوں کہ تمہارے پاس بہت سے مویشی ہیں۔) یہاں اُن شہروں میں رہیں گے جنہیں میں نے تمہیں دیا ہے۔ 20 لیکن تمہیں اپنے اسرائیلی رشتے داروں کی مدد اس وقت تک کرنی چاہئے جب تک وہ دریائے یردن کے دُوسرے کنارے پر اپنی زمین کو پا نہیں لیتے جسے خدا وند نے انہیں دی ہے۔ اُن کی اُس وقت تک مدد کرو جب تک وہ ایسا امن نہ پالیں جیسا تم نے یہاں پا لیا ہے۔ پھر تم یہاں اپنے ملک میں واپس آسکتے ہو جسے میں نے تمہیں دیا ہے۔‘
21 “تب میں نے یشوع سے کہا، ’تمہاری اپنی آنکھوں نے وہ سب کچھ دیکھا ہے۔ جو خدا وند تمہارے خدا نے ان دو بادشاہوں کے ساتھ کیا ہے۔ خدا وند ایسا ہی اُن سب بادشاہوں کے ساتھ کرے گا جنکی حکومت میں تم داخل ہوگے۔ 22 اُن ملکوں کے بادشاہوں سے تم مت ڈرو کیوں کہ خدا وند تمہارا خدا تمہارے لئے لڑے گا۔‘
23 “میں نے اُس وقت خدا وند سے خاص مہربانی کی دعا کی۔ میں نے خدا وند سے کہا ، ’ 24 خدا وند میرے آقا ،میں تیرا خادم ہوں۔ تو نے اپنی طاقتور اور تعجب خیز کارناموں کو دکھانا شروع کر دیا ہے۔ آسمان یا زمین پر کوئی ایسا خدا نہیں جو ایسی طاقتور اور تعجب خیز کارناموں کو انجام دے سکے جیسا کہ تو نے کیا ہے۔ 25 میں تجھ سے التجاء کرتا ہوں کہ تو مجھے یردن ندی کے پار اچھی زمین اور خوبصورت پہاڑی ملک اور لبنان کو دیکھنے کے لئے جانے دے۔‘
26 “لیکن خدا وند تم لوگوں کی وجہ سے مجھ پر غصّہ میں تھا اُس نے میری بات سننے سے انکار کردیا۔ اُس نے مجھ سے کہا، ’بہت ہوگیا۔ تم مجھے اس کے متعلق اور ایک لفظ بھی نہ کہو۔ 27 پسگہ پہاڑ کی چوٹی پر جاؤ مغرب کی طرف ، شُمال کی طرف ، جنوب کی طرف ، مشرق کی طرف دیکھو سارے ملک کو تم اپنی آنکھوں سے دیکھو کیوں کہ تم دریائے یردن کو پار نہیں کرو گے۔ 28 تمہیں یشوع کو ہدایت دینی چاہئے اُسے با ہمّت اور طاقتور بناؤ کیوں ؟ کیوں کہ یشوع لوگوں کو دریائے یردن کے پار لے جائے گا۔ یشوع ملک لینے اور اُس میں رہنے کے لئے لے جائے گا۔ یہی وہ ملک ہے جسے تم دیکھو گے۔‘ 29 “اِسی لئے ہم بیت فُغور کے دوسری جانب وادی میں ٹھہر گئے۔ ”
1:28+ادبی1:28طور پر “ عنا قی لوگ ” عنا قی نسل یہ خاندان لمبے قد وا لے، طاقتور اور لڑا ئی لڑنے وا لے آدمیوں کے لئے مشہور تھے۔