11
تقریباً ایک مہینہ بعد عمّونی ناحس اور اس کی فوج نے یبیس جلعاد کو گھیر لیا۔ یبیس کے تمام لوگوں نے ناحس سے کہا ، “اگر تم ہم سے معاہدہ کرو تو ہم تمہا ری خدمت کریں گے۔”
لیکن عمونی ناحس نے جواب دیا ، “میں تم لوگو ں کے ساتھ تب تک کو ئی معا ہدہ نہیں کروں گا جب تک میں سبھی بنی اسرا ئیلیوں کو پریشان کرنے کی غرض سے تمہا رے شہر کے سبھی آدمیوں کی داہنی آنکھ نکال نہ لوں۔”
یبیس کے قائدین نے ناحس سے کہا ، “ہم سات دن کا وقت لیں گے ہم تمام اسرا ئیل میں قاصد بھیجیں گے۔ اگر کو ئی بھی ہماری مدد کو نہ آئے تو ہم تمہا رے پاس آئیں گے اور اپنے کو تمہا رے حوالے کر دیں گے۔”
قاصد جبعہ آئے جہاں ساؤل رہتا تھا۔ انہوں ے لوگوں کو خبر دی تب لوگ زاروقطار رو نے لگے۔ اس وقت ساؤل اپنے بیلوں کے ساتھ کھیتوں میں گیا ہوا تھا۔ ساؤل کھیت سے آیا ہی تھا کہ وہ لوگوں کے رو نے کی آواز سنی تو اس نے پو چھا ، “لوگو ں پر کیامصیبت آئی ہے۔ وہ لوگ کیوں رو رہے ہیں ؟ ”
تب لوگوں نے ساؤل سے وہی کہا جو یبیس کے قاصدوں نے پہلے کہا تھا۔ خدا کی روح ساؤ ل کے اوپر آئی جب اس نے لوگوں کے جوابوں کو سنا تو وہ بہت غصہ میں آگیا۔ ساؤ ل نے بیلو ں کی ایک جو ڑی لے کر انکو ٹکڑے ٹکڑے میں کاٹا۔ تب وہ ان بیلوں کے ٹکڑوں کو قاصدوں کو دیا۔ اس نے قاصدوں کو حکم دیا کہ ان ٹکڑوں کو اسرا ئیل کی ساری سر زمین پر لے جا ؤ۔ اس نے ان سے کہا کہ یہ پیغام سارے بنی اسرا ئیلیوں کو دے : آؤ ! ساؤل اورسموئیل کی ہدایت پر چلو اگر کو ئی آدمی نہ آئے اور مدد نہ کرے تو پھر وہی باتیں اس کی گائیوں کے ساتھ ہو ں گی ! ”
تب خداوند کا خوف لوگوں کے اوپر چھا گیا۔ وہ سب ایک ساتھ ایک تن ہو کر ساؤ ل کے ساتھ شامل ہو نے کے لئے آئے۔ ساؤل نے بزق میں آدمیوں کو ایک ساتھ جمع کیا تقریباً ۰۰۰، ۰۰،۳ آدمی اسرا ئیل سے اور ۰۰۰،۳۰ یہوداہ سے تھے۔
ساؤل اور اس کی فوج نے یبیس کے قاصدوں سے کہا، “یبیس جلعاد کے لوگوں سے کہو کہ کل دوپہر تم بچائے جا ؤ گے۔”
قاصدوں نے ساؤل کے پیغام کو یبیس کے لوگوں سے کہا۔ یبیس کے لوگ بہت خوش تھے۔ 10 تب یبیس کے لوگوں نے ناحس عمّونی سے کہا ، “کل ہم تمہا رے پاس آئیں گے تب تم جو چاہو وہ کر سکتے ہو۔”
11 دوسرے دن صبح ساؤل نے اپنے سپاہیوں کو تین گروہوں میں علٰحدہ کیا۔ سورج کے طلوع ہو نے کے وقت ساؤل اور اس کے سپا ہی عمونی چھا ؤنی میں داخل ہو ئے اور اس وقت عمونی محا فظو ں کوبدل رہے تھے۔ حملہ کر دیا اور اسنے عمونیوں کو دوپہر سے پہلے شکست دے دی اور جو زندہ بچ گئے تھے وہ اس طرح بکھیر دیئے گئے کہ دو سپا ہی بھی ایک ساتھ نہ رہے۔
12 تب لوگوں نے سموئیل سے کہا ، “کہاں ہیں وہ لو گ جنہوں نے کہا تھا کہ وہ نہیں چاہتے ہیں کہ ساؤل بادشا ہ کی طرح ان پر حکومت کرے ؟” ان لوگوں کو یہاں لا ؤ ہم انہیں ہلاک کریں گے۔”
13 لیکن ساؤل نے کہا ، “ نہیں آج کسی ایک کو بھی نہ ما رو کیو نکہ خداوند نے آج اسرا ئیل کو رہا ئی دی ہے۔
14 تب سموئیل نے لوگو ں سے کہا ، “آؤ ہم لوگ جلجال چلیں۔ جلجال میں ہم دوبارہ ساؤل کو بادشاہ بنا ئیں گے۔ ”
15 تمام لوگ جلجال گئے وہاں خداوند کے سامنے لوگو ں نے ساؤل کو بادشا ہ بنا یا انہوں نے قربانی کی نذر خداوند کو پیش کی۔ ساؤل اور سب بنی اسرا ئیلیوں نےخوشیاں منا ئیں۔
1:1+لاوی1:1کا خاندان دیکھیں تواریخ ۶ : ۳۳۔ ۳۸2:12+لفظی2:12طور پر : “وہ لوگ خدا وند کو نہیں جانے ” اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے خدا اور اسکی شریعت کے ساتھ بے ادبی اور بد سلوکی کی۔2:27+پیغمبر2:27جس کو خدا نے لوگوں سے کہنے کے لئے بھیجا ہو۔3:7+بمعنیٰ3:7خدا وند کا کلام اس پر نازل نہیں ہوا تھا۔6:7+فلسطینیوں6:7نے سو چا کہ اگر گائے اپنے بچھڑوں کو ڈھونڈنے کی کو شش نہیں کرتی ہے تو یہ ثابت ہو تا ہے کہ خدا نے انکی رہنمائی کی اور اس نے انکے نذرانوں کو قبول کیاہے-7:12+یا7:12جشانا ایک شہر یروشلم کے شمال سے تقریباً ۱۷ میل۔9:6+ایک9:6نبی ، ایک شخص جسے خدا نے لوگوں سے بات کرنے کے لئے بھیجا۔9:10-11+نبی9:10-11کا دوسرا نام10:12+لفظی10:12طور پر ، “اور اس کا باپ کون ہے؟ ” اکثر وہ آدمی جو دوسرے نبیوں کو سکھا تا اور انکی رہنمائی کرتا تھا “ باپ ” کہلاتا تھا۔