Home

زبُور

باب: 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41 42 43 44 45 46 47 48 49 50 51 52 53 54 55 56 57 58 59 60 61 62 63 64 65 66 67 68 69 70 71 72 73 74 75 76 77 78 79 80 81 82 83 84 85 86 87 88 89 90 91 92 93 94 95 96 97 98 99 100 101 102 103 104 105 106 107 108 109 110 111 112 113 114 115 116 117 118 119 120 121 122 123 124 125 126 127 128 129 130 131 132 133 134 135 136 137 138 139 140 141 142 143 144 145 146 147 148 149 150


-Reset+

باب 139

1 اَے خُداوند ! تُو نے مجھے جانچ لیا اور پہچان لیا۔
2 تُو میرا اُٹھنا بیٹھنا جانتا ہے۔ تُو میرے خیال کو دور سے سمجھ لیتا ہے۔
3 تُو میرے راستہ کی اور میری خوابگاہ کی چھان بین کرتا ہے۔ اور میری سب روشوں سے واقف ہے۔
4 دیکھ! میری زُبان پر کوئی ایسی بات نہیں جِسے تُو اَے خُداوند! پُورے طور پر نہ جانتا ہو۔
5 تُو نے مجھے آگے پیچھے سے گھیر رکھا ہے۔اور تیرا ہاتھ مجھ پر ہے۔
6 یہ عرفان میرے لئے نہایت عجیب ہے۔ یہ بُلند ہے میَں اِس تک پہنچ نہیں سکتا۔
7 میَں تیری روح سے بچ کر کہاں جاؤں۔ یا تیری حُضُوری سے کدھر بھاگُوں؟
8 اگر آسمان پر چڑھ جاؤں تو تُو وہاں ہے۔ اگر میَں پاتال میں بستر بچھاؤں تو دیکھ! تو وہاں بھی ہے۔
9 اگر میَں صُبح کے پر لگا کر سُمندر کی اِنتہا میں بسوں۔
10 تو وہاں بھی تیرا ہاتھ میری راہنمائی کریگا۔ اور تیرا دہنا ہاتھ مجھے سنبھالیگا۔
11 اگر میَں کہوں کہ یقیناً تاریکی مجھے چِھپا لیگی اور میری چاروں طرف کا اُجالا رات بن جائیگا۔
12 تو اندھیرا بھی تجھ سے چِھپا نہیں سکتا۔ بلکہ رات بھی دِن کی مانند روشن ہے۔ اندھیرا اور اُجالا دونوں یکسان ہیں۔
13 کیونکہ میرے دِلکو تُو ہی نے بنایا ۔ میری ماں کے پیٹ میں تُو ہی نے مجھے صورت بخشی ۔
14 میَں تیرا شُکر کروُنگا کیونکہ میَں عجیب و غریب طور سے بنا ہوُں۔ تیرے کام حیرت انگیز ہیں۔ میرا دِل اِسے خوب جانتا ہے۔
15 جب میَں پوشیدہ میں بن رہا تھا اور زمین کے اسفل میں عجیب طور سے مرتب ہو رہا تھا تو میرا قالب تجھ سےچھِپا نہ تھا۔
16 تیری آنکھوں نے میرے بے ترتیب مادّے کو دیکھا اور جو ایام میرے لئے مقرر تھے وہ سب تیری کتاب میں لکھے تھے۔جبکہ ایک بھی وجود میں نہ آیا تھا۔
17 اَے خُدا! تیرا خیال میرے لئے کیسے بَیش بہا ہیں۔ اُنکا مجموعہ کیَسا بڑا ہے؟
18 اگر میَں اُنکو گِنوں تو وہ شُمار میں ریت سے بھی زیادہ ہیں۔ جاگ اُٹھتے ہی تجھے اپنے ساتھ پاتا ہوں۔
19 اَے خُدا!کاشک تُو شریر کو قتل کرے۔ اِسلئے اَے خونخوارو! میرے پاس سے دوُر ہو جاؤ ۔
20 کیونکہ وہ شرارت سے تیرے خلاف باتیں کرتے ہیں۔ اور تیرے دُشمن تیرا نام بے فائدہ لیتے ہیں۔
21 اَے خُداوند! کیا میَں تجھ سے عداوت رکھنے والوں کے سے عداوت نہیں رکھتا اور کیا میں تیرے مُکالفوں سے بیزار نہیں ہوُں؟
22 مجھے اُن سے پوری عداوت ہے۔ میَں اُنکو اپنے دُشمن سمجھتا ہوں۔
23 اَے خُدا! تُو مجھے جانچ اور میرے دِل کو پہچان۔ مجھے آزما اور میرے خیالوں کوجان لے۔
24 اور دیکھ کہ مجھ میں کوئی بُری روِش تو نہیں اور مجھکو ابدی راہ میں لے چل۔