0^۲-توارِیخسلیمان رب سے حکمت مانگتا ہےسلیمان کی دولترب کے گھر کی تعمیر کی تیاریاںرب کے گھر کی تعمیرمُقدّس ترین کمرارب کے گھر کے دروازے پر دو ستونقربان گاہ اور سمندر نامی حوضسونے کے شمع دان اور میزیںصحناُس سامان کی فہرست جو حیرام نے تیار کیارب کے گھر کے اندر سونے کا سامانعہد کا صندوق رب کے گھر میں لایا جاتا ہےرب کے گھر کی مخصوصیت پر سلیمان کی تقریررب کے گھر کی مخصوصیت پر سلیمان کی دعارب کے گھر کی مخصوصیت پر جشنرب سلیمان سے ہم کلام ہوتا ہےسلیمان کی مختلف مہماترب کے گھر میں خدمت کی ترتیبسبا کی ملکہ سلیمان سے ملتی ہےسلیمان کی دولت اور شہرتسلیمان کی موتشمالی قبیلے الگ ہو جاتے ہیںرحبعام کو اسرائیل سے لڑنے کی اجازت نہیں ملتیرحبعام کی قلعہ بندیامام اور لاوی یہوداہ میں منتقل ہو جاتے ہیںرحبعام کا خاندانمصر کی یہوداہ پر فتحرحبعام کی موتیہوداہ کا بادشاہ ابیاہیہوداہ کا بادشاہ آساایتھوپیا پر فتحآسا رب سے عہد کی تجدید کرتا ہےشام کے ساتھ آسا کا معاہدہآسا کے آخری سال اور موتیہوداہ کا بادشاہ یہوسفطجھوٹے نبیوں اور میکایاہ کا مقابلہاخی اب رامات کے قریب مر جاتا ہےیہوسفط قانونی کارروائی کی اصلاح کرتا ہےعمونیوں کا یہوداہ پر حملہعمونیوں پر فتحیہوسفط کے آخری سال اور موتیہوداہ کا بادشاہ یہورامیہوداہ کا بادشاہ اخزیاہعتلیاہ کی ظالمانہ حکومتعتلیاہ کا انجام اور یوآس کی حکومتیوآس رب کے گھر کی مرمت کرواتا ہےیوآس بادشاہ رب کو ترک کرتا ہےیہوداہ کا بادشاہ اَمَصیاہادوم سے جنگاَمَصیاہ کی بُت پرستیاَمَصیاہ اسرائیل کے بادشاہ یوآس سے لڑتا ہےاَمَصیاہ کی موتیہوداہ کا بادشاہ عُزیّاہعُزیّاہ مغرور ہو جاتا ہےیہوداہ کا بادشاہ یوتامیہوداہ کا بادشاہ آخزاسرائیل قیدیوں کو رِہا کر دیتا ہےآخز اسور کے بادشاہ سے مدد لیتا ہےحِزقیاہ بادشاہ رب کے گھر کو دوبارہ کھول دیتا ہےرب کے گھر کی دوبارہ مخصوصیتفسح کی عید کے لئے دعوتحِزقیاہ اور قوم فسح کی عید مناتے ہیںپورے یہوداہ میں بُت پرستی کا خاتمہرب کے گھر میں انتظام کی اصلاحاسوری یہوداہ میں گھس آتے ہیںاسوری یروشلم کا محاصرہ کرتے ہیںرب سنحیرب کو سزا دیتا ہےحِزقیاہ کے آخری سالیہوداہ کا بادشاہ منسّییہوداہ کا بادشاہ امونیوسیاہ بادشاہ بُت پرستی کی مخالفت کرتا ہےرب کے گھر کی مرمترب کے گھر میں شریعت کی کتاب مل جاتی ہےیوسیاہ رب سے عہد باندھتا ہےیوسیاہ فسح کی عید مناتا ہےیوسیاہ کی موتیہوداہ کا بادشاہ یہوآخزیہوداہ کا بادشاہ یہویقیمیہویاکین کی حکومتصِدقیاہ بادشاہ اور یروشلم کی تباہیجلاوطنی سے واپسی